Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

ادا کرتے ہیں  ۔  ([1])

 (2) … حضورنبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  رات کے وقت تین صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے پاس سے  گزرے،   ان میں   سے  ہر ایک کی  (قرآنِ کریم پڑھنے کی)  حالت مختلف تھی،   ان میں   سے  پست آواز سے  قراء ت کرنے والے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے،   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کے متعلق دریافت فرمایاتو انہوں  نے عرض کی:  ’’میں   جس سے  مناجات کرتا ہوں   وہ مجھے سنتا ہے۔ ‘‘  اور بلند آواز سے  پڑھنےوالے امیر المومنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے،   جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں  نے عرض کی:  ’’ میں   سوئے ہوئے لوگوں   کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں  ۔ ‘‘  ان میں   سے  تیسرے جو کچھ آیات ایک سورت سے  تو کچھ دوسری سورت سے  پڑھ رہے تھے وہ حضرت سیِّدُنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ تھے،   جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان سے  وجہ پوچھی تو انہوں  نے عرض کی:  ’’ میں   پاک کو پاک سے  ملاتا ہوں  ۔ ‘‘  پس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:  ’’ تم میں   سے  ہر ایکنے اچھا اور درست کیا۔‘‘([2])

سری  (پست آواز سے )  قراء ت افضل ہے یا جہری  (بلند آواز سے )  ؟

            قراء تِ خفی افضل ہے۔  ([3])   اگر بندے کی جہر میں   نیت درست ہو تو پھر جہری قراءت افضل ہے۔ لیکن جہری قراء ت سے  کسی دوسرے کام میں   مشغول ہو کر ربّ عَزَّ وَجَلَّسے  تعلق ختم کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو تو سری قراء ت افضل ہے کیونکہ سری قراء ت سلامتی کے زیادہ قریب اور کسی آفت میں   مبتلا ہونے سے  حد درجہ دور ہے اور جہری قراء ت اس بندے کے لئے افضل ہے جس کی بلند آواز سے  پڑھنے میں   نیت درست ہو اور اس کا اپنے ربّ عَزَّ وَجَلَّسے  تعلق بھی برقرار رہے کیونکہ اسنے رات کی نماز میں   قراء ت کی سنت پر عمل کیا ہے۔

                اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سری قراء ت سے  صرف اپنی ذات کو فائدہ ہوتا ہے جبکہ جہری قراء ت سے  دوسروں   کو بھی فائدہ ہوتا ہے اور بہتر لوگ وہی ہوتے ہیں   جو دوسروں   کو نفع پہنچاتے ہیں   اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کلام کا نفع سب سے  زیادہ ہے۔ نیز اس وجہ سے  بھی جہری قراء ت افضل ہے کہ بندہ دوہرا عمل کرتا ہے اور اپنے پہلے عمل پر دوہری عبادت کے ثواب کی امید رکھتا ہے،   پس اس اعتبار سے  بھی یہ افضل ہے۔

قراء ت کی ابتدا و انتہا کا طریقہ: 

            قراء ت شروع کرنے سے  پہلے یہ پڑھنا چاہئے:  (اَعُوْذُ بِاللّٰہِ السَّمِیْعِ الْعَلِیْمِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔ رَبِّ اَعُوْذُبِكَ مِنْ ھَمَزَاتِ الشَّیاطِیْنِ وَ اَعُوْذُبِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ)   

تر جمعہ : سننے اور جاننے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی میں   پناہ مانگتا ہوں   شیطان مردود سے ۔ اے میرے پَرْوَرْدگار عَزَّ وَجَلَّ! میں   تیری پناہ طلب کرتا ہوں   شیطانوں   کے وسوسوں   سے  اور میں   تیری پناہ طلب کرتا ہوں   میرے رب عَزَّ وَجَلَّ! اس بات سے  کہ وہ میرے پاس آئیں  ۔

