Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۲؎ انسیہ یا تو الف کے پیش سے ہے یعنی ا نس و محبت رکھنے والا گدھا یا الف کے کسرہ سے یعنی جسے انسان پالتے ہیں یہ پالتو کی قید وحشی گدھے یعنی گورخر(نیل گائے) کو نکالنے کے لیے ہے کہ وہ ہے حلال ہے اسلام میں پہلے گدھا حلال تھا پھر فتح خیبر کے دن ہمیشہ کے لیے حرام کردیا گیا۔

3148 -[9]

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: رَخَّصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أَوْطَاسٍ فِي الْمُتْعَةِ ثَلَاثًا ثُمَّ نَهَى عَنْهَا. رَوَاهُ مُسلم

 روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوطاس کے سال متعہ کی تین دن اجازت دی پھر اس سے منع فرمادیا  ۲؎ (مسلم)

۱؎ یعنی خیبر میں متعہ حرام کیا گیا تھا پھر ایک سخت ضرورت کے ماتحت جنگ اوطاس میں تین دن کے لیے حلال کیا گیا پھر ہمیشہ کے لیے حرام فرمادیا گیا عرب میں اس قدر زنا عام تھا کہ خدا کی پناہ اسلام کا بڑا معجزہ وہاں زنا بند کرانا ہے ایک دم زنا بند نہ ہوسکتا تھا، اس لیے اس پر پابندی لگانے کے لیے متعہ کی اجازت دی گئی کہ معیادی نکاح کرلو پھر معیاد گزرنے پر نکاح ختم۔اس کے بعد عورت عدت گزارے جس کا خرچہ اور اگر اس نکاح سے بچہ پیدا ہوجائے تو اس کی پرورش اس متاعی مردکے ذمہ، اس پابندی سے بہت حد تک لوگ محتاط ہوگئے پھر ہمیشہ کے لیے متعہ بھی حرام کردیا گیا۔

دیکھو شراب حرام کرنا تھا تو پہلے اس پر پابندی لگائی گئی نشہ میں نماز نہ پڑھو جس سے شراب نوشی بہت حد تک کم ہوگئی پھر ایک دم حرام کردی گئی۔نکاح متعہ قطعًا حرام ہے اس کے بعد جو صحبت ہوگی تو محض زنا ہوگی،جس پر سارے احکام زنا جاری ہوں گے۔متعہ کی حرمت پر قرآنی آیات واحادیث شاہد ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:" مُّحْصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ"اور فرماتا ہے:" فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْعَادُوۡنَ"بیوی و لونڈی کے علاوہ اور کوئی عورت تلاش کرو کہ تم حد سے آگے بڑھنے والے ہو۔ممنوعہ بیوی نہ بیوی ہے نہ لونڈی اس لیے اس کو میراث نہیں ملتی۔اس کی بحث ہماری کتاب فہرست القرآن میں دیکھیئےاور اس جگہ مرقات میں ملاحظہ کیجئے۔ہدایہ میں ہے کہ امام مالک کے ہاں نکاح متعہ حلال ہے اور میعاد کی شرط باطل ہے۔فتح القدیر میں ہےکہ یہ نسبت غلط ہے حق یہ ہےکہ متعہ کی حرمت پر امت رسول کا اجماع ہے۔سیدنا عبد اللہ ابن عباس کو اس کے نسخ کی خبر نہ پہنچی تو اولًا وہ جواز کے قائل رہے خبر پہنچ جانے پر وہ بھی حرمت کے قائل ہوگئے ،دیکھئے مسلم ونووی عبد اللہ ابن عباس کا رجوع۔اس جگہ مرقات میں بھی بیان فرمایا شیعہ کے اکثر فرقے متعہ حرام جانتے ہیں الا البعض۔ (مرقات)حضرت ابن عباس کافرمان آگے مشکوۃ شریف میں بھی آرہا ہے کہ متعہ شروع اسلام میں تھا پھرحرام ہوگیا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3149 -[10]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ فِي الصَّلَاةِ وَالتَّشَهُّدَ فِي الْحَاجَةِ قَالَ: التَّشَهُّدُ فِي الصَّلَاةِ: «التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ». وَالتَّشَهُّدُ فِي الْحَاجَةِ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسنَا من يهد اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» . وَيَقْرَأُ ثَلَاثَ آيَاتٍ (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسلمُونَ)(يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تساءلون وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا)(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيما) رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَفِي جَامِعِ التِّرْمِذِيِّ فَسَّرَ الْآيَاتِ الثَّلَاثَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَزَادَ ابْنُ مَاجَهْ بَعْدَ قَوْلِهِ: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ» وَبَعْدَ قَوْلِهِ: «من شرور أَنْفُسنَا وَمن سيئات أَعمالنَا» وَالدَّارِمِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ «عَظِيمًا» ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِحَاجَتِهِ وَرَوَى فِي شَرْحِ السُّنَّةِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خطْبَة الْحَاجة من النِّكَاح وَغَيره

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں ہم کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اور حاجات میں تشہد سکھایا ۱؎ فرمایا نماز میں تشہد یہ ہے کہ تمام تحیتیں اور نمازیں، خوبیاں اﷲ کو ہیں سلام ہو آپ پر اے نبی ۲؎ اور اﷲ کی رحمت اور اس کی برکتیں سلام ہو ہم پر اور اﷲ کے تمام نیک بندوں پر ۳؎ میں گواہی دیتا ہوں یہ کہ نہیں ہے کوئی معبود سوا اﷲ کے اور گواہی دیتاہوں کہ بے شک محمد اﷲ کے بندے اوراس کے رسول ہیں۔اور خطبہ حاجت میں یہ ہے کہ تمام حمد اﷲ کو ہے ۴؎ہم اس سے مدد مانگتے ہیں ۵؎ اور اس سے معافی مانگتے ہیں ۶؎ ا ور اپنے نفسوں کی شرارتوں سے اﷲ کی پناہ لیتے ہیں ۷؎ جسے اﷲ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے اﷲ گمراہ کرے اسے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ۸؎ اور گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے بندے اور رسول ہیں ۹؎ اور تین آیتیں پڑھے ۱۰؎ اے ایمان والوں اﷲ سے ڈرو اس سے ڈرنے کا حق۱۱؎ اور ہر گز نہ مرو مگر اس حال میں کہ تم مسلمان ہو ۱۲؎ اے ایمان والو ۱۳؎ اس سے ڈور جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو ۱۴؎ اور رحمی رشتوں سے ڈرو۱۵؎ بے شک اﷲ تم پر حافظ ہے اے ایمان والو ! اﷲ سے ڈرو اور درست بات کہو ۱۶؎ رب تمہارے کام درست کردے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اﷲ رسول کی اطاعت کرے وہ بڑا ہی کامیاب ہے ۱۷؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی، ابن ماجہ، دارمی) اور جامع ترمذی میں ہے تینوں آیتوں کی تفسیر ۱۸؎ سفیان ثوری نے فرمائی اور ابن ماجہ نے الحمدﷲ کے بعد نحمدہ پڑھا۔اور من شرور انفسنا کے بعد ومن سیئات اعمالنا زیادہ کیا اور دارمی نے عظیما کے بعد فرمایا ۱۹؎ کہ پھر اپنے کام کی بات کرے اور شرح سنہ میں حضرت ابن مسعود سے خطبۃ الحاجۃ میں فرمایا نکاح وغیرہ ۲۰؎

 



Total Pages: 807

Go To