Book Name:Kaamil Mureed

وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز ادا فرمائی ہو وہیں نماز ادا کریں ۔ یہاں تک کہ دورانِ سفر ایک بار سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک درخت کے نیچے قیام فرمایا تو حضرت ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا وہاں سے  گزرتے ہوئے نہ صرف اس درخت کے نیچے قیام فرماتے بلکہ اس درخت کی دیکھ بھال بھی فرماتے اور اسکی جڑوں کو پانی دیا کرتے تا کہ وہ خشک نہ ہو ۔ ([1]) اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ہمیشہ اپنی سواری کو انہی راستوں پر لے جاتے جن راستوں سے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے جاتے ۔ جب آپ سے اس کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ میری سواری بھی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سواری کے نقشِ قدم پر چلے ۔ ([2])

سُبْحَانَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ! یہ ہیں کامل اتباع کرنے والے ، خود تو سنتوں کے پیکر تھے ہی کبھی اپنی سواری کو بھی سرکار کی سواری کے نقشِ پا سے ہٹنے نہیں دیا ۔ پس ہمیں بھی چاہئے کہ کامل پیر کے کامل مرید بن جائیں اور اپنے پیر کی ہر ہر ادا پر عمل کرنا شروع کر دیں ۔ اس لیے کہ ان اولیائے کاملین کی اطاعت کرنا اور ان سے برکت حاصل کرنا اخروی نجات کا ایک ذریعہ ہے ۔

فاسق کی مغفرت

منقول هے كه ایک انتہائی فاسق و فاجر شخص دریا کے کنارے بیٹھا ہاتھ منہ دھو رہا تھا، ناگاه اس نے ديكھا كه نیچے کی جانب قريب هي حضرت سيدنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ وضو فرما رہے هيں ، اس نے دل ميں كها : میں گناهوں سے آلوده هوں اور يه پاني میرے ہاتھ پاؤں چھو كر اس نیک پرہیزگار شخص کی طرف جارہا ہے یہ اچھی بات نہیں ۔ لہٰذا وہ وہاں سے اٹھا اور یہ سوچ کر نیچے کی جانب آ بیٹھا كه جب امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے ہاتھ اور پیرکو چھوتا ہوا پانی اس تک پہنچے گا اور وہ اس سے ہاتھ پاؤں دھوئے گا تو کیا عجب اس کے قلب کی گندگی دور ہوجائے ۔ جب اس کا انتقال ہوا تو کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ کہنے لگا : میں تو بہت گنہگار و سیاہ کار شخص تھا، بس امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ كا ادب كرنے كی وجه سے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے میری مغفرت فرما دي ۔  ([3])

مجھے میرا پیر ہی کافی ہے  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھیے کہ مرید کو یقین ہونا چاہئے کہ بس مجھے میرا پیر ہی کافی ہے ۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مجدد دین و ملت، پروانۂ شمع رسالت، مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن فرماتے ہیں : جب تک مرید یہ اِعْتِقَاد (یعنی یقین) نہ رکھے کہ میرا شیخ تمام اَولیائے زمانہ سے میرے  لیے بہتر ہے ، نَفع نہ پائے گا ۔ (حضرت) علی بن ہیتی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حضور غوثِ اَعظم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے خاص خلیفہ تھے ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک بار بیمار پڑ گئے تو حضور غوثِ اَعظم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان کی عیادت کو تشریف لائے ۔ چنانچہ آپ نے کھانے کا اہتمام فرمایا اور آپ کے ایک خاص مُرید حضرت علی جُوسَقی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کھانا لے کر حاضرِ خدمت ہوئے مگر اس سوچ میں پڑ گئے کہ کھانا کس کے سامنے پہلے رکھوں ؟ اپنے شیخ کے سامنے رکھتا ہوں تو حضور غوثِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شان کے خِلاف ہے اور اگر حضور غوثِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنے رکھتا ہوں تو اِرادَت تقاضا نہیں کرتی ۔ اس لیے انہوں نے اس طرح کھانا پیش کیا کہ دونوں حضرات کے حضور ایک ساتھ پہنچا ۔ یہ دیکھ کر حضور غوثِ اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : یہ مُرید تمہارا بہت با اَدب ہے ۔ (حضرت) علی بن ہیتی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کیا : بہت ترقیاں کر چکا ہے ، اب اس کو حضور اپنی خدمت میں لیں ۔ (حضرت) علی جوسقی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یہ سنتے ہی ایک کونے میں گئے اور رونا شروع کیا ۔ حضور (غوثِ پاک) نے فرمایا : اس کو اپنے ہی پاس رہنے دو جس پِستان کا ہِلا ہوا ہے اسی سے دُودھ پئے گا دوسرے کو نہیں چاہتا ۔ ([4])

