Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

وَجَلَّ کے خوف سے  حاصل ہوتی ہے اور یہی زہد کی حقیقت بھی ہے۔

سیِّدُنا علی المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کے اقوال: 

        امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی ہے: 

٭…  بے شک  بندہ ایک شے پا کر اس وقت تک خوش ہوتا رہتا ہے جب تک کہ اسے  کھو نہ دے اور اُسے  اس شے کا کھو جانا برا محسوس ہوتا رہتا ہے جب تک کہ اسے  پا نہ لے۔

 ٭…  دنیا پانے کے سبب بیحد فرحت و خوشی کا اظہار مت کرو اور دنیا چھن جانے کے سبب اس پر افسوس مت کرو بلکہ آگے بھیجے گئے اعمال پر خوش ہونا چاہئے اور اس بات پر افسوس کرنا چاہئے کہ اعمالِ صالحہ نہ کر سکا اور امورِ آخرت اور موت کے بعد کے معاملات سے  غافل رہا۔  ([1])

          امیر المومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے  مروی ہے:

 ٭…  خواہشِ نفس اندھے پن کی شریک ہوتی ہے۔    ٭…  توفیق یہ ہے کہ حیرت کے وقت بندہ ٹھہر جائے۔

٭…  غم کو دور کرنے والی سب سے  بہتر شے یقین ہے۔  ٭…  جھوٹ کا انجام مذمت ہے۔

 ٭…  سچائی میں   سلامتی ہے۔        ٭…  بسا اوقات دور دکھائی دینے والا قریب سے  بھی قریب تر ہوتا ہے۔

 ٭…  اجنبی وہ ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو۔

 ٭…  دوست وہ ہے جو عدم موجودگی میں   بھی دوستی کی تصدیق کرے۔

 ٭…  بد گمانی دوست سے  دور کر دیتی ہے۔          ٭…  کسی کی عزت کرنا کتنی بہترین عادت ہے۔

 ٭…  حیا ہر اچھے و نیک کام کا سبب ہے۔              ٭…  سب سے  مضبوط آڑ،   تقویٰ ہے۔

٭…  سب سے  مضبوط سبب جس سے  تم اپنے نفس پر قابو پا سکو وہ تعلق ہے جو تمہارے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان ہے۔

٭…  دنیا میں   تمہارا حصہ اسی قدر ہے جو تمہاری آخرت کے لئے بہتر ہو۔

٭…  رزق دو طرح کا ہوتا ہے: ایک وہ جس کی تلاش میں   تم ہو اور دوسرا وہ جو تمہاری تلاش میں   ہے ،   اگر تم اس کے پاس نہ آ سکو گے تو وہ تمہارے پاس خود ہی آ جائے گا۔

٭…  اگر تُو ضائع و برباد ہونے والی اپنی کسی شے پر جزع فزع کرتا ہے تو پھر اس شے پر ہر گز جزع فزع مت کر جو ابھی تک تجھے ملی نہیں  ۔

٭…  جو بِیت چکا اس سے  آنے والے معاملات پر استدلال کر کیونکہ امور ایک دوسرے سے  مشابہ ہوتے ہیں  ۔  ([2])

ہر شے کے لئے آفت ہے: 

        حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں   کہ ہر شے کے لئے ایک آفت ہے۔ چنانچہ،   

٭… علم کی آفت بھول جانا                            ٭… عبادت کی آفت سستی و کاہلی

٭… عقل کی آفت خود پسندی                      ٭… دانائی کی آفت شیخی و بے جا تعریف

٭… تجارت کی آفت جھوٹ                                       ٭… سخاوت کی آفت فضول خرچی

٭… خوبصورتی کی آفت تکبر و بڑائی اور اِترانا     ٭… دین کی آفت ریاکاری

٭… اور اسلام کی آفت خواہشِ نفسانیہ ہے۔  ([3])

            رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’میری امت کی آفت درہم و دینار ہیں  ۔ ‘‘  ([4])

سونے چاندی سے  زیادہ خوبصورت 5باتیں  : 

        حضرت سیِّدُنا مجاہد عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں   کہ مجھے حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے پانچ ایسی وصیتیں   فرمائیں   جو سونے اور چاندی سے  زیادہ خوبصورت ہیں  :

 (1) … لایعنی معاملہ میں   ہر گز گفتگو نہ کرنا کہ یہی سلامتی کے زیادہ قریب ہے اور خطا و لغزش سے  بے خوف مت ہونا۔

 (2) … اپنی ضرورت کے معاملہ میں   بھی موقع محل دیکھے بغیر ہر گز گفتگو مت کرنا کہ بسا اوقات اپنے فائدے کے معاملے میں   موقع و محل کا خیال کئے بغیر گفتگو کرنے والا بھی شرمسار ہو جاتا ہے ۔

 (3) … کسی بردبار سے  بحث مباحثہ کرنا نہ کسی بے وقوف سے  کہ برد بار شخص تجھے خوب تڑپائے گا اور بے وقوف اذیت پہنچائے گا ۔

 



[1]     العقد الفرید لابن عبد ربہ الاندلسی، کتاب الزمردۃ فی المواعظ و الزھد، لابن عباس فی کلام لعلی، ج۳، ص۸۴

[2]     جمع الجوامع، مسند علی بن ابی طالب، الحدیث: ۷۳۴۲، ج۱۳، ص۳۰۷

[3]     سنن الدارمی، المقدمۃ، باب مذاکرۃ العلم، الحدیث: ۶۲۳، ج۱، ص۱۵۸۔ المعجم الکبیر، الحدیث: ۲۶۸۸، ج۳، ص۶۹ عن علی مختصراً

[4]     الفردوس بما ثور الخطاب، باب الالف،الحدیث: ۶۱۴، ج۱، ص۱۰۱



Total Pages: 332

Go To