Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3201 -[4]

وَعَنْهَا: أَنْ بَرِيرَةَ عَتَقَتْ وَهِيَ عِنْدَ مُغِيثٍ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَهَا: «إِنْ قَرِبَكِ فَلَا خِيَارَ لَكِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے ان ہی سے کہ بریرہ آزاد ہوئیں حالانکہ وہ مغیث کے پاس تھیں تو انہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دیا اور فرمایا کہ اگر وہ تمہارے قریب آگیا تو تمہیں اختیار نہیں ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ اگر لونڈی آزاد ہونے کے بعد اپنے خا وند سے صحبت کرائے تو اس کا خیار عتق جاتا رہتا ہے،اب وہ نکاح فسخ نہیں کرسکتی کیونکہ یہ صحبت علامت رضا ہے،فقہا فرماتے ہیں کہ اگر لونڈی کا نکاح اسکا مولیٰ کردے تو لونڈی کو خیار عتق ملے گا اور اگر لونڈی بغیر مولیٰ سے پوچھے خود ہی اپنا نکاح کسی سے کرلے تو وہ نکاح مولی کی اجازت پر موقوف ہوگا لیکن ابھی مولیٰ سے پوچھا نہ گیا تھا کہ لونڈی آزاد ہوگئی،تو اسے خیار فسخ نہ ہوگا نکاح لازم ہوگا اس مسئلہ کا ماخذ یہ حدیث ہوسکتی ہے۔

تکملہ:خیال رہے کہ امام اعظم قدس سرہ کے نزدیک لونڈی کو آزاد ہونے پر بہرحال خیا ر عتق ملتا ہے اس کا خاوند آزاد ہو یا غلام کیونکہ لونڈی کی طلاقیں دو ہوتی ہیں اور آزاد عورت کی طلاقیں تین، طلاق کی زیادتی عورت کی آزادی پر موقوف ہے چونکہ لونڈی آزاد ہو کر زیادتی طلاق کی مستحق ہے لہذا اسے اختیار ہے کہ خاوند کو اس زیادتی کا مالک ہونے دے یا نہ ہونے دے نکاح رکھے یا فسخ کردے امام شافعی و مالک و احمد کے ہاں اگر خاوند غلام ہے تو عورت کو حقِ فسخ ہے،اگر آزاد ہے تو انہی فریقین کی دلیل حضرت بریرہ کا واقعہ ہے۔ہمارے ہاں یہ ثابت ہے کہ بریرہ کی آزادی پر مغیث آزاد تھا اس لیے کہ حضرت عائشہ صدیقہ سے مغیث کے متعلق تین راویوں کی روایات ہیں،اسود،عروہ ابن زبیر،ابن قاسم۔اسود کی روایت ہے کہ وہ آزاد تھے،عروہ ابن زبیر کی روایتوں میں اختلاف ہے،ایک روایت میں ہے کہ غلام تھے دوسری میں ہے کہ آزاد تھے اور دونوں روایتیں صحیح ہیں۔عبدالرحمان ابن قاسم سے دو روایتیں ہیں صحیح ایک ہی ہے کہ وہ آزاد تھے دوسری میں شک ہے،اس تعارض روایات کی وجہ سے اسود کی روایت قبول ہے ان کا آزاد ہونا محقق ہے۔(مرقات)


 



Total Pages: 807

Go To