Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی روح مبارک اس میں   حلول کر گئی ہے،   اس کی بیوی بھی اس سے  کسی طرح پیچھے نہ رہی اور اسنے بھی جھٹ یہ دعویٰ کر دیا کہ خاتونِ جنت حضرت سیدتنا فاطمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی رُوح اس میں   حلول کر گئی ہے،   ادھر ایک شخص کے سر میں   سودا  (پاگل پن)  سمایا اور اسنے یہ دعویٰ کر دیا کہ اس میں   روحِ جبریل حلول کر گئی ہے۔ جب یہ کیفیت پیدا ہونے لگی تو عام مسلمانوں  نے ایسے  لوگوں   کو خوب آڑے ترچھے ہاتھوں   لیا یعنی ناراضی و غصے کا اظہار کیا مگر افسوس صد افسوس! اس وقت کے کٹھ پتلی عباسی فرمانروا کے وزیر معز الدولہنے ایسے  لوگوں   کی سرکوبی کرنے کے بجائے ان کی تعظیم بجا لانے کا حکم دیدیا اور اس طرح مسلمانوں   کے عقائد پر بدعتوں   کے بے شمار زہر آلود تیروں   کی لگاتار بوچھاڑ شروع ہو گئی،   ہر طرف باطل پرستوں   کا راج دکھائی دینے لگا۔ چنانچہ ان دگرگوں    (اُلٹ پلٹ)  حالات میں   بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا ایک ایسا طبقہ پیدا ہوا جنہوں  نے لوگوں   کو اس دور کی بدعتوں   سے  نہ صرف دور رکھنے کی سرتوڑ کوشش کی بلکہ دلوں   میں   سنتوں   کا پیکر بنے رہنے کے ساتھ ساتھ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اور دیگر سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کے نقشِ پا پر چلنے کی تڑپ پیدا کرنے کا جذبہ بھی بیدار کیا۔

اسی دور میں   تصوف کی نہ صرف اصطلاحات مرتب ہوئیں   بلکہ ان بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْننے اس سلسلے میں   کافی گراں   مایہ علمی سرمایہ بھی عطا کیا جن سے  بعد والوں  نے خوب استفادہ کیا۔ حضرت سیِّدُنا ابو نصر سراج طوسی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کی کتاب اللمع فی التصوف اور حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کی قوت القلوب اسی زمانے کی یادگار تصانیف ہیں  ۔

٭٭٭

چوتھا مرحلہ

کچھ صاحبِ قوت شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے بارے میں  

نام ونسب: 

آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا نام محمد بن علی بن عطیہ حارثی اور کنیت ابو طالب ہے،   خاص و عام آپ کو شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کے نام سے  جانتے وپہچانتے ہیں  ۔

ولادت:

آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ عراق کے جبل نامی علاقے میں   پیدا ہوئے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی تاریخ پیدائش کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں   کہا جا سکتا البتہ! ایک محتاط اندازے کے مطابق آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تیسری صدی ہجری کے آخر یا چوتھی صدی ہجری کی ابتدا میں   پیدا ہوئے۔

تعلیم وہجرت: 

تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں   کہ حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی نوعمری ہی میں   عراق سے  مکہ مکرمہ آبسے  تھے اور وہیں   پلے بڑھے اور تعلیم حاصل کی،   مگر کہیں   بھی یہ تذکرہ نہیں   ملتا کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے آبائی وطن کو خیر آباد کہنے کے اسباب کیا تھے اور آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ایسا کیوں   کیا؟ اور نہ ہی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کس دور میں   مکہ مکرمہ میں   سکونت اختیار فرمائی۔

