Book Name:Kaamil Mureed

سے بچئے اور اس کے بے شمار احسانات کو یاد

 

 رکھیے : مثلاً میں مرید ہونے سے پہلے کیا تھا اور اب کیا ہوں ؟ کیا مرید ہونے سے پہلے نمازی تھا؟ اگر پانچ وقت کی نماز پڑھتا تھا تو کیا اشراق و چاشت اور اوابین و تہجد بھی پڑھتا تھا؟ کیا عبادت میں لذت تھی؟ کیا سر پر عمامہ کا تاج سجاتا تھا؟ کیا سنتوں کا پیکر نظر آتا تھا؟ وغیرہ وغیرہ یا یہ سب پیر کی نظرِ کرم کا صدقہ ہے ۔ اگر یہ سب پیر کا فیض ہے تو اپنی روحانی پرواز پر فخر مت کیجئے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ غرور و تکبر کا شکار ہو کر حضرت جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کے مرید کی طرح آپ بھی اپنے مقام و مرتبہ سے ہاتھ دھو بیٹھیں ۔

صدا پیر و مرشد رہیں ہم سے راضی

کبھی بھی نہ ہوں یہ خفا یاالٰہی

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                     صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مجھے موتیوں والاچاہیے  

ایک مرتبہ سلطان مَحمود غَزنوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے کچھ قیمتی مَوتی اپنے افسران کے سامنے پھینکتے ہوئے فرمایا : چُن لیجئے اور خود آگے چل دئیے ۔ تھوڑی دُور جانے کے بعد مُڑ کر دیکھا تو اَیاز گھوڑے پر سُوار پیچھے چلا آرہا ہے ۔ پوچھا : اَیاز! کیا تجھے مَوتی نہیں چاہئیں ؟ ایاز نے عَرض کی : عالی جاہ! جو موتیوں کے طالِب تھے وہ موتی چُن رہے ہیں ، مجھے تو مَوتی نہیں بلکہ موتیوں والا چاہیے ۔ ([1])

آج ميرا وضو نهيں تھا!

سلطان محمود غزنوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اياز پر بڑے مهربان تھے اور اس سے محبت كرتے تھے ، اسي طرح  اياز كے بيٹے سے بھي محبت كرتے تھے اور چونكه اس كا نام محمد تھا لہٰذا اس كے ساتھ عزت سے پيش آتے ۔ ([2])

ایک بار سلطان نے ایاز کے بیٹے کو یوں پکارا : اے ایاز کے بیٹے ! یہاں آؤ ۔ ایاز بھی چونکہ سلطان سے محبت کرتا تھا، ڈر گیا اور دل مىں سوچنے لگا : لگتا ہے ميرے بيٹے سے كوئى خطا هوگئى هے جبھي تو آج اس طرح بلايا گیا هے ۔ چنانچہ عرض گزار هوا : بادشاہ سلامت! میرے بیٹے سے کوئی خطا ہوگئی هے ؟ سلطان محمود غزنوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے کہا : کیوں ؟ تمہیں ایسا کیوں محسوس ہوا؟ عرض كي : آج آپ نے ميرے بيٹے كا نام لے كر نهيں پكارا ۔ جواب ديا : اياز! بات دراصل يه هے كه تمہارے بیٹے کا نام محمد هے اور جب بھی میں تمہارے بیٹے کو پکارتا تھا میرا وضو ہوتا تھا مگر آج میرا وضو نہ تھا اور ادب كي وجه سے ميں نے نام لے كر نهيں پكارا ۔ ([3])

ہزار بار بشویم دہن بہ مشک و گلاب

هنوز نامِ تو گفتن کمالِ بے اَدبی است

یعنی میں مشک و گلاب سے ہزار بار بھی اپنا منہ دھو لوں تب بھی اے جانِ کائنات و فخر موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کا نام لینا بہت بڑی بے ادبی ہے ۔

اپنا ماضی یاد رکھتا ہوں

جب كسي كي كسي پر عطائىں اور نوازشيں هوں تو بعض اوقات اس کے حاسد پیدا ہوجاتے ہیں جو اس پر طرح طرح کی تنقید كرتے هيں ، يهى معامله اياز كے ساتھ بھي پيش آيا ۔ چنانچہ كچھ درباری سلطان محمود سے کہنے لگے کہ آپ اياز پر اتنی عطائیں کرتے چلے جارہے هيں كيا آپ كو معلوم هے كه اياز آپ كا خزانہ چرا چرا کر اپنے کمرے میں جمع کرتا ہے ؟ سلطان محمود كو يقين تھا كه يه بات بالكل غلط اور جھوٹ هے ليكن پھر بھي اپنے محب کی محبت کو ثابت کرنے کے لیے کہا : اچھا ! چلواياز كے پاس چلتے هيں اور دیکھتے ہیں كه اس نے کیا خزانہ چھپايا ہے ، جب ايازكے دروازے پر دستك دي گئى تو دروازہ کھلنے میں تھوڑی تاخیر ہو گئی ۔ حاسدين نے كها : بادشاه سلامت ديكھا آپ نے ! خزانه چھپا رها هو گا اس لئے دروازه نهيں كھول رها ۔ خير! جب دروازہ کھلا تو بادشاہ نے کہا : ایاز! کیا کررہے ہو؟ یہ کہتے ہوئے اندر داخل ہوگئے ۔

حاسدين كي نظر كونے ميں ركھے هوئے ايك بكس پر پڑى، كهنے لگے : وہ دیکھیں بکس پڑا ہوا ہے ۔ محمود نے بكس ديكھ كر کہا : ایاز! بکس کھولو ۔ ایاز نے عرض كي : عالیجاہ! رهنے دیجئے ۔ محمود نے دوباره كها : ایاز! بکس کھولو! جب بکس کھولا تو بکس میں پھٹے پرانے چپل اور پھٹا پرانا لباس تھا ۔ محمود نے پوچھا : ایاز! یہ کیا ہے ؟ عرض كي : بادشاہ سلامت! آپ کے دربار میں آنے کے بعد میرے سر پر تاجِ شاہی، بدن پر شاہی پوشاک اور پاؤں میں شاہی جوتے آگئے ، ظاہری انداز جتنا تھا تبدیل ہوگیا، میں روزانہ آکر اس بکس کو کھول کر دیکھتا ہوں اور خود سے کہتا ہوں : ایاز! تیرے پاس جو کچھ بھی ہے وه بادشاہ کی مہربانی ہے حالانكه تیري اصل یہ ہے کہ تو پھٹے پرانے چپل اور پھٹا پرانا لباس پہن کر دربار میں آیا تھا، بادشاہ سلامت ماضي دیکھ کر میں اپنے حال پر تکبر نہیں کرتا ۔ ([4])

ماضی یاد رکھیے

 



26     فیضانِ سنت، ج۱، ص ۹۴۹

27     جب شیخ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے کسی کا نام رکھنے کی درخواست کی جاتی ہے تو آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اس بچے کا نام محمد اور پکارنے کے لئے عرف مثلاً رجب رضا رکھتے ہیں ۔ نام کے ساتھ رضا کا اضافہ امامِ اہلسنّت مجددِ دین وملت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن کی نسبت سے کرتے ہیں ۔

28     روح البیان، الاحزاب، ج۷، ص ۱۸۵

29     مثنوی مولوی معنوی، دفتر پنجم، قصہ ایاز و حجرہ، ص ۱۹۰ مفھوماً



Total Pages: 11

Go To