Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

ہے،چڑیوں کا شکار کرتا ہے،اس کے پر بڑے ہوتے ہیں آدھے سفید آدھے کالے،اہل عرب اس کو منحوس جانتے ہیں،اس کی آواز سے یہ فال لیتے ہیں جیسے ہمارے ملک کے جہلاء اُلّو کو منحوس سمجھتے ہیں۔چھوٹی چیونٹی کو ذر بڑی چیونٹی کو نمل کہتے ہیں۔یہاں مرقات نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ ہدہد کے لیے زمین صاف شیشہ کی مثل ہے،وہ زمین کی تہ میں پانی دیکھ لیتا ہے اس لیے حضرت سلیمان نے ایک سفر میں ہدہد کو یوں فرمایا"مَا لِیَ لَاۤ اَرَی الْہُدْہُدَ"کیونکہ آپ کو وضو کی ضرورت تھی ہدہد زمین کی تہ کاپانی بتاتا،جنات کنواں تیار کرتے آپ وضو فرماتے،یہاں ہی مرقات نے اس دعوت کا ذکر فرمایا جو ہدہد نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی کی تھی۔یہاں مرقات نے جانوروں کے اقسام انکے احکام بہت شرح و بسط سے بیان فرمائے کئی صفحات میں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

4146 -[43]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا فَبَعَثَ اللَّهُ نَبِيَّهُ وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ وَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فهوَ عفْوٌ وتَلا (قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَو دَمًا)رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جاہلیت والے لوگ کچھ چیزیں کھاتے تھے اور کچھ چیزیں گھن کرتے ہوئے چھوڑ دیتے تھے ۱؎  تب اللہ نے اپنے نبی کو بھیجا اور اپنی کتاب اتاری اور حلال کو حلال فرمایا حرام کو حرام ٹھہرایا ۲؎  تو جو حلال کر دیں وہ حلال ہیں اور جو حرام کردیں وہ حرام ہیں اور جن سے خاموشی فرمائی وہ معاف ہیں۳؎  اوریہ آیت تلاوت کی فرما دو میں اپنی وحی میں کوئی چیزکسی کھانے والے پر جسے وہ کھالے حرام نہیں پاتا مگر یہ کہ ہو مردار،پوری آیت۴؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی ان کے ہاں حرام و حلال کا کوئی قاعدہ نہ تھا محض اپنی رائے سے بعض چیزوں کو حرام سمجھتے تھے بعض کو حلال،محض لاقانونی تھی کیونکہ تعلیم ابراہیمی دنیا سے گم ہوچکی تھی،آج بھی مشرکین ہندکے دین میں کوئی قانون نہیں،بعض ہندو ہر جانور کو حرام سمجھتے ہیں، بعض صرف گائے کو،بعض فرقے ان میں کے گائے بھی کھالیتے ہیں،یوں ہی حرام و حلال عورتوں کے لیے کوئی قانون نہیں،نہایت نفیس قوانین تو اسلام ہی کے ہیں۔

۲؎  یعنی جو چیزیں حلال ہونے کے قابل تھیں انہیں حلال کیا اور جو چیزیں حرام ہونے کے قابل تھیں انہیں حرام کیا،یہود پربعض طیب چیزیں بھی حرام کردی گئی تھیں جیسے حلال جانوروں کی بعض چربیاں اور عیسائیوں پر بعض خبیث چیزیں بھی حلال کردی گئی تھیں جیسے شراب۔اسلام دین فطرت ہے،اس میں بری چیزوں کو حرام کیا گیا ہے اور اچھی چیزوں کو حلال۔

۳؎  خلاصہ یہ ہے کہ چیزیں تین قسم کی ہیں:وہ جن کا حلال ہونا قرآن یا حدیث میں صراحۃً مذکور ہے،وہ جن کا حرام ہونا قرآن یا حدیث میں صراحۃً مذکور ہے،وہ جن کا ذکر نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں،پہلی قسم حلال قطعی ہے،دوسری قسم حرام قطعی،تیسری قسم معاف یعنی وہ بھی حلال ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تمام چیزوں میں اصل اباحت ہے کہ جن سے سکوت یعنی خاموشی ہے وہ مباح ہے،یہ ا سلام کا کلیہ قانون ہے جس سے لاکھوں چیزوں کے حال معلوم ہوسکتے ہیں۔آم مالٹا وغیرہ کیوں حلال ہیں اس لیے کہ شریعت میں ان کی ممانعت نہیں آئی۔خیال رہے کہ انسانی نباتات بھی کھانا ہے جیسے سبزیاں،دانے،کبھی جمادات بھی جیسے موتی



Total Pages: 807

Go To