Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۱۱؎ خیال رہے کہ اس حدیث کی بنا پر بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ مہر کی کوئی مقدار مقررنہیں مگر یہ غلط ہے یہ حدیث اس کی تائید نہیں کرتی کیونکہ کسی امام کے نزدیک قرآن مہر نہیں بن سکتا،سب کے ہاں مہر مال ہونا چاہیے ہاں مال کی ادنیٰ مقدار میں اختلاف ہے اور یہاں قرآن پر نکاح کیا گیا۔معلوم ہوا کہ مہر نکاح کا یہاں ذکر نہیں، امام اعظم کے ہاں مہر کی کم از کم مقدار دس درہم کیونکہ دارقطنی نے حضرت جابر سے مرفوعًا روایت کیا کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عورت کا نکاح ولی کریں،کفو میں کریں،دس درہم سے کم پر ہاتھ نہ کاٹے جائیں اور دس درہم سے کم مہر نہیں،دار قطنی و بیہقی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت کی کہ دس درہم سے کم مہر نہیں لہذا دس درہم سے کم کی روایات میں چڑھاوا مراد ہے۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)

3203 -[2]

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ: كَمْ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَت: كَانَ صداقه لأزواجه اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشٌّ قَالَتْ: أَتَدْرِي مَا النَّشٌّ؟ قُلْتُ: لَا قَالَتْ: نِصْفُ أُوقِيَّةٍ فَتِلْكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَنَشٌّ بِالرَّفْعِ فِي شَرْحِ السّنة وَفِي جَمِيع الْأُصُول

روایت ہے حضرت ابو سلمہ سے فرماتے ہیں میں نے جناب عائشہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا مہر کتنا تھا ۱؎ فرمایا آپ کا مہر اپنی بیویوں کے متعلق بارہ اوقیہ اور نش تھا ۲؎ بولیں کیا تم جانتے ہو کہ نش کیا ہے میں نے کہا نہیں فرمایا آدا اوقیہ تو یہ پانچ سو درہم ہوئے(مسلم)اور نش پیش سے ہے شرح سنہ اور تمام کتب اصول میں۳؎

۱؎ یہ سوال عام ازواج پاک کے مہر کے متعلق تھا ورنہ بی بی ام حبیبہ کا مہر چار ہزار درہم تھا جو نجاشی شاہ حبشہ نے ادا کیا تھ۔

۲؎ یعنی ساڑھے بارہ اوقیہ مہر تھا ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے کل پانچ سو درہم یعنی تقریبًا ایک سو پینسٹھ روپے ہوئے درہم ساڑھے چار آنہ کا ہوتا ہے۔

۳؎ نش ن کے پیش اور شین کےشد سے بمعنی نصف روٹی اور ہر نصف کو نش کہتے ہیں مشکوۃ کے بعض نسخوں میں نُشًا فتح سے ہے مگر پیش کی روایت شرح وغیرہ کتب کے موافق ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3204 -[3]

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَلَا لَا تُغَالُوا صَدُقَةَ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا وَتَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلَاكُمْ بِهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَلِمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكَحَ شَيْئًا مِنْ نِسَائِهِ وَلَا أَنْكَحَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرمایا،خبردار عورتوں کے مہر میں زیادتی نہ کیا کرو ۱؎ کیونکہ اگر یہ دنیا میں عزت اور اﷲ کے نزدیک پرہیزگاری ہوتا تو اس کے زیادہ مستحق نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہوتے ۲؎ مجھے نہیں نہیں خبر کے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی کسی بیوی سے نکاح کیا ہو یا اپنی کسی بیٹی کا نکاح کرایا ہو بارہ اوقیہ سے زیادہ پر ۳؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ اس میں روئے سخن ان لوگوں سے ہے جو زیادتی مہر کو اپنے لیے فخر سمجھتے تھے جیسے آج بھی یوپی،سی پی میں عمومًا مسلمان زیادتی مہر پر فخر کرتے ہیں لاکھ سوا لاکھ کا مہر ہوتا ہے حالانکہ دولہا کی حیثیت دو ہزار کی بھی نہیں ہوتی سوچتے ہیں کہ مہر فقط ایک رسم ہے دیتا کون ہے۔

 



Total Pages: 807

Go To