Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

جیسے نکاح فضولی کا حکم ہے۔اس حدیث کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مالک کے انکار کے باوجود غلام نکاح کرے تو نکاح باطل ہے اور وطی حرام،یا مالک کی اجازت سے پہلے وطی درست نہیں جیسے تمام موقوف نکاحوں کا حکم ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3136 -[11]

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذكرت أَن أَبَاهَا زَوجهَا وَهِي كَارِهًا فَخَيَّرَهَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

 روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ ایک کنواری لڑکی ۱ ؎ رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے ذکر کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح کردیا حالانکہ وہ ناپسند کرتی تھی۲ ؎ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار دے دیا ۳؎ (ابوداؤد)۴؎

۱ ؎ وہ لڑکی بالغہ تھی،جیسا کہ آئندہ مضمون سے معلوم ہوتا ہے بعض شارحین نے کہا کہ وہ خنساء بنت خذام تھیں جن کا واقعہ پہلے گزر چکا مگر یہ درست نہیں کہ وہ کنواری نہ تھیں۔یہ لڑکی کنواری ہے،بعض نے فرمایا کہ اس لڑکی کا نام والفہ ہے۔وا ﷲ اعلم

۲ ؎صورت یہ تھی کہ باپ نے اس لڑکی سے پوچھے بغیر نکاح کردیا لڑکی دل سے ناراض تھی بوقت نکاح لڑکی نے انکار نہ کیا تھا،ورنہ نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا اور لڑکی کو اختیار نہ ملتا لہذا حدیث بالکل واضح ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔

۳ ؎ یعنی وہ نکاح تیری رضا پر موقوف ہے اگر تو چاہے تو جائز رکھ اور چاہے فسخ کردے۔اس سے معلوم ہوا کہ بالغہ لڑکی پر باپ وغیرہ جبر نہیں کرسکتے اگر اس سے بغیر پوچھے نکاح کردیں گے تو نکاح فضولی ہو گا لڑکی جائز رکھے یا نہ،ہمارے ہاں اس اختیار کی وجہ لڑکی کا بلوغ تھا امام شافعی کے ہاں اس کا باکرہ یعنی کنواری ہونا۔

۴ ؎ یہ حدیث،احمد،نسائی،ابن ماجہ نے بھی نقل کی ابن قطان کہتے ہیں کہ حدیث صحیح ہے۔

3137 -[12]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «لَا تزوج الْمَرْأَة الْمَرْأَةَ وَلَا تُزَوِّجُ الْمَرْأَةُ نَفْسَهَا فَإِنَّ الزَّانِيَةَ هِيَ الَّتِي تُزَوِّجُ نَفْسَهَا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ تو ایک عورت دوسری عورت کا نکاح کرے ۱ ؎ اور نہ عورت خود اپنا نکاح کرے ۲؎  کیونکہ وہ عورت زانیہ ہے جو اپنا نکاح خود کرے ۳ ؎ (ابن ماجہ)

۱ ؎ یعنی مرد ولی کے ہوتے ہوئے عورت لڑکی کی ولیہ نہیں وہ نکاح نہ کرائے لہذا باپ یا دادا یا بھائی یا چچا وغیرہم کے ہو تے ہوئے ماں خالہ وغیرہ ولیہ نہیں،بلکہ وہ لوگ ولی ہیں یا یہ حکم استحبابی ہے یعنی بہتر یہ ہے کہ عورت لڑکی کا نکاح نہ کرے بلکہ اگر کوئی ولی نہ ہو تو حاکم وقت کی رائے سے نکاح کیا جائے ورنہ مرد ولی کے نہ ہونے پر ماں خالہ وغیرہ ولیہ ہوتی ہیں کہ نابالغہ کا نکاح ان کی اجازت سے درست ہے۔

۲؎ یعنی بغیر گواہ اکیلے میں نکاح نہ کرے یا غیر کفو میں نکاح نہ کرے ورنہ نکاح منعقد نہ ہوگا،اس پر فتویٰ ہے دیکھو درمختار۔یہ مطلب نہیں کہ بالغہ بغیر ولی کے نکاح نہیں کرسکتی،ورنہ وہ خرابیاں لازم ہوں گی جو پہلے عرض کی گئیں۔

 



Total Pages: 807

Go To