Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب الکتاب الی الکفار و دعائھم الی الاسلام

کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا   ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  جب حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم صلح حدیبیہ سے واپس مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے شاہ روم قیصر اور شاہ فارس کسریٰ وغیرہم کو دعوت نامہ لکھنے کا ارادہ فرمایا کہ انہیں دعوت اسلام دیں تو واقف کار صحابہ کرام نے عرض کیا یہ بادشاہ بغیر مہر والے خط کو نہیں پڑھا کرتے تب حضور انور نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس میں نقش کروایا "محمد رسول الله"یوں کہ پہلے محمد پھر اس کے اوپر رسول پھر اس کے اوپر اﷲ اور ان سلاطین کو فرامین لکھے جیساکہ ابھی احادیث میں آرہا ہے۔مہر والی انگوٹھی بادشاہ،قاضی اور مفتی کے لیے سنت ہے۔(ازمرقات)

3926 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى قَيْصَرَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ وَبَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَيْهِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى لِيَدْفَعَهُ إِلَى قَيْصَرَ فَإِذَا فِيهِ: " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلَامٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أدْعوكَ بداعيَةِ الْإِسْلَامِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجَرَكَ مَرَّتَيْنِ وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَعَلَيْكَ إِثْمُ الْأَرِيسِيِّينَ وَ (يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَن لَا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا: اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ)مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ قَالَ:مِنْ محمَّدٍ رسولِ اللَّهِ " وَقَالَ: «إِثمُ اليريسيِّينَ» وَقَالَ: «بِدِعَايَةِ الْإِسْلَام»

روایت ہے حضرت ابن عباس کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے قیصر کو فرمان لکھا اسے دعوت اسلام دیتے ہوئے ۱؎  اور دحیہ کلبی کو اپنا خط دے کر اس کی طرف بھیجا ۲؎ اور انہیں حکم دیا کہ یہ خط بصریٰ کے حاکم کو دے دیں۳؎ تاکہ وہ قیصر کو پہنچادیں۴؎  تو اس میں یہ تھا شروع کرتا ہوں اﷲ کے نام سے جو مہربان رحم والا ہے ۵؎  یہ خط اﷲ کے بندے اور اس کے رسول کی طرف سے سلطان روم ہرقل کے طرف ہے ۶؎  اس پر سلامتی ہو جو ہدایت کی اتباع کرے ۷؎  اس کے بعد میں تم کو دعوت اسلام سے بلاتا ہوں ۸؎  اسلام قبول کرلو سلامت رہو گے اللہ تم کو ڈبل ثواب دے ۹؎ اور اگر تم نے منہ پھیرا تو تم پر تمام رعایا کا گناہ ہے۱۰؎ اور اے اہل کتاب ایسی بات کی طرف آؤ ہمارے تمہارے درمیان برابر ہے کہ ہم اﷲ کے سواءکسی کو نہ پوجیں اورکسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں اور ہمارے بعض بعض کو اﷲ کے مقابل رب نہ بنالیں۱۱؎ پھر اگر وہ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ گواہ رہو ہم مسلمان ہیں۱۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں یوں فرمایا کہ یہ فرمان محمد رسول اللہ کی طرف سے ہے اور فرمایا رعایا کا گناہ اور فرمایا اسلام کی دعوت ۱۳؎

۱؎ بادشاہ روم کا لقب اس زمانہ میں قیصر تھا اور بادشاہ فارس کا لقب کسریٰ اوربادشاہ حبشہ کا لقب نجاشی،شاہ ترک کا لقب خاقان ،شاہ قبط کا لقب فرعون، شاہ مصر کا لقب عزیز اور شاہ حمیر کا لقب تبع،شاہ ہند کا لقب سلطان ہوتا تھا۔(نووی،اشعہ،مرقات)حضور انور نے یہ



Total Pages: 807

Go To