Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب الصلح

صلح کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ صلح و صلاح بھی  بمعنی درستی و مصالحت ہے،اس کا مقابل فساد ہےبمعنی لڑائی و جھگڑا۔حربی کفار سے صلح جائز ہے بشرطیکہ اس میں مسلمانوں کی مصلحت ہو۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے     ۶ھ؁ میں کفار مکہ سے مقام حدیبیہ میں صلح فرمالی جس میں منجملہ شرائط کے ایک شرط یہ بھی تھی کہ دس سال تک ہم سے تم سے جنگ نہ ہو مگر کفار مکہ نے اس صلح نامہ کی ایک شرط توڑ دی کہ انہوں نے اپنے حلیف بنی بکر کی مدد کی حضور کے حلیف بنی خزاعہ کے مقابل اس لیے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان پر حملہ کر کے مکہ معظمہ فتح فرمایا۔

4042 -[1]

عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَا: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَ وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ وَسَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالثَّنِيَّةِ الَّتِي يُهْبَطُ عَلَيْهِمْ مِنْهَا بَرَكَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ فَقَالَ النَّاسُ: حَلْ حَلْ خَلَأَتِ القَصْواءُ خلأت الْقَصْوَاء فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا خَلَأَتِ الْقَصْوَاءُ وَمَا ذَاكَ لَهَا بِخُلُقٍ وَلَكِنْ حَبَسَهَا حَابِسُ الْفِيلِ» ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَسْأَلُونِي خُطَّةً يُعَظِّمُونَ فِيهَا حُرُمَاتِ اللَّهِ إِلَّا أَعْطَيْتُهُمْ إِيَّاهَا» ثُمَّ زَجَرَهَا فَوَثَبَتْ فَعَدَلَ عَنْهُمْ حَتَّى نَزَلَ بِأَقْصَى الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَدٍ قَلِيلِ الْمَاءِ يَتَبَرَّضُهُ النَّاسُ تَبَرُّضًا فَلَمْ يَلْبَثْهُ النَّاسُ حَتَّى نَزَحُوهُ وَشُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَطَشَ فَانْتَزَعَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ثُمَّ أَمَرَهُمْ أَنْ يَجْعَلُوهُ فِيهِ فو الله مَا زَالَ يَجِيشُ لَهُمْ بِالرِّيِّ حَتَّى صَدَرُوا عَنْهُ فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ بُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ الخزاعيُّ فِي نفَرٍ منْ خُزَاعَةَ ثُمَّ أَتَاهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: إِذْ جَاءَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْتُبْ: هَذَا مَا قَاضَى عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ". فَقَالَ سُهَيْلٌ: وَاللَّهِ لَوْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ مَا صَدَدْنَاكَ عَنِ الْبَيْتِ وَلَا قَاتَلْنَاكَ وَلَكِنِ اكْتُبْ: مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَاللَّهِ إِنِّي لَرَسُولُ اللَّهِ وَإِنْ كَذَّبْتُمُونِي اكْتُبْ: مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ " فَقَالَ سُهَيْلٌ: وَعَلَى أَنْ لَا يَأْتِيَكَ مِنَّا رَجُلٌ وَإِنْ كانَ على دينِكَ إِلاَّ ردَدْتَه علينا فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قَضِيَّةِ الْكِتَابِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: «قُومُوا فَانْحَرُوا ثُمَّ احْلِقُوا» ثُمَّ جَاءَ نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا جاءكُم المؤمناتُ مهاجِراتٌ)الْآيَةَ. فَنَهَاهُمُ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يَرُدُّوهُنَّ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرُدُّوا الصَّدَاقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَجَاءَهُ أَبُو بَصِيرٍ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ مُسْلِمٌ فَأَرْسَلُوا فِي طَلَبِهِ رَجُلَيْنِ فَدَفَعَهُ إِلَى الرَّجُلَيْنِ فَخَرَجَا بِهِ حَتَّى إِذَا بَلَغَا ذَا الْحُلَيْفَةِ نَزَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ تَمْرٍ لَهُمْ فَقَالَ أَبُو بَصِيرٍ لِأَحَدِ الرَّجُلَيْنِ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى سَيْفَكَ هَذَا يَا فُلَانُ جَيِّدًا أَرِنِي أَنْظُرْ إِلَيْهِ فَأَمْكَنَهُ مِنْهُ فَضَرَبَهُ حَتَّى بَرَدَ وَفَرَّ الْآخَرُ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ يَعْدُو فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ رأى هَذَا ذُعراً» فَقَالَ: قُتِلَ واللَّهِ صَحَابِيّ وَإِنِّي لَمَقْتُولٌ فَجَاءَ أَبُو بَصِيرٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَيْلَ أُمِّهِ مِسْعَرَ حَرْبٍ لَوْ كَانَ لَهُ أَحَدٌ» فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عَرَفَ أَنَّهُ سَيَرُدُّهُ إِلَيْهِمْ فَخَرَجَ حَتَّى أَتَى سِيفَ الْبَحْرِ قَالَ: وَانْفَلَتَ أَبُو جَنْدَلِ بْنُ سُهَيْلٍ فَلَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ فَجَعَلَ لَا يَخْرُجُ مِنْ قُرَيْشٍ رَجُلٌ قَدْ أَسْلَمَ إِلَّا لَحِقَ بِأَبِي بَصِيرٍ حَتَّى اجْتَمَعَتْ مِنْهُمْ عِصَابَةٌ فو الله مَا يَسْمَعُونَ بِعِيرٍ خَرَجَتْ لِقُرَيْشٍ إِلَى الشَّامِ إِلَّا اعْتَرَضُوا لَهَا فَقَتَلُوهُمْ وَأَخَذُوا أَمْوَالَهُمْ فَأَرْسَلَتْ قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُنَاشِدُهُ اللَّهَ وَالرَّحِمَ لَمَّا أَرْسَلَ إِلَيْهِمْ فَمَنْ أَتَاهُ فَهُوَ آمِنٌ فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم إِلَيْهِم. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے مسور ابن مخرمہ سے اور مروان ابن حکم سے ۱؎ دونوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم حدیبیہ کے سال چند اور دس سو صحابہ کی جماعت میں تشریف لے گئے۲؎  تو جب ذوالحلیفہ پہنچے تو ہدی کو ہار پہنایا اور اشعار کہا۳؎  اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھا اور چلے حتی کہ جب اس پہاڑی پر پہنچے جہاں سے مکہ والوں پر اتراجاتا ہے۴؎ تو آپ کو لےکر آپ کی سواری بیٹھ گئی تو لوگ بولے اٹھ اٹھ قصواء اڑیل ہوگئی قصواء اڑیل ہوگئی ۵؎ تب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ قصواء اڑیل نہیں ہوگئی  نہ اس کی یہ عادت ہے لیکن اسے ہاتھیوں کے روکنے والے نے روک لیا ۶؎  پھر فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ وہ مجھ سے کوئی مطالبہ ایسا نہ کریں گے جس میں اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کریں گے مگر میں انہیں دے دوں گا ۷؎ پھر اسے ڈانٹا تو وہ کود کر اٹھی پھر حضور نے ان سے عدول فرمایا ۸؎ حتی کہ حدیبیہ کے کنارہ اترے تھوڑے پانی والی جگہ پر کہ وہاں سے لوگ تھوڑا تھوڑا پانی لیتے تھے ۹؎ تو نہ چھوڑا اسے لوگوں نے حتی کہ اسے خشک کردیا  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں پیاس کی شکایت کی ۱۰؎  تو