Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

پاس بیٹھی اور پھر دونوں   لوگوں   کی غیبت کرنے لگیں  ،   پس یہ لوگوں   کا وہی گوشت ہے جو انہوں  نے کھایا تھا۔‘‘   ([1])

متقین کے ذرّہ برابر عمل کا ثواب: 

            حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے کہ عقل مند لوگوں   کا رات کو سوتے رہنا اور دن کو روزہ نہ رکھنا کیا خوب ہے اور بے وقوف لوگوں   کا دن کو روزہ رکھنا اور رات بھر جاگ کر عبادت کرنا کتنا معیوب ہے مگر اہلِ یقین اور متقین کا ایک ذرّہ برابر عمل خود فریبی میں   مبتلا افراد کی پہاڑوں   کی مثل عبادت سے  بہتر و افضل ہے۔  ([2])

جو بات کرنا منع ہے اسے  سننا بھی منع ہے: 

            ہر وہ بات جس کا منہ سے  نکالنا منع ہے اسے  سننا بھی منع ہے اور ہر وہ فعل جس کا کرنا حرام ہے اس کی جانب دیکھنا یا اس کا خیال بھی دل میں   آنا مکروہ ہے۔ چنانچہ،  اللہ عَزَّ وَجَلَّنے سننے اور کہنے والے دونوں   کو ہم پلہ قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

 اِنَّكُمْ اِذًا مِّثْلُهُمْؕ- (پ۵،  النسآء:  ۱۴۰)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ورنہ تم بھی انہیں   جیسے  ہو۔

روزہ دار اور توبہ: 

            روزہ دار کی مثال توبہ جیسی ہے کیونکہ صبر توبہ کی صفت ہے اور توبہ روزہ دار کے اپنی سابقہ بری عادات پر صبر کرنے کے سبب اس کے گزشتہ گناہوں   کا کفارہ بن جاتی ہے،   پھر روزہ دار برے کاموں   کے راستوں   یعنی اپنے اعضاء کی حفاظت کر کے گزشتہ گناہوں   کی جانب واپس نہ لوٹنے کا پختہ ارادہ کر لیتا ہے۔

آگ سے  ڈھال: 

            روزہ آگ سے  ڈھال اور نیک لوگوں   کے درجات تک رسائی کا سبب ہے۔ جب روزہ دار روزے پر صبر کرتا ہے تو اپنے اعضا ءکو گناہوں   سے  بچاتا ہے مگر جب وہ اپنے اعضاء کو گناہوں   میں   خوب مگن کر دے تو اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو بار بار توبہ کر کے توڑ دیتا ہے۔ پس اس کی توبہ،   توبہ نصوح ([3]) نہیں   ہے اور نہ ہی اس کا یہ روزہ صحیح ہے،   کیا آپ کی نظروں   سے  رسولِ بے مثال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانِ عالیشان نہیں   گزرا کہ’’روزہ آگ کے سامنے ایک ڈھال ہے جب تک کہ اسے  جھوٹ یا غیبت کے ذریعے پھاڑا نہ جائے۔‘‘   ([4])

میں   روزہ دار ہوں  : 

            سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ نصیحت نشان ہے: ’’جب تم میں   سے  کوئی روزہ دار ہو تو بے حیائی کی بات کرے نہ جہالت کی ([5]) اور اگر کوئی اسے  گالی گلوچ کرے تو بس اتنا کہہ دے میں   روزہ دار ہوں۔‘‘([6])

            ایک روایت میں   ہے کہ’’کوئی شخص اپنے روزے کے دن کو اور افطار کے دن کو مساوی نہ رہنے دے۔ ‘‘   ([7]) یعنی وہ روزے کی حرمت کی وجہ سے  اس کی حفاظت کرے۔

روزہ ایک امانت ہے: 

            حُسنِ اَخلاق کے پیکر،   مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’روزہ ایک امانت ہے اس لئے ہر ایک کو اپنی امانت کی حفاظت کرنی چاہئے۔ ‘‘   ([8])

            امانت کی حفاظت اعضاء کو گناہوں   سے  بچانے سے  ہوتی ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ جب تاجدارِ رِسالت،   شہنشاہِ نُبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آیتِ مبارکہ  (اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-  (پ۵،  النسآء:  ۵۸) )   ([9]) تلاوت فرمائی تو اس کے ساتھ ہی اپنا دستِ اقدس کان اور آنکھوں   پر رکھ کر ارشاد فرمایا: ’’کان اور آنکھ بھی امانت ہیں  ۔ ‘‘  ([10])  اس لئے روزہ دار کو  (گالی گلوچ کے جواب میں  )  یہ کہنا جائز ہے کہ’’ میں   روزہ دار ہوں  ۔ ‘‘  یعنی وہ اس امانت کا تذکرہ کرے جو اسنے اٹھا رکھی ہے اور وہ اس کے اہل کو وہ



[1]     المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عبید مولی النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۲۳۷۱۴، ج۹، ص۱۶۵

[2]     موسوعۃ لابن ابی الدنیا، کتاب الیقین، الحدیث: ۸، ج۱، ص۲۳

[3]     صدر الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی خزائن العرفان میں سورۂ تحریم کی آیت نمبر 8 میں توبۂ نصوح کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں، اس سے مراد ہے: توبۂ صادقہ جس کا اثر توبہ کرنے والے کے اعمال میں ظاہر ہو اور اس کی زندگی طاعتوں اور عبادتوں سے معمور ہوجائے اور وہ گناہوں سے مجتنب رہے حضرت سیِّدُنا عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اور دوسرے اصحابنے فرمایا تو بۂ نصوح وہ ہے کہ توبہ کے بعد آدمی پھر گناہ کی طرف نہ لوٹے جیسا کہ نکلا ہوا دودھ پھر تھن میں واپس نہیں ہوتا۔

[4]     سنن النسائی، کتاب الصیام، باب ذکر الاختلاف علی محمد بن ابی یعقوب   الخ، الحدیث: ۲۲۳۶ / ۲۲۳۷، ص۲۲۳۳

                                                المعجم الاوسط ، الحدیث: ۴۵۳۶، ج۳، ص۲۶۴

[5]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1548 صَفحات پر مشتمل کتاب،’’ فیضانِ سنّت ‘‘ جلد اوّل کے صَفْحَہ 968 پر ہے: مطلب یہ کہ روزہ دار کو چاہئے کہ وہ روزے میں جہاں کھانا پینا چھوڑ دیتا ہے، وہاں جھوٹ، غیبت، چغلی، بدگمانی، الزام تراشی اور بدزبانی وغیرہ گناہ بھی چھوڑ دے۔   

[6]     سنن ابی داود، کتاب الصیام، باب الغیبۃ للصائم، الحدیث: ۲۳۶۳، ص۱۳۹۸

[7]     الزھد لابن المبارک، باب فضل ذکر اللہ، الحدیث: ۱۳۰۸، ص۴۶۱

[8]     المعجم الکبیر، الحدیث: ۱۰۵۲۷، ج۱۰، ص۲۱۹

[9]     ترجمۂ کنز الایمان: بے شک  اللہتمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کرو۔

[10]     الدر المنثور،پ۵، النساء، تحت الایۃ۵۸،ج۲،ص۵۷۳



Total Pages: 332

Go To