Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا انتقال ۳۴۶ھ میں   ہوا،   لہٰذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شیخ عبد الصمد بن علی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَلِی کے وِصال الی الحق سے  پہلے حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی بغداد میں   تھے۔

شیوخ: 

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے شیوخ پر نظر ڈالنے سے  معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے شیوخ میں   فقیہ بھی تھے،   محدث بھی اور صوفی بھی۔ یہی وجہ ہے کہ قوت القلوب میں   آپ کے ان تمام شیوخ کی تھوڑی بہت جھلک ضرور نظر آتی ہے۔ آپ کے شیوخ میں   بلند پایہ مقام رکھنے والے چند شیوخ یہ ہیں  :

 (1)  عبد اللہ بن جعفر بن فارس  (2)  ابو بکر آجُرِی  (3)  ابو زید مَرْوَزِی  (4)  ابو بکر بن خلاد نُصَیۡبِی۔

حضرت سیِّدُنا ابن فارس رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (متوفی ۳۴۶ھ)  اصفہان کے محدث تھے اور حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے ان سے  روایتِ حدیث کی اجازت بھی حاصل کی۔

حضرت سیِّدُنا ابو بکر آجُرِی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی  (متوفی ۳۶۰ھ)  بغداد سے  ہجرت کر کے مکہ مکرمہ میں   آ بسے  تھے اور حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کی ان سے  ملاقات مکہ مکرمہ ہی میں   ہوئی۔ چنانچہ ان کی مکہ مکرمہ میں   آمد کے متعلق لکھتے ہوئے حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی قوت القلوب میں   فرماتے ہیں  : یہ مکہ مکرمہ میں   ہمارے پاس۳۳۰  ھ میں   تشریف لائے۔ حضرت سیِّدُنا ابو بکر آجری رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شمار حدیث کے قابل اعتمادراویوں   اور حفاظِ حدیث میں   ہوتا ہے۔ اور اعلام للزِرکلی میں   آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ذکر فَقِيْهٌ شَافِعِیٌّ مُحَدِّثٌ کے القابات سے  ملتا ہے۔

حضرت سیِّدُنا ابو زید مَرْوَزِی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (متوفی ۳۷۱ھ)  کا شمار جید شافعی فقہائے کرام میں   ہوتا ہے،   آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو صحیح بخاری کی روایت کا شرف حاصل تھا چنانچہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے  بخاری شریف کے بعض حصوں   کو روایت کرنے کی اجازت حاصل کی۔

حضرت سیِّدُنا ابو بکر بن خلاد نصیبی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  (متوفی ۳۵۹ھ)  بھی ایک ثقہ محدث تھے جن سے  امام دار قطنی اور امام ابو نعیم وغیرہنے بھی احادیث روایت کی ہیں  ۔

            حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے ان شیوخ کی تربیت کا اثر آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کتاب قوت القلوب میں   واضح طور پر نظر آتا ہے۔

اب آئیے یہ جانتے ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے راہِ طریقت کی منزلیں   طے کرنے کے لیے کس شیخ کا دامن تھاما۔ چونکہ مرورِ زمانہ کے ساتھ صوفیوں   کے اسلوبِ طریقت میں   بھی نمایاں   تبدیلیاں   پیدا ہوئیں  ۔ لہٰذا پہلے حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے دور میں   رائج مختلف اسالیبِ طریقت کو جاننا بہت ضروری ہے۔

