Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

        اہلِ مدینہ کبھی کسی سے ناراض ہوتے تو اسے  صرف یہ کہا کرتے کہ تو اس شخص سے  بھی برا ہے جو جمعہ کے دن غسل نہیں   کرتا۔  ([1])

            ایک مرتبہ امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ خطبہ دے رہے تھے کہ امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مسجد میں   تشریف لائے تو آپ نے ان سے  فرمایا: ’’کیا یہ آنے کا وقت ہے؟ ‘‘  تو امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ’’اذان سننے کے بعد میں  نے صرف وضو کیا اور چلا آیا۔ ‘‘  تو امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:  ’’ کیا صرف وضو؟ حالانکہ آپ جانتے ہیں   کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ہمیں   غسل کا حکم دیا کرتے تھے۔ ‘‘   ([2])

         (صاحبِ کتاب حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں   کہ)  امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے غسل نہ کرنے اور صرف وضو کرنے سے  معلوم ہوا کہ ایسا کرنا بھی جائز ہے،   اس کی تائید سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان سے  بھی ہوتی ہے:  ’’ جو جمعہ کے دن وضو کرے تو بھی ٹھیک ہے اور اچھا ہے اور جو غسل کرے تو غسل افضل ہے۔ ‘‘   ([3])

        صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے  مروی ہے کہ ہمیں   گرمیوں   میں   جمعہ کے دن غسل کرنے کا حکم دیا گیا لیکن جب موسمِ سرما آیا تو جو چاہتا غسل کرتا اور جو چاہتا نہ کرتا۔  ([4])

        سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’مردوں   اور عورتوں   میں   سے  جو بھی نمازِ جمعہ پڑھنے آئے اسے  چاہئے کہ غسل کر لے۔ ‘‘  ([5])

        حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں   کہ عورتیں   جب جمعہ کو مسجد میں   حاضر ہوں   تو غسل کر لیا کریں  ۔  ([6])

        جو شخص جمعہ کے دن غسلِ جنابت کرے اس کے لئے یہ جمعہ کا بھی غسل ہو گا بشرطیکہ وہ اسی میں   غسلِ جمعہ کی بھی نیت کر لے،   غسلِ جنابت میں   جمعہ کی نیت کا ہونا ضروری ہے کہ یہی افضل ہے اور جمعہ کا غسل غسلِ جنابت میں   ہی شامل ہو گا،   یعنی جب غسلِ جنابت کے بعد جمعہ کے لئے دوبارہ جسم پر پانی بہائے تو یہ افضل ہے۔

        ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جمعہ کے دن اپنے بیٹے کے پاس گئے،   وہ غسل کر رہا تھا تو اس سے  پوچھا: ’’کیا یہ جمعہ کا غسل ہے؟ ‘‘  اسنے عرض کی: ’’نہیں   بلکہ یہ غسلِ جنابت ہے۔ ‘‘  تو انہوں  نے فرمایا: ’’دوبارہ غسل کرو کیونکہ میں  نے حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ’’ ہر مسلمان پر جمعہ کے دن غسل کرنا لازم  (یعنی سنت)  ہے۔ ‘‘   ([7])

        جو غسلِ جمعہ طلوعِ فجر کے بعد کر لے تو یہ بھی کافی ہے لیکن افضل یہ ہے کہ جامع مسجد جاتے وقت غسل کیا جائے اور مزید پسندیدہ بات یہ ہے کہ غسل کے بعد نمازِ جمعہ سے  فارغ ہونے تک نئے سرے سے  وضو نہ کیا جائے کہ بعض علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اسے  ناپسند کیا ہے۔ صبح سویرے جامع مسجد چلا جائے اور وقت کے طویل ہونے کی وجہ سے  اگر کسی سبب سے  بے وضو ہو جائے تو وضو کرنے میں   کوئی حرج نہیں  وہ اب بھی غسلِ جمعہ پر ہی ہے۔

جمعہ کے دن مستحب امور: 

