Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

میں   داخل ہو گا۔  ([1])

            اگر کوئی ان امور میں   سے  تین یا دو پر عمل کرے اور باقی پر عمل نہ کرسکے تو امید ہے کہ اچھی نیت کی بنا پر اسے  سب پر عمل کرنے کا ثواب ملے گا۔

 (۷) … نمازِ باجماعت: 

            مرید کے لئے لازم ہے کہ وہ نمازِ باجماعت کبھی بھی ترک نہ کرے خاص طور پر اس وقت جب وہ اذان کی آواز سنتا ہو یا پھر مسجد کے قریب ہو۔ سب سے  بہتر یہ ہے کہ قریب ترین مسجد میں   نماز ادا کرے،   ہاں   اگر دور کی مسجد میں   نماز ادا کرنے سے  مقصود یہ ہو کہ زیادہ قدم چلنے پر ثواب ملے گا تو کوئی حرج نہیں  ،   یا دور کی مسجد کے امام کی فضیلت کی وجہ سے  جائے تب بھی کوئی حرج نہیں   کیونکہ ایک عالم امام کے پیچھے نماز پڑھنا افضل ہے۔ یا اگر مقصود اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کسی گھر کو آباد کرنا ہو تو بھی کوئی حرج نہیں   اگرچہ وہ کتنا ہی دور ہو۔

            حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں   کہ جس نے پانچوں   نمازیں   باجماعت پڑھیں   تو اسنے دو زمینیں   اور دو سمندر عبادت سے  بھر دیئے۔  ([2]) اور نمازی کو چاہئے کہ ہر نماز کا وقت داخل ہونے سے  پہلے ہی وضو کر لیا کرے کیونکہ اس میں   نماز کی محافظت اور ایک اچھا طرزِ عمل ہے۔

            حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک تین امور پسندیدہ ہیں  :  (۱)  صدقہ کا حکم دینا  (۲)  نمازِ باجماعت کی خاطر پیدل چلنا اور  (۳)  لوگوں   میں  صلح کرنا۔

 (۸) … گھر سے  نکلنے اور داخل ہونے کا طریقہ: 

            مستحب یہ ہے کہ جب بھی مسجد یا گھر میں   داخل ہو تو دو رکعت نَفْل ادا کیا کرے کیونکہ سلف صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن کا یہی طریقہ ہے۔ اسی طرح جب بھی باہر نکلے تب بھی دو رکعت نماز ادا کر کے نکلے کیونکہ مروی ہے کہ بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن دو رکعت ادا کئے بغیر گھر سے  باہر نہ نکلا کرتے تھے اور وہ باوضو رہتے۔ پس یہ بھی مستحب ہے کہ جب بھی وضو ٹوٹ جائے تو وضو کر لے اور جب وضو کرے تو تحیۃ الوضو بھی پڑھا کرے کہ یہ نیک لوگوں   کا عمل ہے۔ اگر اس حالت میں   اسے  موت آ گئی تو شہادت کی موت مرے گا اور جب گھر سے  باہر نکلے تو یہ دعا پڑھے:

 (بِسْمِ اللّٰہِ مَا شَآءَ اللّٰہُ حَسْبِیَ اللّٰہُ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ،   لاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ،   اَللّٰہُمَّ اِلَیْكَ خَرَجْتُ وَاَنْتَ اَخْرَجْتَنِیْ،   اَللّٰہُمَّ سَلِّمْنِیْ وَسَلِّمْ مِّنّیْ فِیْ دِیْنِیْ کَمَاۤ اَخْرَجْتَنِیْ،   اَللّٰہُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَزِلَّ اَوْ اُزَلَّ اَوْ اَضِلَّ اَوْ اُضَلَّ اَوْ اَظْلِمَ اَوْ اُظْلَمَ اَوْ اُجْہَلَ اَوْ یُجْہَلَ عَلَیَّ،   عَزَّ جَارُكَ وَجَلَّ ثَنَآؤُكَ وَتَبَارَكَ اَسْمَآؤُكَ وَلَاۤ اِلٰـہَ غَیْرُكَ)    ([3])