             (قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِۙ )  سورت بھی پڑھ لینا چاہئے لیکن اس سے  بھی پہلے الحمد شریف پڑھنا چاہئے اور پھر کسی بھی سورت کے پڑھنے سے  فارغ ہونے کے بعد یہ کہنا چاہئے:  (صَدَقَ اللّٰہُ،   وَبَلَّغَ رَسُوْلُ اللّٰہِ،   اَللّٰہُمَّ انْفَعْنَا بِہٖ،   وَبَارِكْ لَنَا فِیْہٖ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعالمیْنَ،   اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الْحَیَّ الْقَیُّوْمَ)  

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّنے سچ فرمایا اور نبی ٔمُکَرَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہم تک پہنچایا،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! ہمیں   اس سے  نفع دے اور اس میں   ہمارے لئے برکت ڈال،   تمام تعریفیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لئے ہیں   جو تمام جہانوں   کا پالنے والا ہے،   مَیں   بخشش چاہتا ہوں   اللہ عَزَّ وَجَلَّسے  جو آپ زندہ،   دوسروں   کو قائم رکھنے والاہے۔

            جس نے اپنے اعضاء اور دل کو منہیات سے  بچایا گویا اسنے پورے قرآنِ کریم پر یعنی ابتدا سے  لے کر انتہا تک سب پر عمل کیا کیونکہ یہ بندے کے مکمل اعضاء و جوارح سے  انصاف کرنے والا ہے۔

جہری قراء ت کی سات نیتیں  : 

            جہری قراء ت میں   بہتر یہ ہے کہ درج ذیل سات نیتیں   کر لی جائیں  :

 (۱) … ترتیل سے  پڑھے گا کہ جس کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

 (۲) … حسنِ صوت کا لحاظ رکھے گا کہ قرآن کریم کو اچھی آواز کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے ۔ جیسا کہ سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ قرآنِ کریم کو اپنی آوازوں   سے  مزین کرو۔ ‘‘  ([4]) اور ایک روایت میں   یہ ارشاد فرمایا:  ’’ جو خوش الحانی سے  قرآنِ کریم نہ پڑھے وہ ہم میں   سے  نہیں  ۔  ‘‘  ([5])

 (۳) … اپنے کانوں   کو اپنی آواز سنائے گا اور دل کو بیدار رکھے گا تا کہ کلام میں   غور و فکر کر سکے اور اس کے معانی سمجھ سکے اور ایسا صرف جہری قراء ت میں   ہی ہو سکتا ہے۔

 (۴) … شیطان اور نیند کو بلند آواز سے  پڑھتے ہوئے خود سے  دور رکھے گا۔

 (۵) … جہری قراء ت سے  امید رکھے گا کہ سونے والا بیدار ہو جائے گا۔  ([6])   پس اگر اسنے  (بیدار ہو کر)  اللہ عَزَّ وَجَلَّکا ذکر کیاتو جہری قراء ت کرنے والا ہی اس کی شب بیداری کا باعث ہو



[1]     البحر الزخار بمسند البزار، مسند معاذ بن جبل، الحدیث: ۲۶۵۵، ج۷، ص۹۷

[2]     سنن ابی داود، کتاب التطوع، باب رفع الصوت بالقراء ۃ فی صلاۃ اللیل، الحدیث: ۱۳۲۹ / ۱۳۳۰، ص۱۳۲۱المصنف لعبدالرزاق، کتاب الصلاۃ، باب قراء ۃ اللیل، الحدیث :۴۲۲۹، ج۲، ص۳۲۸

[3]     دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 1250 صَفحات پر مشتمل کتاب، ’’بہارِ شریعت‘‘ جلد اوّل صَفْحَہ 545 پر صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: دن کے نوافل میں آہستہ پڑھنا واجب ہے اور رات کے نوافل میں اختیار ہے اگر تنہا پڑھے اور جماعت سے رات کے نفل پڑھے تو جہر واجب ہے۔

[4]     سنن ابی داود، کتاب الوتر، باب کیف یستحب الترتیل، الحدیث: ۱۴۶۸، ص۱۳۳۲

[5]     صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب قول اللہ تعالی واسروا     الخ ، الحدیث: ۷۵۲۷، ص۶۲۸

[6]     قرآنِ مجید بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے جب کہ کسی نمازی یا مریض یا سوتے کو ایذا نہ پہنچے۔ (بہارِشریعت، ج۱، ص ۴۴۳)



Total Pages: 332

Go To