         (۱)  مسواک کرنا اور  (۲)  اچھے کپڑے پہننا مستحب ہے،   لیکن لباسِ شہرت سے  اجتناب کرے اور افضل یہ ہے کہ سفید لباس زیبِ تن کرے یا پھر دو یمنی چادریں   اوڑھے،   جمعہ کے دن کالا لباس پہننا نہ تو سنت ہے اور نہ ہی اس میں   کوئی فضیلت ہے کہ ایسا لباس پہننے والے کو لوگ دیکھتے رہتے ہیں    (۳)  مونچھیں   چھوٹی کرنا بھی مستحب ہے کہ ان کی فضیلت صاحب ِجُودو نوال،   رسولِ بے مثالصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فعل اور حکم سے  ثابت ہے اور  (۴)  ناخن کاٹنا بھی مستحب ہے۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور دوسرے کئی صحابۂ  کرام رِضْوَانُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے  مروی ہے کہ ’’جو جمعہ کے دن اپنے ناخن کاٹے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سے  ہر قسم کی بیماری نکال دیتا ہے اور ان میں   شفا داخل فرما دیتا ہے۔“ ([8])

         (۵)  ایسی عمدہ خوشبو لگانا بھی مستحب ہے جس کی بو ظاہر اور رنگ مخفی ہو کیونکہ مردوں   کے لئے ایسی ہی خوشبو عمدہ ہوتی ہے اور عورتوں   کے لئے عمدہ خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر اور بو مخفی ہو۔

             (۶)  جمعہ کے دن عمامہ پہننا بھی مستحب ہے،   جيسا كہ مروی ہے کہ ’’بے شک  اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے فرشتے جمعہ کے دن عمامے والوں   پر درود بھیجتے ہیں  ۔ ‘‘   ([9])

        اگر کسی کو گرمی ستائے تو نماز سے  پہلے اور بعد میں   عمامہ اتارنے میں   کوئی حرج نہیں   لیکن جب گھر سے  نمازِ جمعہ کے لئے جامع مسجد کی طرف جا رہا ہو تو اس کے سر پر عمامہ بندھا ہو،   جب نماز پڑھے تو بھی عمامہ پہنے ہوئے ہو تا کہ عمامہ کی فضیلت حاصل ہو سکے۔ اگر اسے  اتار دیا تھا تو امام کے منبر پر چڑھنے کے وقت دوبارہ پہن لے،   پھر اسے  پہننے کی حالت میں   نماز



[1]     المصنف لابنِ ابی شیبۃ، کتاب الجمعۃ، باب فضل الغسل یوم الجمعۃ، الحدیث: ۲۱، ج۲، ص۵مفھوماً

[2]     صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، باب فضل الغسل یوم الجمعۃ   الخ، الحدیث: ۸۷۸، ص۶۹ مفھوماً

[3]     جامع الترمذی، ابواب الجمعۃ، باب ما جاء فی الوضوء یوم الجمعۃ، الحدیث:۴۹۷، ص۱۶۹۳

[4]     السنن الکبریٰ للبیھقی، کتاب الطھارۃ، باب الدلالۃ علی ان الغسل یوم الجمعۃ سنۃ اختیار، الحدیث: ۱۴۱۵، ج۱، ص۴۴۳

[5]     السنن الکبریٰ للبیھقی، کتاب الجمعۃ، باب السنۃ لمن اراد الجمعۃ ان یغتسل، الحدیث:۵۶۶۰، ج۳، ص۲۶۷

[6]     المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الجمعۃ، باب فی النساء یغتسلن یوم الجمعۃ، الحدیث: ۱، ج۲، ص۹ قول ابن عمر

[7]     المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الجمعۃ، باب الرجل یغتسل للجنابۃ یوم الجمعۃ، الحدیث: ۳، ج۲، ص۱۰

[8]     المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الجمعۃ، باب فی تنقیۃ الاظفاروغیرھا یوم الجمعۃ، الحدیث: ۲، ج۲، ص۶۵

[9]     الکامل فی ضعفاء الرجال لابن عدی، الرقم ۱۸۰ ایوب بن مدرک الحنفی، ج۲، ص۵



Total Pages: 332

Go To