Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3726 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يومَ القيامةِ يُعرَفُ بِهِ»

روایت ہے حضرت انس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا ہر بدعہد کے لیے جھنڈا ہوگا قیامت کے دن جس سے وہ پہنچانا جائے گا ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ معلوم ہوا کہ قیامت میں مجرموں کے جرم نشانات سے معلوم ہوں گے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی پھر سزائیں بعد کو ہوں گی۔

3727 -[6]

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ عِنْدَ اسْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لَهُ بِقَدْرِ غَدْرِهِ أَلا وَلَا غادر أعظم مِن أميرِ عامِّةٍ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوسعید سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا ہر بدعہد غدار کا جھنڈا اس کے چوتڑوں کے پاس ہوگا  ۱؎ قیامت کے دن اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ہر غدار  کا جھنڈا قیامت کےدن اس کی غداری کے مطابق اونچا کیا جائے گا ۲؎ ہوشیار رہو کہ عوام کے سلطان کی غداری سے بڑھ کر کوئی غدار(بدعہد)نہیں ۳؎ (مسلم)

۱؎  لواء بہت بلند جھنڈے کو کہتے ہیں اور رأیۃ ہر جھنڈے کو۔ظاہر یہ ہے کہ یہ جھنڈا اس کی پیٹھ سے ایسا چمٹا ہوگا کہ اس کے ساتھ ساتھ پھرے گا،چوتڑوں کا ذکر اہانت کے لیے ہے است کا ترجمہ ہے دبر،عزت کا جھنڈا منہ کے سامنے ہوتا ہے ذلت کا جھنڈا پیچھے۔

۲؎ یعنی دنیا میں بدعہدی کی جیسی کیفیت ویسی وہاں جھنڈے کی کمیت و درازی۔معلوم ہوا کہ قیامت میں مجرموں اور ان کے جرموں کی نوعیت بھی قیامت والوں پر عیاں ہوگی۔

۳؎ اس فرمان عالی کے تین معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ سب سے بڑا غدار وہ ہے جو مسلمانوں کی مرضی بغیر ان کا امیر عام بن جائے جیسے متغلب و باغی۔دوسرے وہ بادشاہ بڑا غدار ہے جو مسلمانوں کے حقوق ادا نہ کرے اہل کو بھول جائے نااہلوں کو عہدے سونپے، انہیں آگے بڑھائے،انہیں اہل استحقاق پر مسلط کردے۔تیسرے یہ کہ بڑا غدار وہ شخص کہ جو امیر عام یعنی بادشاہ اسلام سے بدعہدی کرے اس سے کیے ہوئے وعدے پورے نہ کرے،چونکہ ان تینوں قسم کے غداروں کی بدعہدی کا اثر دین،ملک،قوم پر پڑتا ہے۔ان غداروں کا تعلق عام لوگوں سے ہے اس لیے یہ تینوں غدار بدترین غدار اور اول درجے کے بدعہد قرار دیئے گئے،ہمارا ترجمہ ان معنے کا حامل ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3728 -[7]

عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:« (مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمُ احْتَجَبَ اللَّهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَفَقْرِهِ» . فَجَعَلَ مُعَاوِيَةُ رَجُلًا عَلَى حَوَائِجِ النَّاسِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ وَلِأَحْمَدَ: «أَغْلَقَ اللَّهُ لَهُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ دُونَ خَلَّتِهِ وَحَاجَّتِهِ وَمَسْكَنَتِهِ»

 روایت ہے حضرت عمرو ابن مرۃ سے ۱؎ کہ انہوں نے حضرت معاویہ سے فرمایا ۲؎ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ جسے اﷲ مسلمین کی کسی چیز کا والی و حاکم بنائے پھر وہ مسلمان کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے سامنے حجاب کردے ۳؎ تو اﷲ اس کی حاجت و ضرورت و محتاجی کے سامنے آڑ فرمادے گا۴؎ چنانچہ حضرت معاویہ نے لوگوں کی حاجت پر ایک آدمی مقرر فرمادیا ۵؎(ابوداؤد،ترمذی) احمد اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ اﷲ اس کی ضرورت و حاجت و محتاجی کے سامنے آسمان کے دروازے بند فرمادے گا ۶؎

 



Total Pages: 807

Go To