Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

بسم الله الرحمن الرحیم

کتاب الجھاد

جہاد کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ جہاد بنا ہے جہدٌ سے جہد جیم کے پیش سے یا فتحہ سے بمعنی مشقت ہے۔شریعت میں جہاد بالکسر کے معنی ہیں کفار کے مقابلہ میں مشقت کرنا یا تلوار سے لڑ کر غازیوں کی مدد کرکے مال سے یا رائے سے یا ان کے ساتھ جاکر ان کی جماعت بڑھاکر۔جہاد کا درجہ اسلام میں بہت بڑا ہے عام مؤمن اپنا مال،وقت یا کوشش اﷲ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،مجاہد اپنی جان سے دین اسلام کی خدمت کرتا ہے،جان بڑی پیاری چیز ہے اس لیے مجاہد خدا کو بڑا پیارا ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ عبادات الہیہ پرہمیشگی کرنا بھی جہاد اعظم ہے بلکہ نماز کی پابندی جہاد سے افضل ہے کہ جہاد تو نماز قائم کرنے کے لیے ہی کیا جاتا ہے۔جہاد حسن لغیرہ ہے اور نماز حسن بعینہ ہے۔(مرقات)حق یہ ہے کہ عام حالات میں نماز جہاد سے افضل ہے مگر بعض خصوصی حالات میں جہاد نماز سے افضل ہوتا ہے،اسی وجہ سے بعض احادیث میں نماز کو جہاد پر مقدم فرمایا گیا ہے اور بعض احادیث میں جہاد کو نماز پر مقدم فرمایا گیا۔اس جگہ اشعۃ اللمعات میں فرمایا ہے کہ عام مردوں کی روح ملک الموت قبض کرتے ہیں اور شہیدوں کی روح کو خود رب تعالٰی براہ راست قبض فرماتا ہے۔(اشعہ)شہید کے اور فضائل ان شاءاﷲ آئندہ بیان ہوں گے۔

3787 -[1]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ جَاهَدَ فِي سهل اللَّهِ أَوْ جَلَسَ فِي أَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ فِيهَا» . قَالُوا: أفَلا نُبشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا بَيْنَ الدَّرَجَتَيْنِ كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ فَإِنَّهُ أَوْسَطُ الْجَنَّةِ وَأَعْلَى الْجَنَّةِ وَفَوْقَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ وَمِنْهُ تُفَجَّرُ أنهارُ الجنَّةِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو ایمان لایا اﷲ پر اور اس کے رسول پر ۱؎ اور نماز قائم کرے اور رمضان کے روزے رکھے ۲؎ اسے جنت میں داخل کرنا اﷲ کے ذمہ ہے۳؎ خواہ اﷲ کی راہ میں جہاد کرے یا اپنی اس زمین میں بیٹھ رہے جس میں پیدا ہوا ۴؎ لوگوں نے عرض کہ کیا ہم لوگوں کو خوشخبری نہ دے دیں ۵؎ فرمایا کہ جنت میں سو درجے ہیں ۶؎ جو اﷲ نے ان کے لیے تیار کیے ہیں جو اس کی راہ میں جہاد کریں ۷؎ دو درجوں کے درمیان وہ فاصلہ ہے جو آسمان و زمین کے درمیان ہے ۸؎ جب تم اﷲ سے مانگو تو فردوس مانگو وہ جنت کا درمیان اور جنت کا اعلیٰ حصہ ہے ۹؎ جس کے اوپر اﷲ کا عرش ہے وہاں سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں۱۰؎ (بخاری)

۱؎ قرآن مجید اور حدیث شریف میں رسول سے مراد حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہوتے ہیں اور اﷲ رسول پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ رب نے جو کچھ بھیجا اورحضور جو کچھ لائے ان سب پر ایمان لائے۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ حقیقتًا ایمان ہے اﷲ رسول کو ملانا،اﷲ



Total Pages: 807

Go To