Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3848 -[61]

وَعَن عقبَة بن مَالك عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أعجزتم إِذا بعثت رجلا فَم يَمْضِ لِأَمْرِي أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ مَنْ يَمْضِي لِأَمْرِي؟» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَذَكَرَ حَدِيثَ فَضَالَةَ: «وَالْمُجَاهِدُ مَنْ جَاهَدَ نَفْسَهُ» . فِي «كِتَابِ الْإِيمَانِ»

روایت ہے حضرت عقبہ ابن مالک سے ۱؎ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کیا تم اس سے عاجز ہو کہ جب کسی شخص کو بھیجوں پھر وہ میرا حکم جاری نہ کرے تو تم اس کی جگہ کسی ایسے کو مقرر کر دو جو میرا حکم جاری کرے ۲؎(ابوداؤد)اور فضالہ کی وہ حدیث کہ مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس سے جہاد کرے کتاب الایمان میں ذکر کردی گئی۳؎

۱؎ صاحب مشکوۃ نے ان کا ذکر اسماءالرجال میں نہیں فرمایا،اشعہ نے فرمایا کہ آپ صحابی ہیں یعنی اہل بصرہ میں آپ کا شمار ہے۔

۲؎ یعنی اگر میں کسی کو امیروحاکم بناکر کہیں بھیجو،جہاد میں یا اور جگہ اور پھر وہ حاکم میرے فرمان کے مطابق عمل نہ کرے تو تم کو لازم ہے کہ اسے معزول کرکے دوسرے ایسے آدمی کو امیر بنالو جو میرے احکام نافذ کرے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رعایا ظالم حاکم کو معزول کرکے عادل حاکم مقرر کرسکتی ہے مگر خیال رہے کہ یہ جب ہے جب کہ اس کے معزول کرنے میں خون ریزی اور فتنہ و فساد نہ ہو بہ آسانی وہ معزول کیا جاسکے۔(مرقات)لہذا صحابہ کرام کا حجاج ابن یوسف جیسے ظالم و خونخوار حاکم کو معزول نہ کرنا اس کے ظلم سہنا اس حدیث کے خلاف نہیں۔اس کے الگ کرنے میں بڑے فتنہ کا دروازہ کھلتا بڑی خونریزی ہوتی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اگر قاتل سفاک حاکم کے معزول کرنے میں خونریزی اس سے کم ہو جتنی اس کے قائم رہنے میں ہو تو اسے معزول کردیا جائے اگر اس کے برعکس ہو تو معزول نہ کیا جائے۔نیز مالی ظالم کو معزول نہ کرواؤ جانی ظالم کو معزول کرواؤ اس شرط سے جوابھی مذکور ہو ئی غرضیکہ تبدیلی حکومت آسان چیزنہیں۔ خیال رہے کہ مؤذن کو امام معزول کرسکتا ہے اور امام کو متولی مسجد علیٰحدہ کرسکتا ہے اور متولی کو عامۃ المسلمین معزول کرسکتے ہیں۔یہ مسئلہ یہاں سے ماخوذ ہے عوام کی بڑی طاقت ہوتی ہے۔آج کل اس کا نظارہ ہر الیکشن کے موقعہ پر ہوتا ہے۔

۳؎ یعنی مصابیح میں وہ حدیث یہاں تھی،ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے وہ حدیث کتاب الایمان میں ذکر کردی ہے ایک طویل حدیث کے ضمن میں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3849 -[62]

عَن أبي أُمامةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ فَمَرَّ رَجُلٌ بِغَارٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ وَبَقْلٍ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ بِأَنْ يُقِيمَ فِيهِ وَيَتَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا فَاسْتَأْذَنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِالْيَهُودِيَّةِ وَلَا بِالنَّصْرَانِيَّةِ وَلَكَنِّي بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَغَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَمَقَامُ أَحَدِكُمْ فِي الصَّفِّ خَيْرٌ مِنْ صَلَاتِهِ سِتِّينَ سَنَةً» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک لشکر میں نکلے ۱؎  تو ایک شخص غار پرگزرا جس میں کچھ پانی اور سبزی تھی۲؎  تو اس نے اپنے دل میں سوچا کہ وہاں ہی قیام کرے اور دنیا سے الگ ہو جائے۳؎  چنانچہ اس نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے اس بارے میں اجازت مانگی۴؎  تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں نہ تو یہودیت لےکر بھیجا گیا نہ عیسائیت لےکر ۵؎  لیکن میں تو آسان سیدھی ملت لے کر بھیجا گیا ۶؎  اس کی قسم جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ و سلم)کی جان ہے اﷲ کی راہ میں ایک صبح یا ایک شام جانا دنیا اور دنیا کی چیزوں سے بہتر ہے ۷؎ اور تم میں سے کسی کا صف میں کھڑا ہونا اس کی ساٹھ سال کی نمازوں سے افضل ہے ۸؎(احمد)

 



Total Pages: 807

Go To