حضور نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا پھر انہیں حکم دیا کہ یہ اس کنوئیں میں ڈال دیں ۱۱؎ تو اﷲ کی قسم وہ کنواں پانی سے جوش مارتا رہا حتی کہ وہ لوگ وہاں سے لوٹ گئے ۱۲؎ وہ اس حال میں تھے کہ بدیل ابن ورقاء خزاعی  خزاعہ کی ایک جماعت حضور کے پاس آئی۱۳؎ پھر آپ کے پاس عروہ ابن مسعود آیا ۱۴؎  حدیث پوری بیان کی  یہاں تک کہا کہ جب سہیل ابن عمرو  آیا ۱۵؎  تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ لکھو یہ وہ صلح نامہ ہے جس پر اللہ کے رسول محمد نے فیصلہ فرمایا ۱۶؎  تو سہیل بولا خدا کی قسم اگر ہم آپ کو اﷲ کا رسول جانتے تو آپ کو بیت اللہ سے نہ روکتے نہ آپ سے جنگ کرتے لیکن آپ یوں لکھیں محمد ابن عبداﷲ ۱۷؎ راوی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا واللہ میں رسول اللہ ہوں  اور اگر تم جھٹلاتے ہی ہو تو لکھ لو محمد ابن عبداللہ ۱۸؎  پھر سہیل بولا کہ اس شرط پر صلح ہے کہ ہم میں سے کوئی آدمی آپ کے پاس نہ آوے اگرچہ آپ کے دین پر ہو مگر آپ اسے ہماری طرف لوٹا دیں ۱۹؎ جب لکھت پڑھت کے جھگڑے سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنے اصحاب سے قربانیاں کرو پھر سر منڈواؤ۲۰؎  پھر کچھ عورتیں مؤمنہ آئیں تو اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری،اے ایمان والو! جب تمہارے پاس مؤمن عورتیں ہجرت کرکے آئیں الخ،چنانچہ انہیں اللہ تعالٰی نے ان عورتوں کے واپس کرنے سے منع فرمادیا ۲۱؎  اور یہ حکم دیا کہ ان کے مہر واپس کردیں۲۲؎  پھر حضور مدینہ واپس ہوئے تو آپ کی خدمت میں ایک قرشی شخص ابو بصیر مسلمان ہوکر آئے۲۳؎  مکہ والوں نے ان کے طلب کے لیے دو شخص بھیجے حضور نے انہیں ان دوشخصوں کے حوالہ کردیا وہ انہیں لےکر نکلے حتی کہ جب ذوالحلیفہ پہنچے تو اپنی کھجوریں کھانے کے لیے اترے۲۴؎  تو ابو بصیر نے ان میں سے ایک سے کہا اے فلاں خدا کی قسم میں تیری اس تلوار کو بہت ہی اچھی دیکھ رہا ہوں مجھے دکھا تو میں اسے دیکھوں اس نے انہیں تلوار پر قابو دے دیا انہوں نے اسے مار دیا حتی کہ وہ ٹھنڈا ہوگیا  اور دوسرا بھاگ گیا ۲۵؎  حتی کہ مدینہ پہنچا دوڑتا ہوا مسجد میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس نے کوئی سخت ڈر دیکھا ہے ۲۶؎  وہ بولا واللہ میرا ساتھی تو قتل کردیا گیا اور میں بھی قتل ہوجاؤں گا۲۷؎  اتنے میں ابوبصیر آگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس کی ماں کی خرابی ہے ۲۸؎  اگر اس کا کوئی مددگار ہو تو یہ جنگ بھڑکاوے۲۹؎  انہوں نے جب یہ سنا تو پہچان گئے کہ حضور انہیں مکہ والوں کے حوالہ کردیں گے ۳۰؎  تو یہ نکل کھڑے ہوئے حتی کہ سمندر کنارہ آگئے ۳۱؎ فرماتے ہیں کہ ادھر ابوجندل ابن سہیل چھوٹ گئے تو ابوبصیر سے مل گئے۳۲؎ پھر قریش کا کوئی آدمی جو مسلمان ہوجاتا وہ نہ نکلتا مگر ابوبصیر سے مل جاتا ۳۳؎ تاآنکہ ان کی ایک جماعت جمع ہوگئی پھر تو خدا کی قسم یہ لوگ نہ سنتے قریش کے کسی قافلہ کو جو شام کی طرف نکلتا مگر یہ اس کے آڑ ہوتے انہیں قتل کردیتے اور ان کے مال لے لیتے ۳۴؎ تب قریش نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف پیغام بھیجا جس میں وہ حضور کو اﷲ تعالٰی کی قسم قرابت داری کا واسطہ دینے لگے کہ حضور انہیں بلا بھیجیں اب جو آپ کے پاس آئے اسے امان ہے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں بلا بھیجا ۳۵؎ (بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To