Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

                         (6) … ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا ام حبیبہ بنت ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا

                         (7)  ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا زینب بنت جحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا

                         (8)  ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا زینب بنت خزیمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا

                         (9)   ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا میمونہ بنت حارث بن حزن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا

                         (10) … ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا جویریہ بنت حارث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا

                         (11) … ام المومنین حضرت سَیِّدَتُنا صفیہ بنت حُيَیّ بن اَخطب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا  (المواھب اللدنیہ ،   مع شرح الزرقانی،   باب ازواجہ الطاھرات الخ ،   ج ۴،   ص۳۵۹ تا ۳۶۲)

فصل:  18

غافلین کے ناپسندیدہ اوصاف کا بیان

            جب تلاوت کرنے والا ان اوصاف کی مخالفت کرے جن کا تذکرہ گزشتہ فصل میں   ہوا ہے یا ان کے برعکس کوئی کام کرے تو وہ سہو و غفلت کا شکار ہے اور اندھا و حیران ہے،   اپنے نفس کی جانب متوجہ اور خواہشاتِ نفسانیہ اور اپنے دشمن  (یعنی شیطان)  کے وسوسوں   کو بغور سننے والا ہے،   وہم وگمان میں   مبتلا ہے،   جھوٹی امیدوں   کے در پر کھڑا ہے اور اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمان صادق آتا ہے:

وَ مِنْهُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ الْكِتٰبَ اِلَّاۤ اَمَانِیَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ (۷۸)  (پ۱،  البقرۃ:  ۷۸)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ان میں   کچھ اَن پڑھ ہیں   کہ جو کتاب کو نہیں   جانتے مگر زبانی پڑھ لینا یا کچھ اپنی من گھڑت اور وہ نرے گمان میں   ہیں  ۔

            اس سے  مراد یہ ہے کہ وہ صرف قرآنِ کریم کی تلاوت کرنا جانتے ہیں  ۔ پھر ارشاد فرمایا:

اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَّ مَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ (۳۲)  (پ۲۵،  الجاثیۃ:  ۳۲)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہمیں   تو یونہی کچھ گمان سا ہوتا ہے اور ہمیں   یقین نہیں  ۔

            ایک جگہ ارشاد فرمایا:  

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ (۱۰۵)  (پ۱۳،  یوسف:  ۱۰۵)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور کتنی نشانیاں   ہیں   آسمانوں   اور زمین میں   کہ لوگ ان پر گزرتے ہیں   اور ان سے  بے خبر رہتے ہیں ۔

            پس قرآنِ کریم زمین و آسمان کی نشانیوں   میں   سے  ایک ایسی نشانی ہے،   جو زمین و آسمان کے پیدا کرنے والے اور قرآنِ کریم کے نازل کرنے والے پر دلیل ہے۔ غافلین کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے انہیں   اس بات سے  ڈرایا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ جانتا ہے کہ وہ اس کے کلام کو ہلکا جانتے ہیں   اور آپس میں   سرگوشیاں   کرتے ہوئے سنتے ہیں  ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى (پ۱۵،  بنی إسرائیل:  ۴۷)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ہم خوب جانتے ہیں   جس لئے وہ سنتے ہیں   جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں   اور جب آپس میں   مشورہ کرتے ہیں  ۔

            اسی کی مثل وہ شخص بھی ہے جو قرآنِ کریم تو سنے مگر اس کا دل آیاتِ بینات کی تلاوت سننے کے بجائے نقصان دہ امور میں   مشغول ہو کر نفع بخش امور سے  غافل ہو جائے یہاں   تک کہ جب کلام ختم ہو اور وہاں   دل سے  حاضر کوئی شخص اس سے  پوچھے کہ اسنے خطاب سے  کیا سمجھا؟ تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ جسمانی طور پر تو موجود تھا مگر ذہنی طور پر وہاں   سے  غائب تھا،   پس اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ ارشادحجت ہے:

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَۚ-حَتّٰۤى اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِكَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَا ذَا قَالَ اٰنِفًا- (پ۲۶،  محمد:  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: اور ان میں   سے  بعض تمہارے ارشاد سنتے ہیں   یہاں   تک کہ جب تمہارے پاس سے  نکل کر جائیں   علم والوں   سے  کہتے ہیں   ابھی انہوں  نے کیا فرمایا۔

            اس کے بعد ارشا د فرمایا:

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ (پ۲۶،  محمد:  ۱۶)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: یہ ہیں   وہ جن کے دلوں   پر اللہنے مُہر کر دی۔

            مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے دلوں   پر مہر لگا دی ہے اب وہ اس کا خطاب نہیں   سمجھ سکتے۔ ان کے دلوں  نے نہ تو خطاب سنا اور نہ ہی اس کی پروا کی بلکہ اپنی خواہشات یعنی اپنے جھوٹے و من گھڑت خیالات کی پیروی کی۔

            منقول ہے کہ بندہ جب قرآنِ کریم کی تلاوت کرتا ہے اور اس پر ثابت قدم رہتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی جانب نظر رحمت فرماتا ہے اور جب قرآنِ کریم کی تلاوت دوسرے کاموں   میں   مشغول رہتے ہوئے کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  ندا دیتا ہے: ’’ تیرا اور میرے کلام کا کیا تعلق؟ جبکہ تو مجھ سے  اعراض کرنے والا ہے،   پس اگر تونے میری بارگاہ میں   توبہ نہ کی تو میرے کلام کو بھی چھوڑ دے۔ ‘‘

            منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اپنے نبی حضرت سیِّدُنا موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور حضرت سیِّدُنا داود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جانب وحی فرمائی: ’’بنی اسرائیل کے گناہگاروں   کو حکم دو



Total Pages: 332

Go To