Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

ملاقات کی،   ۶۲ھ؁ باسٹھ ہجری میں کوفہ میں وفات پائی،جنگ صفین میں حضرت علی کے ساتھ تھے،آپ نے حضرت علی کی بڑی امداد کی رضی اللہ عنہم،حضرت علی کی وفات کے بعد امیر معاویہ نے ان کا بڑا احترام کیا۔(مرقات،اشعہ)

۳؎  مجوس اپنی بہن بیٹی وغیرہ سے نکاح کرلیتے تھے،حضرت عمر نے حکم دیا کہ انہیں ایسا نہ کرنے دو اور جس مجوسی کے نکاح میں اس کی بہن بیٹی ہو انہیں علیٰحدہ کردیا جائے کہ یہ اگرچہ ان کے دین میں جائز ہے اور ذمی کفار کو مذہبی آزادی ہے مگر یہ حرکت انسانیت کے خلاف  ہے   اس لیے انہیں اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

۴؎  ہجر یمن کا ایک شہر بھی ہے اور مدینہ منورہ کے قریب ایک بستی بھی اور بحرین کا ایک گاؤں بھی جہاں کے گھڑے مٹکے مشہور ہیں وہ مدینہ پاک کے پاس والا ہجر ہے اور یہاں بحرین والا ہجر مراد ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ عرب کے اہل کتاب سے جزیہ لیا جاسکتا ہے اور مجوس اہل کتاب نہیں لہذا ان سے جزیہ نہ لیا جائے مگر جب آپ کو یہ حدیث پہنچی تب آپ نے ان سے جزیہ قبول فرمایا۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ مجوسی بھی اہل کتاب ہیں ان کی کتاب ان سے اٹھالی گئی۔(مرقات)

۵؎ یعنی لمعات میں وہ حدیث اس جگہ تھی ہم نے مناسبت کے لحاظ سے اس باب میں نقل کردی اور یہاں بیان کی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

4036 -[2]

عَنْ مُعَاذٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ يَعْنِي مُحْتَلِمٍ دِينَارًا أَوْ عَدْلَهُ مِنَ الْمَعَافِرِيِّ: ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيمن. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت معاذ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ ہر بالغ یعنی احتلام والے سے ایک دینار یا اس کی برابر معافری ۱؎ یعنی معافری وہ کپڑا ہے جو یمن میں ہوتا ہے ۲؎ (ابوداؤد)

۱؎ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جزیہ صرف ذمی مرد عاقل بالغ سے لیا جائے گاعورت،بچے،دیوانہ پر جزیہ نہیں،اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے۔یوں ہی اندھے،بے دست و پا،فالج زدہ،بہت بوڑھے ذمی پر جزیہ نہیں،نیز جو فقیر کمائی کے قابل نہ ہو اس پر جزیہ نہیں، اس میں امام شافعی کا اختلاف ہے۔حضرت عمر نے جب عثمان ابن حنیف کو حاکم بناکر بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ فقیر ذمی سے جزیہ نہ لیں،نیز حضرت عمر نے ایک بوڑھے ذمی کو بھیک مانگتے دیکھا تو پوچھا تو کیوں بھیک مانگتا ہے وہ بولا مجھ پر جزیہ لازم ہے اس کی ادائیگی کے لیے مانگتا ہوں تب آپ نے اپنے احکام کو لکھا کہ بوڑھے ذمیوں سے جزیہ نہ لیں،یوں ہی ذمی غلام مکاتب مدبر ام ولد پر جزیہ نہیں،ان کے راہبوں پر بھی جزیہ نہیں۔(مرقات)یہ حدیث بظاہر امام شافعی کی دلیل ہے کہ ہر ذمی پر جزیہ واجب ہے غنی ہو یا فقیر مگر ہمارے ہاں یہ حدیث عام مخصوص البعض ہے جس سے فقراء ذمی علیٰحدہ ہیں یا اس قوم سے صلح اس پر ہی ہوئی ہوگی کہ ہر بالغ پر جزیہ ہویا اتفاقًا اس قوم میں تمام امیر ہوں گے کوئی فقیر نہ ہوگا جیسے آج خوجے اور جوہری کہ ان میں کوئی فقیر نہیں۔

۲؎  معافر یمن میں ایک بستی ہے،چونکہ اسے معافر ابن یعفر نے بسایا تھا لہذا معافر کہلاتی ہے وہاں کا کپڑا بہت مشہور ہے جیسے ہمارے ہاں ڈھاکہ کی ململ۔

4037 -[3]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَاحِدَةٍ وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ جِزْيَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ایک زمین میں دو قبلے مناسب نہیں ۱؎ اور مسلمان پر جزیہ نہیں۲؎ (احمد، ترمذی،ابوداؤد)

 



Total Pages: 807

Go To