تر جمعہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نام سے ،   جو اللہ عَزَّ وَجَلَّچاہے،   مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّہی کافی ہے،   میں  نے اللہ عَزَّ وَجَلَّپر ہی بھروسا کیا،   کوئی قوت نہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مدد کے سوا،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   تیری جانب ہی نکلا ہوں   اور تونے ہی مجھے باہر نکالا ہے،   اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! مجھے محفوظ رکھ اور میرے دین کی بھی حفاظت فرما جیسا کہ تونے مجھے باہر نکالا ہے۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ! میں   تیری پناہ طلب کرتا ہوں   اس بات سے  کہ میں   پھسلوں   یا پھسلایا جاؤں  ،   گمراہ ہوں   یا گمراہ کیا جاؤں  ،   ظلم کروں   یا مجھ پر ظلم کیا جائے،   جہالت کا مظاہرہ کروں   یا مجھ سے  جاہلانہ برتاؤ ہو،   تیری پناہ غالب ہے اور تیری حمد و ثنا شاندار ہے اور تیرے اسمائے حسنیٰ برکت والے ہیں   اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں  ۔

            اور پھر اس کے بعد الحمد شریف،   سورۂ فلق اور سورۂ ناس بھی ایک ایک مرتبہ پڑھنی چاہئے۔

نمازِ چاشت: 

 (21) نمازِ چاشت کی چار رکعتیں   بھی روزانہ بلا ناغہ ادا کرے اور ہو سکے تو آٹھ سے  بارہ رکعت پڑھے اور ان سے  زائد نہ پڑھے۔ اگر ہشاش بشاش ہو تو طویل قراء ت کرے ورنہ چھوٹی سورتیں   پڑھ لے۔ نمازِ چاشت میں   سورۂ وَالشَّمْسِ،   وَالضُّحٰی اور سورۂ بقرہ اور سورۂ حشر کی آخری آیات پڑھے۔ اس کے بعد چاشت کے ورد اور وظیفے کے علاوہ جتنے چاہے نوافل پڑھے لیکن انہیں   ہمیشہ ادا کیا کرے۔ چنانچہ،   

            اُمُّ المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے  مروی ہے کہ حضور نبی ٔپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  چاشت کے وقت چار رکعتیں   ادا فرماتے اور پھر اس سے  زائد جتنی اللہ عَزَّ وَجَلَّچاہتا ادا فرماتے۔ ([4])

            اللہ عَزَّ وَجَلَّکا فرمانِ مغفرت نشان ہے کہ ’’اے ابنِ آدم! دن کے ابتدائی حصے میں   تو میری خاطر چار رکعت ادا کرے گا تو میں   دن کے آخری حصے میں   تجھے کافی ہوں   گا۔ ‘‘  ([5])

            حضرت سیِّدَتُنا ام ہانی بنت ابی طالب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے  مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،   نُورِ مُجسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چاشت کی آٹھ رکعت ادا فرمائیں  ۔ ([6])

            ایک مرتبہ سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا کہ ابن آدم اس حال میں   صبح کرتا ہے کہ اس کے جسم کے ہر ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے،   جبکہ اس کے جسم میں  360 جوڑ ہیں  ،   پس ٭…  اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف اور نَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر صدقہ ہے ٭…  کمزور کا بوجھ ہلکا کرنا بھی صدقہ ہے ٭…  کسی کو راستہ بتانا اور راستے میں   پڑی ہوئی تکلیف دہ شے ہٹانا بھی صدقہ ہے۔ یہاں   تک کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تسبیح و تہلیل کا بھی تذکرہ فرمایا اور پھر ارشاد فرمایا کہ نمازِ چاشت کی دو رکعتیں   ان سب اعمال پر حاوی ہیں   



[1]     المعجم الکبیر، الحدیث:۱۱۳۰۰، ج۱۱، ص۱۱۶بدون صدقۃ

[2]     تفسیر روح البیان، پ۲۹، القلم، تحت الایة ۴۳، ج۱۰، ص۱۲۴بتغیر قلیل

[3]     وفاء الوفاء للسمهودی، الباب الثامن، الفصل الرابع فی اداب الزیارة و المجاورة، ج۲، ص۱۳۸۹بدون ما شآء اللہ حسبی اللہ

[4]     صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرین، باب استحباب صلاة الضحی، الحدیث: ۱۶۶۵، ص۷۹۰

[5]     المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث نعیم بن هماء، الحدیث: ۲۲۵۳۶، ج۸، ص۳۴۳

[6]     المصنف لابن ابی شیبة، کتاب صلاة التطوع، باب کم یصلی من رکعة، الحدیث:۴، ج۲، ص۳۰۰



Total Pages: 332

Go To