پیر کی خانقاہ کا  ادب

 ایک مرتبہ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے مریدین کے ساتھ تشریف فرما تھے اور طریقت سے متعلق تربیت فرما رہے تھے ۔ مگر دورانِ بیان جب آپ کی نظر دائیں طرف پڑتی تو آپ (با اَدَب انداز میں ) کھڑے ہو جاتے ۔ تمام لوگ یہ دیکھ کر حیران تھے کہ پیرو مرشِد کس کی تعظیم کیلئے کھڑے ہوتے ہیں ۔ چنانچہ انہوں نے اس طرح کئی مرتبہ پیرو مرشِد کو قیام کرتے دیکھا (مگر اَدَب کے باعث کسی کو سبب دریافت کرنے کی جرأت نہ ہوئی) ۔ جب سب لوگ وہاں سے چلے گئے تو ایک مرید جو مرشِد کا منظورِ نظر تھا ۔ اس نے موقع پا کر عرْض کی! حضور ہماری تربیت کے دوران بارہا آپ نے قیام فرمایا یہ کس کی تعظیم کیلئے تھا؟ حضرت خواجہ معین الدین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا! اس طرف میرے پیرو مرشِد شَیخ عثمان ہارونی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مزارِ مبارَک ہے ۔ لہٰذا جب میرا اپنے پیرو مرشِد کے مزار مبارَک کی طر ف رخ ہوتا تو میں تعظیم کیلئے اُٹھ کھڑا ہوتا ۔ ([5])

منزل تک پہنچنے کا راستہ

 میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا مرید کامل کو چاہئے کہ کبھی بھی اپنی عقیدت کو تقسیم نہ کرے کیونکہ جو لوگ اپنی عقیدت کو تقسیم کرتے ہیں وہ بعض اوقات منزل نہیں پاتے ، لہٰذا مرید کامل کو اس بات کا اعتقاد رکھنا چاہئے کہ مجھے جو کچھ ملتا ہے اپنے پیر کے صدقے ملتا ہے ۔ نیز مرید کامل کو کبھی ایسی صحبت میں نہیں بیٹھنا چاہئے جہاں اس کو اس کے پیر سے برانگیختہ کیا جائے ۔ چنانچہ،

امام شعرانی کا ارشاد

حضرت سَیِّدنا امام عبد الوہاب شعرانی قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی فرماتے ہیں : مشائخِ کبار نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اپنے مرشِد کی مَحبّت کی شرائط میں سے ایک (اہم شرط) یہ ہے کہ مرید اپنے



18    تاریخ مدینہ دمشق، ج ۳۱، ص۱۲۱

19    المرجع السابق

20    تذکرۃ الاولیاء، ذکر الامام احمد حنبل، ص ۲۴۴

21     ملفوظات، ص ۴۰۲……بھجۃ الاسرار، ذکر شیخ ابو الحسن الجوسقی، ۳۸۳

22     فوائد السالکین مع ھشت بھشت، ص ۱۳۸



Total Pages: 11

Go To