اَسالیبِ طریقت

            حضرت سید علی بن عثمان جلابی المعروف حضور داتا گنج بخش ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے اپنی شہرۂ آفاق کتاب کَشْفُ الْمَحْجُوب میں   صوفیوں   کے جن 12 گروہوں   کا تذکرہ فرمایا ہے،   وہ سب تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں   پیدا ہوئے۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ صوفیوں  کے بارہ گروہوں   میں   سے  دو گروہ مردود اور دس مقبول ہیں  ۔ ان مقبول گروہوں   میں   ایک گروہ محاسبیوں   کا،   دوسرا قصاریوں   کا،   تیسرا طیفوریوں   کا،   چوتھا جنیدیوں   کا،   پانچواں   نوریوں   کا،   چھٹا سہیلیوں   کا،   ساتواں   حکیموں   کا،   آٹھواں   حرازیوں   کا،   نواں   خفیفیوں   کا اور دسواں   ستاریوں   کا ہے۔ یہ دسوں   گروہ محقق اور اہل سنت و جماعت ہیں   لیکن وہ دو گروہ جو مردود ہیں   ان میں   سے  ایک حلولیوں   کا جو حلول وامتزاج سے  منسوب ہے اور سالمی اور مشبہ ان سے  تعلق رکھتے ہیں   اور دوسرا گروہ حلاجیوں   کا ہے جو ترک شریعت کے قائل ہیں  ،   انہوں  نے الحاد کی راہ اختیار کی جس سے  وہ ملحد و بے دین ہو گئے،   اباحتی و فارسی گروہ بھی ان ہی سے  متعلق ہیں  ۔

 (1) مُحَاسبیہ : 

اس گروہ کے پیشوا حضرت سیِّدُنا ابو عبد اللہ حارث بن اسد محاسبی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی  (متوفی ۲۴۳ھ)  ہیں  ۔ آپ کے مذہب کی خصوصیت یہ ہے کہ آپ رضائے الٰہی کو مقام کے بجائے طریقت کا ایک حال سمجھتے تھے۔ چنانچہ آپ فرمایا کرتے تھے کہ رضا احکامِ الٰہی کے نفاذ پر دل کے مطمئن رہنے کا نام ہے اور دل کا سکون و اطمینان اختیاری عمل نہیں   بلکہ وہبی و عطائی ہے۔ اور یہی اس بات کی دلیل ہے کہ رضا ایک مقام نہیں   بلکہ حال ہے کیونکہ یہ مجاہدے و ریاضت کے ذریعہ حاصل نہیں   کیا جا سکتا بلکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسے  چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔

 (2) قِصَاریہ : 

اس گروہ کے پیشوا حضرت سیِّدُنا ابو صالح بن حمدون بن احمد بن عمارہ قصار عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْسَتَّار  (متوفی ۲۷۱ھ)  ہیں  ،   ان کا مسلک و مشرب ملامت  ([1]) کی نشر و اشاعت ہے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرمایا کرتے کہ لوگوں   کو جتانے کے مقابلہ میں   تمہارا علم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےمتعلق بہت بہتر سے  بہتر ہونا چاہیے،   یعنی خلوت میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ تمہارا معاملہ اس سے  بہتر ہونا چاہیے جو تم لوگوں   کے ساتھ ظاہر میں   کرتے ہو کیونکہ راہِ حق میں   سب سے  بڑا حجاب یہ ہے کہ تمہارا دل لوگوں   کے ساتھ مشغول ہو۔

 



[1]    ملامت سے مراد اپنے نفس کو برا بھلا کہنا ہے۔ اس کی تین قسمیں  ہیں : (۱) بندہ احکامِ الٰہی بجا لانے میں  کامل احتیاط برتتا ہے لیکن لوگ اپنی عادت کے مطابق پھر بھی اسے برا بھلا کہتے ہیں  مگر وہ ان کی ملامت کی پروا نہیں  کرتا (۲) بندہ اپنے ربّ کی یاد میں  رکاوٹ بننے والے لوگوں  سے چھٹکارا پانے کے لیے جان بوجھ کر کوئی ایسی راہ اختیار کرے کہ لوگ اسے ملامت کریں  اور اس سے متنفر ہو کر جدا ہو جائیں  اور ایسے عمل سے شریعت میں  بھی کوئی خلل واقع نہ ہو اور (۳) بظاہر شریعت کا تابع فرمان نہ ہو تا کہ لوگ اسے برا بھلا کہیں  اور اس کی حقیقت سے دور رہیں  مگر باطن میں  مضبوط دیندار ہو۔ (کشف المحجوب، ص۶۰)  



Total Pages: 332

Go To