Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب العمل فی القضاء و الخوف منہ

باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  یعنی حاکم و قاضی کس چیز سے فیصلے دے کتاب اﷲ،سنت رسول اﷲ،اجماع امت و قیاس مجتہد۔اور قضاء قبول کرنے سے ڈرے کہ یہ کانٹوں کا بستر ہے،یوں ہی سخت سردی اور سخت گرمی میں فیصلہ نہ کرے۔(مرقات)

3731 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَقْضِيَنَّ حَكَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ»

روایت ہے حضر ت ابوبکرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ کوئی حاکم دو شخصوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ کیونکہ غصہ کی حالت میں عقل پرنفس غالب ہوتا ہے جس سے حاکم مقدمہ میں اچھی طرح غوروفکر نہیں کرسکتا،یوں ہی بھوک پیاس،دماغی پریشانی،خاص بیماری میں بھی فیصلہ نہ کرے۔(مرقات و اشعہ)

3732 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ فَلَهُ أَجْرَانِ وَإِذَا حَكَمَ فَاجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ فلهُ أجرٌ واحدٌ»

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر اور ابوہریرہ سے دونوں فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب حاکم فیصلہ کرے تو کوشش کرے اور درست فیصلہ کرے ۱؎  تو اس کو دو ثواب ہیں ۲؎ اور جب فیصلہ کرے تو کوشش کرے اورغلطی کرے تو اس کے لیے ایک ثواب ہے ۳؎(مسلم،بخاری)۴؎

۱؎ کہ اس کا فیصلہ اﷲ رسول کے فرمان عالی کے مطابق ہوجائے،یہ بھی رب تعالٰی کا کرم ہی ہے کہ انسان کا فیصلہ اس کے منشاء کے مطابق ہوجائے۔

۲؎ ایک ثواب تو اجتہادوکوشش کرنے کا اور دوسرا ثواب درست فیصلہ کرنے کا کہ درستی بھی بڑا عمل ہے،قاضی عالم بلکہ درجہ اجتہاد والا چاہیے،اگر خود عالم و فقیہ نہ ہو تو فقہاء کے علم سے فائدہ اٹھائے ان کا مقلد اور متبع ہو۔

۳؎  یہ حدیث تمام مجتہدین کو شامل ہے کہ مجتہد سے اگر غلطی بھی ہوجائے تب بھی اجتہاد کی محنت کا ثواب ہے لہذا چاروں مذہب یعنی حنفی،شافعی،مالکی،حنبلی برحق ہیں کہ اگرچہ ان میں سے درست و صحیح تو ایک ہی ہے مگر گناہ کسی میں نہیں بلکہ جن آئمہ مجتہدین سے خطا ہوئی ایک ثواب انہیں بھی ہے،نیز حضرت علی و معاویہ میں گنہگار کوئی نہیں،حق پر حضرت علی ہیں اور جناب معاویہ سے غلطی ہوئی گنہگار وہ بھی نہیں۔ایک موقعہ پر حضرت داؤد علیہ السلام سے خطا ہوگئی اور جناب سلیمان علیہ السلام نے درست فیصلہ فرمایا تو ان دونوں بزرگوں میں گنہگار کوئی نہیں ہوا۔رب تعالٰی فرماتاہے:"فَفَہَّمْنٰہَا سُلَیۡمٰنَ"۔وہ حدیث کریمہ اس آیت کی تائید کرتی ہے مگر یہ حکم مجتہد عالم کے لیے ہے غیر مجتہد یا غیر عالم اگر غلط مسئلہ بتائے گا تو گنہگار ہوگا بلکہ غیر عالم کو فتویٰ دینا ہی جائز نہیں اور مسئلہ بھی فروعی اجتہادی ہو اصول شریعت میں غلطی معاف نہیں ہوتی۔اس کی تحقیق کتب اصول اور مرقات میں ملاحظہ کیجئے۔اجتہادی خطا کی مثال یوں سمجھئے کہ مسافر جنگل میں نماز پڑھے اسے سمت قبلہ کا پتہ نہ چلے تو اپنی رائے سے



Total Pages: 807

Go To