Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب ما یحل اکلہ و ما یحرم

باب اس کا بیان کہ کس جانور کا کھانا حلال ہے اور کس کا حرام   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  چونکہ اصلی حالت حلال ہونا ہے عارضی حالت حرام ہونا،نیز حلال چیزیں زیادہ ہیں،حرام کم،ان وجوہ سے حلال کا ذکر پہلے فرمایا حرام کا بعد میں۔(مرقاۃ)قرآن کریم نے صرف چھ چیزیں حرام فرمائیں:(۱)مردار(۲) خون(۳)سؤر کا گوشت(۴)غیر خدا کے نام پر ذبیحہ (۵)گلا گھوٹناجانور(۶)گر کر مرجانے والا۔حضور سید عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ چیزیں حرام فرمائیں:جیسے ہرکیل والا شکاری، درندہ جانور جیسے کتا،بلی وغیرہ اور ہر پنجہ والا شکاری جیسےکوّا،باز،شکرہ وغیرہ۔جن جانوروں کی حرمت قطعی و یقینی حدیث سے ثابت ہے ان کی حرمت میں تمام امت کا اتفاق ہے جیسے کتا،بلی وغیرہ۔جن کی حرمت احادیثِ ظنّیہ سے ثابت ہے ان کی حرمت میں اختلاف ہے۔چنانچہ ہمارے امام اعظم کے ہاں سواء مچھلی کے تمام دریائی جانور حرام ہیں،امام مالک کے ہاں سوائے دریائی خنزیر اور دریائی انسان کے تمام دریائی جانور حلال ہیں،امام شافعی کے ہاں سارے دریائی جانور حلال ہیں،وہ اس آیت سے دلیل لیتے ہیں"اُحِلَّ لَکُمْ صَیۡدُ الْبَحْرِ"اور اس حدیث سے ھوالطھور ماء والحل میتتہ،ہمارے امام صاحب کی دلیل یہ آیت"وَیُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الْخَبٰٓئِثَ۔غرضیکہ حرام و حلال کا مسئلہ نہایت ہی اہم ہے،امام احمد کے ہاں سواء منصوص محرمات کے جسے عرب طیب و حلال کہیں وہ حلال ہے۔(اشعۃاللمعات)

4104 -[1]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ ذِي نَابٍ منَ السِّباعِ فأكلُه حرامٌ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر کیل والا درندہ اس کا کھانا حرام ہے ۱؎(مسلم)

۱؎  یعنی جو کیل والے جانور اپنے دانتوں سے شکار کریں وہ حرام ہیں جیسے چیتا،بھیڑیا،کتا وغیرہ یہ قاعدہ بہت ہی عام اور ضروری ہے۔

4105 -[2]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ وَكُلِّ ذِي مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہر کیل والے درندے اور ہر پنجے والے پرندے کے کھانے سےمنع فرمایا ۱؎ (مسلم)

۱؎  خیال رہے کہ حرام جانور کا دودھ بھی حرام ہے سوا انسان کے،یوں ہی حرام جانور کے انڈے حرام ہیں،یہ خیال رہے۔

4106 -[3] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أبي ثَعلبةَ قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ

روایت ہے حضرت ابوثعلبہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پالتو گدھے کے گوشت کو حرام فرمایا ۱؎  (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To