Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3946 -[10]

وَعَن أبي أَسِيدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا يَوْمَ بَدْرٍ حِينَ صَفَفَنَا لِقُرَيْشٍ وَصَفُّوا لَنَا: «إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالنَّبْلِ».وَفِي رِوَايَةٍ: «إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَحَدِيث سعد: «هُوَ تُنْصَرُونَ» سَنَذْكُرُهُ فِي بَابِ «فَضْلِ الْفُقَرَاءِ» . وَحَدِيثُ الْبَرَاءِ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا فِي بَابِ «الْمُعْجِزَاتِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

روایت ہے حضرت ابی اسید سے ۱؎  کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ہم سے بدر کے دن فرمایا ۲؎  جب کہ ہم نے قریش کے مقابل صفیں باندھیں ۳؎  اور انہوں نے ہمارے مقابل صف آرائی کی کہ جب تم سے قریب ہوں تو تیر لو۴؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ جب وہ تم سے قریب ہوں تو انہیں تیرمارو اور اپنے تیر باقی رکھو ۵؎(بخاری)اور حضرت سعد کی حدیث ھل تنصرون الخ باب فضل الفقراء میں ہم بیان کریں گے اور حضرت براء کی حدیث بعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم الخ(ان شاءالله)باب المعجزات میں ہم بیان کریں گے ۶؎

۱؎ آپ مالک ابن ربیعہ انصاری ساعدی۔(اشعہ)تمام غزوات میں حاضر ہوئے،اٹھہتر سال کی عمر پائی ۶۰ساٹھ ہجری میں وفات پائی،آپ سے بہت حضرات نے احادیث نقل کیں۔

۲؎ یعنی جب کفار قریش تم سے اتنے قریب ہوجائیں کہ تمہارے تیر ان تک پہنچ سکیں تو تیر استعمال کرو بہت دور ہوں تو استعمال نہ کرنا کہ اس میں تیر ضائع ہوجائیں گے۔سہمدرمیانی تیر کو کہتے ہیں،بہت لمبے تیر کو نشاب کہا جاتا ہے،کثب کے معنی ہیں قرب۔(مرقات واشعہ)

۳؎  یعنی سارے تیر استعمال کرکے خود خالی نہ ہوجاؤ کہ کیا خبر کب تیروں کی ضرورت پڑجاوے۔اب بھی لڑائیوں میں ان دونوں قانون پر عمل ہوتا ہے کہ دشمن زد میں ہوجاوے تب گولہ باری کی جاتی ہے اور سارے گولے خرچ نہیں کردیئے جاتے سامان جنگ محفوظ رکھا جاتا ہے۔

۴؎ یعنی یہ دونوں حدیثیں مصابیح میں یہاں ہی تھیں ہم مناسبت کا خیال کرتے ہوئے پہلی حدیث تو باب الفقراء میں بیان کریں گے اور دوسری حدیث باب المعجزات میں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3947 -[11]

عَن عبدِ الرَّحمنِ بن عَوفٍ قَالَ: عَبَّأَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ببدر لَيْلًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عبدالرحمان بن عوف سے فرماتے ہیں کہ بدر میں رات کے وقت ہم کو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تیار فرمایا ۱؎ (ترمذی)

۱؎  جب صبح کو جنگ بدر ہونے والی تھی تو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے رات کے وقت ہم لوگوں کو مقامات پر مقرر کیا،سامان جنگ استعمال کرنے کا طریقہ سکھایا ترتیب دیا،غرضیکہ جنگی ضروریات پر ہم کو واقف فرمایا۔عباء کے معنی ہیں لشکر جمع کرنا اور لشکر کو تیار کرنا۔

3948 -[12]

وَعَن الْمُهلب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنْ بَيَّتَكُمُ الْعَدُوُّ فَلْيَكُنْ شِعَارُكُمْ: حم لَا ينْصرُونَ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت مہلب سے ۱؎  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر دشمن تم پر شب خون مارے تو تمہارا نشان ۲؎ حم لاینصرون۳؎ (ترمذی،ابوداؤد)

 



Total Pages: 807

Go To