Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3999 -[15]

وَعَن ابْن عمر قَالَ: كُنَّا نُصِيبُ فِي مَغَازِينَا الْعَسَلَ وَالْعِنَبَ فنأكله وَلَا نرفعُه رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ اپنے جہاد میں شہد انگور پاتے تھے تو کھالیتے تھے اور اسے پیش نہ کرتے تھے ۱؎(بخاری)

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ غازی میدان جنگ میں کفار سے حاصل کیا ہوا کھانا،دودھ،گھی،پھل،روٹی،گوشت وغیرہ بقدر ضرورت کھا سکتا ہے اس کے لیے امیر جہاد سے اجازت لینا ضروری نہیں،یوں ہی دوائیں استعمال کرسکتا ہے،اپنے جانور کو اس مال سے چارہ دے سکتا ہے مگر ذخیرہ کرکے اپنے گھر میں نہیں لاسکتا،یوں ہی جنگ کے ہتھیار استعمال کرسکتا ہے مگر وہ بعد استعمال غنیمت میں واپس کرنے ہوں گے،یوں ہی ٹھنڈے گرم کپڑے ضرورۃً پہن سکتا ہے مگر یہ بھی بعد میں غنیمت میں شامل کردینا ہوں گے،اگر یہ چیزیں استعمال سے خراب یا ہلاک ہوجائیں تو ان کا تاوان اس غازی پر نہیں،یوں ہی ضرورۃً کفار سے حاصل کیے ہوئے جانور ذبح کرکے کھا سکتا ہے مگر انکی کھال غنیمت میں شامل کرنا ہوگی۔اس کی تفصیل کتب فقہ میں اور مرقات میں دیکھو۔مگر یہ اجازت غازیوں کے لیے ہے جو تجار یا خدمت گار ان کے ساتھ گئے ہیں انہیں اس کی اجازت نہیں لیکن اگر وہ بھی استعمال کرلیں تو ان پر ضمان نہیں۔

4000 -[16] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: أَصَبْتُ جِرَابًا مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَالْتَزَمْتُهُ فَقُلْتُ: لَا أُعْطِي الْيَوْمَ أَحَدًا مِنْ هَذَا شَيْئًا فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يبتسم إِلَيّ. مُتَّفق عَلَيْهِ. وَذكر الحَدِيث أَبِي هُرَيْرَةَ «مَا أُعْطِيكُمْ» فِي بَابِ «رِزْقِ الْوُلَاة»

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مغفل سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ خیبر کے دن میں نے ایک چربی کا تھیلا پایا تو میں اسے لپٹ گیا میں نے کہا کہ آج میں اس میں سے کسی کو کچھ نہ دوں گا ۲؎ پھر میں نے ادھر ادھر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میری طرف مسکرا رہے تھے ۳؎ (مسلم،بخاری) حضرت ابوہریرہ کی حدیث ما اعطیکم الخ حکام کی روزی کے باب میں ذکر کردی گئی۴؎

۱؎ آپ صحابی ہیں،اصحاب صفہ سے ہیں،مزنی ہیں،مدینہ منور ہ میں رہے،خلافت فاروقی میں دس فقہاء بصرہ بھیجے گئے لوگوں کو علم دین سکھانے کے لیے ان میں آپ بھی تھے،وہاں ہی   ۶۰ھ؁ میں وفات پائی،خواجہ حسن بصری فرماتے ہیں کہ بصرہ میں ان سے بہتر کوئی نہ ہوا۔

۲؎ غالبًا اس وقت آپ کو اس کی سخت ضرورت تھی اس لیے مجبوری میں یہ لفظ آپ کے منہ سے نکلا ورنہ حضرات صحابہ اپنی ضروریات پر دوسروں کو مقدم رکھتے تھے"وَ یُؤْثِرُوۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ"۔

۳؎ یعنی حضور انور نے مجھے اس ارادے سے اور اس قبضہ سے روکا نہیں بلکہ تبسم فرمایا جس سے اجازت معلوم ہوئی کیونکہ کسی عمل کو دیکھ کر منع نہ فرمانا اجازت کی علامت ہے،محدثین اسے سنت سکوتی کہتے ہیں۔

۴؎ یعنی یہ حدیث مصابیح میں مکرر تھی کتاب القضا باب رزق ولاۃ میں بھی تھی اور یہاں بھی،میں نے صرف وہاں بیان کی یہاں سے اُڑا دی۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

4001 -[17]

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَنِي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ أَوْ قَالَ: فَضَّلَ أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ وأحلَّ لنا الْغَنَائِم ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوامامہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ اﷲ نے مجھے تمام نبیوں پر بزرگی دی ۱؎  یا فرمایا کہ میری امت تمام امتوں پر بزرگی دی گئی ۲؎  اور ہمارے لیے غنیمتیں حلال فرمادیں۳؎ (ترمذی)

 



Total Pages: 807

Go To