Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۲؎ یعنی ہمارے فیض سے اﷲ تعالٰی تمہارے دل کو غلط فہمی سے اور تمہاری زبان کو غلط فیصلہ سنانے سے محفوظ رکھے گا اس ہی کرم کا اثر یہ ہوا کہ حضرت علی جیسا قاضی و حاکم نہ ہوا۔معلوم ہوا کہ حضور کی نگاہ کرم سے علم،حکمت،قضا سب کچھ بیکدم مل جاتا ہے۔ اس مدرسہ میں ایک آن میں فارغ التحصیل کردیا جاتا ہے۔

۳؎  اولیٰ سے مراد مدعی ہے اور ثانی یعنی دوسرے سے مراد مدعیٰ علیہ یعنی جب مدعی و مدعیٰ علیہ دونوں تمہاری عدالت میں حاضر ہوں اور مدعی بیان دعویٰ  کرے تو مدعیٰ علیہ کا جواب دعویٰ سنے بغیر فیصلہ نہ کرو کہ دونوں کا بیان سنے بغیر حق و باطل ظاہر نہیں ہوسکتا۔خیال رہے کہ ا گر مدعیٰ علیہ کچہری میں حاضر نہ ہو مگر شہر میں یا اور جگہ معلوم میں موجود ہو تو اس کو بذریعہ سمن حاضر کیا جائے اگر غائب ہو پتہ نہ ہو تو بوقت ضرورت غائب کے خلاف قضاء جائز ہے جیسے غائب لاپتہ شخص کی بیوی خرچہ کا دعویٰ کرے تو حاکم خرچہ کا فیصلہ کرسکتا ہے اور خرچہ ناممکن ہونے کی صورت میں نکاح فسخ کرسکتا ہےحضرت امام احمد بن حنبل کے ہاں،احناف کے ہاں بھی،بعض فقہاء کے نزدیک قضاء علی الغائب ضرورۃً جائز ہے۔(شامی،باب النفقہ)

۴؎ فریقین کی حاضری دونوں کا کلام سننا قضا یعنی فیصلہ میں ضروری ہے فتویٰ میں ضروری نہیں کہ فتویٰ صورت مسئلہ کا جواب ہوتا ہے کہ اس بیان کے مطابق شریعت کا حکم یہ ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے صرف ہندہ کا بیان سن کر ابوسفیان کے خلاف فتویٰ دے دیا،داؤد علیہ السلام نے صرف ایک کا بیان سن کر بغیر دوسرے کا بیان لیے فتویٰ دے دیا ،دیکھو قرآن کریم سورۂ صٓ،یہ ہے فتویٰ۔

۵؎  یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے اس فرمان اور اس فیضان کے بعد میں کبھی کسی فیصلہ میں رکا نہیں اور نہ میں نے غلط فیصلہ کیا،یہ تھا فیضان نبوت۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں علی اقضنا وابن ابی کعب اقرؤنا ہم سب میں بہترین قاضی علی ہیں اور بہترین قاری حضرت ابی ابن کعب ہیں۔(مرقات)

۶؎  یعنی وہ حدیث مصابیح میں اسی جگہ تھی میں نے مناسبت کے لحاظ سے بجائے یہاں کے وہاں بیان کی ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3739 -[9]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَإِنْ قَالَ: أَلْقِهْ أَلْقَاهُ فِي مَهْوَاةٍ أَرْبَعِينَ خَرِيفًا ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ والْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَان

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں ہے کوئی حاکم ۱؎  جو لوگوں کے درمیان فیصلے کرے مگر قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوگا پھر اس کا سر آسمان تک اٹھالے گا ۲؎  تو اگر رب فرمادے کہ اسے پھینک دے تو وہ اسے ہلاکت کی جگہ پھینک دے گا۳؎ چالیس سال کی راہ ۴؎ (احمد، ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

۱؎  حاکم سے مراد ظالم حاکم ہے جیساکہ اگلے مضمون سے واضح ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ ہر حاکم مراد ہے خواہ عادل ہو یا ظالم۔

 



Total Pages: 807

Go To