Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3155 -[16]

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: أنكحت عَائِشَة ذَات قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَهَدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟» قَالُوا: نعم قَالَ: «أرسلتم مَعهَا من تغني؟» قَالَتْ: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ فَلَوْ بَعَثْتُمْ مَعَهَا مَنْ يَقُولُ:أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فحيانا وحياكم ". رَوَاهُ ابْن مَاجَه

 روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ جناب عائشہ نے اپنے ایک قرابت دار انصاری کا نکاح کیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے فرمایا کیا تم نے لڑکی کو بھیج دیا ۱؎ عرض کیا ہاں فرمایا کیا اس کے ساتھ اس کو بھیجا جو گیت گائے بولیں نہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انصار ایسی قوم ہے جس میں غزل خوانی کا رواج ہے ۲؎ تم اس کے ساتھ بھیجتیں جو کہتا ہم آگئے ہم آگئے اﷲ ہم کو بھی اور تم کو بھی زندگی دے ۳؎(ابن ماجہ)

۱؎ یعنی صرف نکاح کیا ہے یا رخصت بھی کردی اور لڑکی خاوند کے پاس بھیج بھی دی۔

۲؎ معلوم ہوتا ہے کہ مہاجر ین مکہ میں شادی کے موقعہ پر گیت و غزل کا رواج نہ تھا انصار مدینہ میں رواج تھا۔

۳؎ یہ وہ پاکیزہ گیت ہیں جن کی اجازت دی گئی تھی گیت کیا ہے حمد الٰہی ہے تبلیغ ہے دعا ہے اور پیاروں سے ملنے پر خوشی کا اظہار ہے ایسے اشعار تو ایک طرح عبادت ہیں ان احادیث کی بنا پر اس زمانہ کے فلمی گانوں کا جواز ثابت کرنا سخت حماقت ہے اور منکرین حدیث کا انکار کرنا جہالت ہے۔

3156 -[17]

وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا وَمَنْ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي

روایت ہے حضرت سمرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس عورت کا نکاح دو ولی کردیں تو وہ ان دونوں میں سے پہلے کے لیے ہوگی۱؎ اور دو شخصوں کے ہاتھ چیز فروخت کردے تو وہ ان دونوں میں پہلے کی ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد، نسائی، دارمی)۳؎

۱؎ یعنی جس عورت بالغہ یا نابالغہ کا نکاح ایک درجہ والے دو والی جیسے دو بھائی یا دو چچا بے خبری میں یا با خبر ہوتے ہوئے دو شخصوں سے کردیں تو ان میں سے پہلا نکاح درست ہے دوسرا باطل اگرچہ دوسرے خاوند نے صحبت بھی کرلی ہو اس پر فتویٰ ہے۔عطا فرماتے ہیں اگر دوسرے نے صحبت کرلی ہو تو یہ ہی نکاح درست ہے پہلا باطل امام شافعی کے ہاں دونوں نکاح باطل ہیں کہ منعقد ہوتے ہی نہیں پھر صحبت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔(مرقات) یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ دونوں نکاح آگے پیچھے ہوئے ہوں لیکن اگر اتفاقًا بیک وقت ہوگئے تو ہمارے ہاں بھی دونوں باطل ہیں اس مسئلہ کی بہت شقیں ہیں جو کتب فقہ میں مذکور ہیں اگر بالغہ کا نکاح اس کی بغیر اجازت دو ولیوں نے کیا تو جسے بالغہ درست رکھے وہی درست ہے اگر دونوں کو درست رکھے تو جس کی اجازت پہلے دی وہ درست ہے اور اگر ایک ساتھ دونوں کی اجازت دی تو دونوں باطل ہیں۔

۲؎ اس کی بھی دو صورتیں ہیں اگر کسی نےایک چیز آگے پیچھے دوکے ہاتھ فروخت کی تو پہلی بیع درست ہے،دوسری باطل اور اگرایک ساتھ دو کے ہاتھ بیچی اور دونوں گاہکوں نے بیک وقت قبول کی تو دونوں بیع درست ہیں اور وہ چیز دونوں کی مشترک ہوگی۔

۳؎ یہ حدیث احمد،ابن ماجہ اور حاکم نے بھی روایت کی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3157 -[18] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَنَا نِسَاءٌ فَقُلْنَا: أَلَا نَخْتَصِي؟ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا أَنْ نَسْتَمْتِعَ فَكَانَ أَحَدُنَا يَنْكِحُ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى أَجَلٍ ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ)

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کرتے تھے ہمارے ساتھ بیویاں نہ تھیں تو ہم نے عرض کیا کیا ہم خصی ہوجائیں۱؎ اس سے ہم کو منع فرمایا ۲؎ پھر ہم کو متعہ کرلینے کی اجازت دی ۳؎ تو ہم میں سے ایک کسی عورت سے کپڑے کے عوض ایک وقت تک نکاح کرلیتا تھا ۴؎ پھر عبداﷲ نے یہ آیت پڑھی اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ جانو جو اﷲ نے تمہارے لیے حلال کیں ۵؎ (مسلم بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To