Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب الجزیۃ

جزیہ کابیان   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ جزیہ بنا ہے جزاءٌ سے بمعنی بدلہ،جزیہ بدلہ کا مال۔شریعت میں جزیہ وہ ٹیکس ہے جوسلطانِ اسلام کافر رعایا سے وصول کرتا ہے،ان کی جان و مال کی حفاظت کے بدلہ میں یہ جزیہ نہایت معمولی رقم ہے۔مسلمانوں سے زکوۃ وصول کی جاتی ہے جو کہیں زیادہ ہے،یوں ہی مسلمانوں پر فطرہ ،قربانی سب کچھ واجب ہے جو کفار پر نہیں۔آج جزیہ پر اعتراض کرنے کی بجائے مروجہ ٹیکسوں کی بھرمار کو دیکھیں کہ بہتّر۷۲ روپیہ فی سینکڑہ تک مختلف ٹیکسوں کے ذریعہ رعایا سے وصول کیا جاتا ہے۔جزیہ دو قسم کا ہے:ایک وہ جس پر ذمی کفار سے صلح ہوجائے وہ جزیہ بقدر مصالحت ہی رہے گا۔چنانچہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم نے نجران کے عیسائیوں سے دو ہزار جوڑے سالانہ پر صلح فرمائی تھی ایک ہزار جوڑے ماہ صفر میں اور ایک ہزار ماہ رجب میں،حضرت عمر نے بنی تغلب کے عیسائیوں سے یہ صلح فرمائی تھی کہ مسلمانوں سے وصول رقم سے دوگنی ادا کریں۔دوسرا وہ جزیہ جو سلطان اسلام خود مقرر فرماوے اس کے لیے شرعی قانون یہ ہے کہ مالدار ذمیوں پر سالانہ اڑتیس درہم یعنی چار درہم ماہوار(سوا روپیہ)درمیانہ حیثیت کے کفار پر  چوبیس دررہم دو  درہم ماہوار(آٹھ آنہ)غریب کفار پر بارہ درہم سالانہ ایک درہم ماہوار(چار آنہ)یہ ہی مذہب احناف ہے،امام شافعی کے ہاں ہر بالغ کافر پر بارہ درہم سالانہ،امام مالک کے ہاں مالدار کافر سے چار دینار یعنی اڑتالیس درہم سالانہ اور فقیر سے دس درہم سالانہ ،امام احمد کا ہاں جزیہ مقرر نہیں ،امام  اور ذمی رعایا جس پر صلح کرلیں وہ ہی مقرر ہوگا۔(مرقات)لیجئے یہ ہے وہ جزیہ جس پر موجودہ عیسائیوں اور ہندو وغیرہ شور مچارہے ہیں کہ اسلام نے ذمی کفار پر جزیہ مقرر کرکے ظلم کردیا۔

4035 -[1]

عَن بَجالَةَ قَالَ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ: فَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هجَرَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ وذُكرَ حديثُ بُريدةَ: إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ فِي «بَابِ الْكتاب إِلى الْكفَّار»

 روایت ہے حضر ت مجالہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں احنف کے چچا جزءابن معاویہ کاتب تھا ۲؎  ہمارے پاس حضرت عمر ابن خطاب کا تحریری فرمان آیا ان کی وفات سے ایک سال پہلے کہ مجوسی کے ہر رحمی قرابت دار کے درمیان جدائی کردو۳؎ اور حضرت عمر نے مجوس سے جزیہ نہ لیا تھا یہاں تک کہ عبدالرحمان ابن عوف نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجر کے مجوس سے جزیہ وصول فرمایا تھا۴؎(بخاری)اور بریدہ کی حدیث اذا امر امیر الخ کتاب الکفار کے باب میں بیان کر دی گئی۵؎

۱؎ مجالہ کے میم کے فتح جیم کے فتح سے،تابعی ہیں،آپ کا نام مجالہ ابن عبدتمیمی مکی  ہے،ثقہ ہیں،حضرت عمران ابن حصین صحابی سے ملاقات ہے۔

۲؎  جزء ابن معاویہ جیم کے فتحہ ز کے سکون سے،یہ تابعی ہیں،تمیمی ہیں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے مقام اہواز کے حاکم تھے اور احنف ابن قیس تابعی ہیں،انہوں نے حضور کا زمانہ پایا مگر ملاقات نہیں کی،بڑے عالم متقی حضرت عمرو عثمان علی و عباس سے



Total Pages: 807

Go To