Book Name:Kaamil Mureed

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے جس کامل مرید کا تذکرہ فرمایا ہے کہ وہ پیر کے افعال و اعمال اور اقوال کو عقل کے پیمانے پر نہ پرکھے ، ایسے کامل مرید کا اس دور میں ملنا یقیناً جوئے شِیر ([1]) لانے کے مترادف ہے ، کیونکہ اس مادہ پرستی کے دور میں ہم اپنی عبادات و دیگر بے شمار معمولات کی طرح پیری مریدی کی اصل روح سے محروم ہوتے جا رہے ہیں ، اس لیے کہ اب ہر شے کو عقل کے ترازو میں تولا جاتا ہے اور اس جانب کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا :

عقل کو تنقید سے فرصت نہیں

عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ

پیارے اسلامی بھائیو! مرید کی عقل کبھی بھی اپنے جامع شرائط پیر کامل کی روحانی قوت کا مقابلہ نہیں کر سکتی کیونکہ یہ پیرانِ عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نیک بندے اور اسرارِ الٰہی کے امین ہوتے ہیں ، وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے راز ظاہر نہیں کرتے بلکہ وہ تو اپنی حقیقت بھی لوگوں سے مخفی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے اپنے ان نیک بندوں کو علم کی نعمت سے سرفراز فرمانے کے ساتھ ساتھ تصرف کی ایسی قوت بھی عطا فرما رکھی ہے کہ زمانہ اگر اس کی جھلک بھی دیکھ لے تو عقل کو ان کے دَر پر قربان کر کے عشق کے سمندر میں غوطہ زن ہو جائے ۔ چنانچہ،

 

مَفلوج کی ہاتھوں ہاتھ شِفا یابی

رَمَضانُ المبارَک ۱۴۲۵؁ھ کے اجتِماعی اعتِکاف میں دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ بابُ المدینہ کراچی میں جہاں کم و بیش 3100 مُعتَکِفِین تھے ، اُن میں ضِلع چکوال (پنجاب، پاکستان) کے 77سالہ مُعَمَّر بُزُرگ حافِظ محمد اشرف صاحِب بھی مُعتَکِف ہو گئے ۔ قِبلہ حافِظ صاحِب کا ہاتھ اور زَبان مَفلوج تھے اور قوّتِ سماعت بھی جواب دے چکی تھی ۔ وہ بڑے خوش عقیدہ تھے ۔ چونکہ دورانِ اعتکاف سحری و افطار کے اوقات میں شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مختلف حلقوں میں کھانے کی ترکیب ہوتی ہے ۔ چنانچہ جس دن قبلہ حافظ صاحب کے حلقے کی باری تھی تو اُنہوں نے اِفطار کے کھانے میں بَصَد حُسنِ ظن آپ سے جُوٹھا کھانا لیکر کھایا اور دَم بھی کروایا ۔ بس اُن کے حسنِ ظن نے کام کر دکھایا، رَحمتِ اِلہٰی کو جوش آیا اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے ان کو شِفا یاب فرمایا ۔ یوں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ  عَزَّ وَجَلَّ  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے ولی کامل کا جوٹھا کھانا کھانے کی برکت سے اُن کا فالج کا مرض جاتا رہا ۔ انہوں نے ہزاروں اسلامی بھائیوں کی موجودگی میں فیضانِ مدینہ کے مَنچ پر چڑھ کر بَصَد عقیدت اپنے رُوبہ صِحّت ہونے کی بِشارت سُنائی، یہ نویدِ جانفِزا سُن کر فَضا اللہ اللہ اللہ اللہ کی پُر کیف صداؤں سے گونج اُٹھی ۔ اُن دنوں کئی مقامی اَخبارات نے اِس خبرِ فرحت اثر کو شائِع بھی کیا ۔

دعوتِ اسلامی کی قَیّوم

سارے جہاں میں مچ جائے دھوم

اس  پہ فِدا ہو  بچّہ  بچّہ

یا اللہ  مری  جھولی  بھر  دے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ جب اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نیک بندے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عطا سے کبھی ایسا تصرف فرماتے ہیں اور کسی کرامت کا ظہور ہوتا ہے تو عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں ۔ لہٰذا یاد رکھئے کہ پیری مریدی راہِ عقل نہیں راہِ محبت و عشق ہے ۔ جیسا کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ شیخ کے تصرفات سے جو کچھ اسے صحیح معلوم نہ ہوتے ہوں ان میں حضرت خضر عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے واقعات یاد کر لے ۔ چنانچہ وہ واقعات کچھ یوں ہیں ۔

حضرتِ موسیٰ وخضر   عَلَیْہِما السَّلَام   کا واقعہ

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ قرآنی واقعات وعجائبات پر مشتمل کتاب، ’’عَجَائِبُ القراٰن مع غَرَائِبِ القراٰن ‘‘ صَفْحَہ 156 پر شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبد المصطفے ٰ اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ایک روایت ہے کہ جب فرعون مع اپنے لشکر کے دریائے نیل میں غرق ہو گیا اور حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو بنی اسرائیل کے ساتھ مصر میں قرار نصیب ہوا تو ایک دن موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا اللہ تعالیٰ سے اس طرح مکالمہ شروع ہوا :

موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام : خداوند! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ تجھ کو محبوب کون سا بندہ ہے ؟

اللہ تعالیٰ :             جو میرا ذکر کرتا ہے اور مجھے کبھی فراموش نہ کرے ۔

موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام : سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہے ؟

اللہ تعالیٰ :            جو حق کے ساتھ فیصلہ کرے اور کبھی بھی خواہش انسانی کی پیروی نہ کرے ۔

موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام : تیرے بندوں میں سب سے زیادہ علم والا کون ہے ؟

اللہ تعالیٰ :            جو ہمیشہ اپنے علم کے ساتھ دوسروں سے علم سیکھتا رہے تاکہ اس  طرح اُسے کوئی ایک ایسی بات مل جائے جو اُسے ہدایت کی  طرف راہنمائی کرے یا اس کو ہلاکت سے بچا لے ۔

موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام : اگر تیرے بندوں میں کوئی مجھ سے زیادہ علم والا ہو تو مجھے اس کا پتا بتا دے ؟

 



7    انتہائی مشکل کام کرنے کو جوئے شیر لانے کے مترادف کہا جاتا ہے ۔



Total Pages: 11

Go To