Book Name:Jannat ka Raasta

توبہ کی فضیلت:

سرورِ عالَم ،  نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّاذَنْبَ لَہٗ یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔   (السنن الکبری  للبیہقی،  کتاب الشہادات ،  باب شہادۃ القاذف،   ۱۰ /  ۲۵۹،  حدیث: ۲۰۵۶۱)

گناہوں کی بخشش:

حضرتِ سیدنا اَنَس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ،  قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے:  اے ابنِ آدم! تونے جب بھی مجھے پکارااور مجھ سے رُجوع کیا،  میں نے تیرے گناہوں کی بخشش کردی اور مجھے اس کی پرواہ نہیں اور اے ابنِ آدم! اگر تیرے گناہ آسمان تک پَہُنْچ جائیں،  پھر تو مجھ سے مَغْفِرت طلب کرے،  تو میں تیری بخشش کردوں گااور میری ذات بے نیاز ہے۔ اے ابنِ آدم! اگر تیری مجھ سے ملاقات اس حالت میں ہوکہ تیرے گناہ پوری زمین کو گھیرلیں لیکن تو نے شِرک کا اِرْتِکاب نہ کیا ہوتومیں تیرے گناہوں کو بَخْش دوں گا۔    (ترمذی،  کتا ب الدعوات،  با ب ماجاء فی فضل التوبہ والاستغفار ،  ۵  / ۳۱۹،  حدیث: ۳۵۵۱)

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں بھى سچى توبہ كى توفىق عطا فرمائے۔  

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِّی الْکَرِیْم الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

مجھے سچى توبہ كى توفىق دے دے

پئے   تاجدارِ حرم یا الٰہى

مذکورہ حکایت سے سنّتوں  بھرے اجتِماع  کی افادیت کا بھی علم ہوتا ہے کہ سنّتوں  بھرے اجتِماعات میں ہونے والے پر اثر بیانات غافلوں کو بیدار کرنے،  گناہگاروں کو خوف خدا میں رُلانے اور دِلوں میں عِشْق مصطفےٰ جگانے کا بَہُت موثر ذریعہ ہیں۔

اللہ رَبُّ الْعٰلَمِین جَلَّ جَلَالُہٗ کا کروڑ ہا کروڑ اِحسان کہ اس نے ہمیں انسان اور مسلمان بنایا اور اپنے حبیب،  حبیب لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امّت میں پیدا فرمایا ۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   نے اس امّت کو دنیا و آخرت میں جو رِفْعَت و مَنْزِلَت،  شان وشَوکَت اور سَعادت و شَرافَت عِنایَت فرمائی ہے اس کا ایک سَبَب اس امّت کا اَمْرٌۢ بِالْمَعْرُوف وَنَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر یعنی نیکی کا حکم کرنے اور بُرائی سے منع کرنے کے فریضے کو ادا کرنا بھی ہے۔ چنانچہ پارہ ۴ سورۂ آلِ عمران کی آیت نمبر ۱۱۰ میں ارشاد ہوتا ہے:

كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِؕ-وَ  لَوْ  اٰمَنَ  اَهْلُ  الْكِتٰبِ  لَكَانَ  خَیْرًا  لَّهُمْؕ-مِنْهُمُ  الْمُؤْمِنُوْنَ  وَ  اَكْثَرُهُمُ  الْفٰسِقُوْنَ (۱۱۰)   (پ۴،  اٰل عمران: ۱۱۰)

ترجمۂ کنز الایمان : تم بہتر ہو اُن سب اُمتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں  بھلائی کا حکم دیتے ہو اور بُرائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر کتابی ایمان لاتے تو اُن کا بھلا تھااُن میں کچھ مسلمان ہیں اور زیادہ کافر۔

ہر مسلمان مبلغ ہے:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہر مسلمان اپنی اپنی جگہ مبلغ ہے خواہ کسی بھی شُعبے سے تَعلُّق رکھتا ہو یعنی وہ عَالِم ہو یا مُتَعَلِّم  (یعنی طالِب عِلْم)  اِمام مَسْجِد ہو یا مُؤذِّن،  پیر ہو یا مُرید،  تاجِر ہو یا گاہک،  سیٹھ ہو یا ملازِم،  افسر ہو یا مزدور،  حاکم ہو یا محکوم۔ الغرض جہاں جہاں وہ رہتا ہو کام کاج کرتا ہورِضائے اِلٰہی کیلئے اچھی اچھی نِیّتوں کے ساتھ اپنی صَلاحِیَّت کے مُطابِق اپنے گِرد و پیش کے ماحَول کو سنّتوں  کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے کوشاں رہے اور نیکی کی دعوت کا مَدَنی کام جاری رکھے۔اللہ تعالىٰ ہم سب كو نىكى كى دعوت عام كرنے كى توفىق عطا فرمائے اور سنّتوں  بھرے اجتِماعات مىں آنے اور دوسرے اسلامى بھائىوں كوترغیب دِلاکر لانے كى بھى توفىق عطا فرمائے۔

اجتِماعات کے ذریعے لوگوں تک نیکی کی دعوت پَہُنْچانا اَسلاف کا طَریقہ کار رہا ہے۔ چنانچہ،  

حضرت عبد اللہ بن مسعود کا وعظ و نصیحت فرمانا

حضرت ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  لوگوں کو ہر جُمِعْرَات کے دِن وَعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے ۔ ایک شخص نے عرض کی:  اے ابو عبد الرحمن! میری خواہش ہے کہ آپ روزانہ وَعظ ونصیحت فرمایا کریں۔تو آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ  نے ارشاد فرمایا کہ مجھے ایسا کرنے سے جو چیز باز رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ میں تمہیں مَلال و اکتاہَٹ میں مبتلا کرنے کو ناپسند کرتا ہوں اور میں نصیحت کرنے میں تمہاری اس طرح حِفاظَت ورِعایَت کرتا ہوں جس طرح نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ



Total Pages: 14

Go To