بہرحال سبب کچھ بھی ہو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے عجمی ہونے کے باوجود دین اسلام کے مرکز ام القری مکہ مکرمہ کی زبان اور بود و باش کو پسند کیا اور ابتدائی زندگی کی بہت سی قیمتی بہاریں   حرم مقدس کی پر کیف فضا میں   علم کے مدنی پھول چننے میں   گزار دیں  ۔ جس طرح کتب آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی مکہ مکرمہ میں   آمد کے متعلق خاموش ہیں   اسی طرح یہ بھی معلوم نہیں   ہوتا کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کب تک حرمِ پاک کی فضاؤں   سے  فیض یاب ہوتے رہے۔ البتہ! ایک واقعہ ایسا ملتا ہے جس سے  معلوم ہوتا ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ۳۴۶ھ سے  قبل مکہ مکرمہ سے  روانہ ہو کر بغداد معلی پہنچ چکے تھے۔ وہ واقعہ کچھ یوں   ہے کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سماع  ([1]) کے جواز کے قائل تھے جبکہ بغداد شریف کے شیخ الحدیث سیِّدُنا عبد الصمد بن علی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَلِی اس کے برعکس موقف رکھتے تھے۔ چنانچہ،   جب ایک مرتبہ شیخ عبد الصمد بن علی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَلِینے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو سماع کے جواز کا قائل ہونے کی وجہ سے  سخت انداز میں   روکنے کی کوشش فرمائی تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے برا مانے بغیر یہ شعر پڑھا:

فَيَا لَيْلٍ كَمْ فِيْكَ مِنْ مُّتْعَةٍ                وَيَا صُبْحٍ لَيْتَكَ لَمْ تَقْتَرِب

یعنی اے شب تجھ میں   کس قدر مزے ہیں   اور اے صبح! کاش! تو قریب بھی نہ آتی۔

اسے  سن کر شیخ عبد الصمد بن علی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْوَلِی ناراض ہوکر وہاں   سے  چلے گئے۔اس واقعے کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جہانِ فانی سے  کوچ کر گئے۔ چونکہ آپ



[1]    اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں  فرماتے ہیں  کہ حضرت شیخ الشیوخ قُدِّسَ سِرُّہُنے عوارف شریف میں  پہلے ایک باب قبول وپسند سماع میں  تحریر فرمایا اور اس میں  بہت احادیث وارشادات ذکر فرمائے۔ اور فرماما: بیشک شیخ ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِینے کچھ ایسے دلائل وشواہد بیان فرمائے جو سماع کے جواز پر دلالت کرتے ہیں  اور بہت سے اسلاف، صحابہ کرام اور تابعین عظام اور ان کے علاوہ دوسرے اکابرین سے نقل فرمایا اور شیخ ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کا قول معتبر اور مستند ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ کثیر علم سے معمور ہیں ، حال میں  صاحبِ کمال ہیں ۔ اور اسلاف کے حالات کو بخوبی جانتے ہیں ۔ اور تقوٰی و ورع میں  ان کا ایک خاص مقام ہے۔ اور زیادہ صواب اور زیادہ بہتر امور میں  گہری سوچ اور فکر کامل رکھتے ہیں ۔ چنانچہ ارشاد فرمایا: سماع میں  حلال، حرام اور شبہ کی اقسام ہیں ، لہٰذا جس نے نفس مشاہدہ، شہوت اور    خواہش کے پیش نظر سماع سنا تویہ حرام ہے۔ اور جس نے معقولیت کے پیش نظر مباح طریقے سے لونڈی یا اہلیہ سے استفادہ سماع کیا تو اس صورت میں  شبہ پیدا ہو گیا کیونکہ اس میں  کھیل داخل ہو گیا۔ اور جس شخص نے ایسے نفیس دل کے ساتھ سماع سنا جو ایسے معانی کا مشاہدہ کر رہا تھا جو دلیل کی راہنمائی کرتے ہیں ۔ اور اس کے لئے ربّ جلیل کے راستے گواہ ہوں ۔ لہٰذا یہ سماع مباح ہے۔ شیخ ابوطالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی کا یہ ارشاد ہے اور یہی صحیح ہے۔(فتاویٰ رضویہ مخرجہ، ج۲۲، ص۵۵۷)



Total Pages: 332

Go To