Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۳؎ یہا ں کچھ کتابت کی غلطی ہے قال کا فاعل حضرت ابن عباس نہیں ہیں بلکہ سلیمان احول ہیں جو سعید ابن جبیر سے راوی وہ عبد اللہ ابن عباس سے راوی،یعنی سلیمان کہتے ہیں کہ سعید ابن جبیر تیسری وصیت کے بیان سے خاموش رہے یا انہوں نے بیان فرمائی تھی مجھے یاد نہ رہی،ممکن ہے کہ تیسری وصیت یہ ہو کہ تم میری قبر کو بت نہ بنالینا جس کی پرستش کی جائے۔واﷲ ورسولہ اعلم!(اشعہ،مرقات)

4053 -[4]

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لأخرِجنَّ اليهودَ والنصَارى من جزيرةِ الْعَرَب حَتَّى لَا أَدَعَ فِيهَا إِلَّا مُسْلِمًا».رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ: «لَئِنْ عِشْتُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ»

روایت ہے حضرت جابر ابن عبداللہ سے فرماتے ہیں مجھے عمر ابن خطاب نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ میں یہودیوں عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا حتی کہ اس میں نہ چھوڑوں گا مگر مسلما ن کو ۱؎ (مسلم)اور ایک روایت میں یوں ہے کہ اگر میں زندہ رہا تو ان شاءاﷲ یہودو عیسائیوں کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا ۲؎

۱؎ یعنی ہمارا ارادہ یہ ہے کہ عرب سے تمام دینوں کو نکال دوں،یہاں صرف مسلمان رہیں تاکہ یہ جگہ فتنہ و فساد کی نہ رہے صرف حج وعمرہ،زیارت اور ذکر الٰہی کے لیے رہے جہاں صرف عبادات ہوں سیاسی اڈہ اور فتنہ فساد کا اکھاڑہ نہ بنے۔

۲؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کو یہود سے خالی کرالیا،اس طرح کہ وہاں کے یہودیوں میں سے بنی قریظہ کو قتل کردیا اور بنی نضیر کو جلا وطن فرمادیا،خیبر فتح فرمایا تو وہاں کے یہود کو عارضی طورپر کچھ روز رہنے سہنے کی اجازت دی،پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں وہاں سے بھی نکال دیا،اس طرح حضور انور کی یہ خواہش رب نے پوری فرمادی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

لَيْسَ فِيهِ إِلَّا حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ «لَا تَكُونُ قِبْلَتَانِ» وَقَدْ مَرَّ فِي بَاب الْجِزْيَة

اس میں صرف حضرت ابن عباس کی ہی روایت ہے کہ دو قبلہ نہ ہوں اور وہ جزیہ کے باب میں گزر گئی ۱؎

۱؎ یعنی مصابیح میں وہ حدیث یہاں ہی تھی اور دوسری فصل میں صرف وہ ایک ہی حدیث تھی ہم نے اسے باب الجزیہ میں بیان کردیا،اگر یہاں بھی لاتے تو مکرر ہوجاتی اس لیے ہم یہاں نہ لائے اور دوسری فصل حدیث سے خالی رہی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

4054 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَجْلَى الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَى أَهْلِ خَيْبَرَ أَرَادَ أَنْ يُخْرِجَ الْيَهُودَ مِنْهَا وَكَانَتِ الْأَرْضُ لَمَّا ظُهِرَ عَلَيْهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فَسَأَلَ الْيَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتْرُكَهُمْ عَلَى أَنْ يَكْفُوا الْعَمَلَ وَلَهُمْ نِصْفُ الثَّمَرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نُقِرُّكُمْ على ذَلِك مَا شِئْنَا» فَأُقِرُّوا حَتَّى أَجْلَاهُمْ عُمَرُ فِي إِمارته إِلى تَيماءَ وأريحاء

روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ حضرت عمر ابن خطاب نے یہودونصاریٰ کو حجاز کی زمین سے نکال دیا ۱؎ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب خیبر والوں پر غالب ہوئے تھے تو وہاں سے یہود کو نکالنا چاہا تھا ۲؎ جب حضور اس پر غالب ہوئے تو وہ زمین اﷲ رسول اور سارے مسلمان کی تھی۳؎ تب یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے یہ سوال کیا کہ انہیں یہاں ہی چھوڑ دیں اس شرط پر کہ وہ لوگ کام کاج کریں اور مسلمانوں کے لیے آدھے پھل ہوں۴؎ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ہم تم کو اس ہی شرط پر رکھتے ہیں جب تک چاہیں چنانچہ وہ قائم رہے حتی کہ ان کو حضرت عمر نے اپنی خلافت میں تیما اور اریحا کی طرف جلاوطن کردیا ۵؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To