Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

الفصل الثانی

دوسری فصل

3631 -[2]

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَّقِ الوجهَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب تم میں سے کوئی مارے تو چہرے سے بچے ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎ یعنی تعزیر یا حد میں جب کوڑے لگائے تو مجرم کو منہ پر نہ لگائے تاکہ اس کا منہ بگڑ نہ جائے،انسان کی زینت منہ سے ہے،حضور فرماتے ہیں کہ اﷲ تعالٰی نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا یعنی اپنی پسندیدہ صورت پر مگر رجم میں یہ حکم نہیں کہ وہاں تو پتھروں سے ہلاک کردینا ہے پتھر جہاں بھی لگے۔خیال رہے کہ منہ میں آنکھ ناک کان بھی شامل ہیں اور اس سے قریب ہی سربھی ہے جس میں مغز ہے اگر چہرے پر مار پڑے تو خطرہ ہے کہ مجرم اندھا بہرا یا دیوانہ ہوجائے،اس فرمان عالی میں ہزار ہاحکمتیں ہیں۔ہم نے بعض متقی استادوں کو دیکھا کہ وہ شاگرد کی پیٹھ پر چپت وغیرہ مارتے ہیں منہ پر تھپڑ نہیں مارتے اسی حکم عالی کی بنا پر۔

3632 -[3]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا يَهُودِيُّ فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ وَإِذَا قَالَ: يَا مُخَنَّثُ فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ فَاقْتُلُوهُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب

روایت ہے حضرت ابن عباس سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جب کوئی کسی سے کہے اے یہودی ۱؎ تو اسے بیس کوڑے مارو ۲؎ اور جب کہے اورہیجڑے (کھسرے)تو اسے بیس کوڑے مارو۳؎ اورجو اپنی محرم سے زنا کرے اسے قتل کردو ۴؎ (ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

۱؎ یہودی فرمانا بطور مثال ہے ورنہ او عیسائی او کافر کہنے کا بھی یہ ہی حکم ہے،چونکہ یہودی کفروخباثت اور ذلت طبع سب میں مشہور ہیں اس لیے صرف یہودی ارشاد ہوا۔

۲؎ یہ حکم اباحت یا استحباب کاہے اور خطاب حکام سے ہے یعنی اس کہنے پر اگر سامنے والا حاکم کے ہاں دعویٰ کر دے کہ اس نے میری توہین کی ہے تو حاکم اتنے کوڑے مارسکتا ہے۔معلوم ہوا کہ مسلمان کو کافر کہنا سخت جرم ہے۔

۳؎ مخنث وہ ہے جس کے اعضاء میں نرمی آوازعورتوں کی سی ہو اور بدکاری کراتا ہو،عورتوں کی طرح رہتا ہو، چونکہ یہ عمل نہایت ذلت کا ہے اور مخنث نہایت ذلیل ہے اس لیے کسی کو مخنث کہنے میں اس کی اہانت ہے جس پر ہتک عزت کا دعویٰ ہوسکتا ہے اور یہ سزا جاری ہوسکتی ہے،یوں ہی اگر کسی سے کہا او شرابی او زندیق او لوطی او سود خور او دیّوث او خائن او چوروں کی ماں ان سب میں یہ ہی سزا ہوسکتی ہے ۔(مرقات)اگر کسی کو کہا او کتے او سؤر اوگدھے تو اگر وہ شخص ذی عزت ہو جیسے عالم فقیہ سید تب تعزیر دی جائے گی،عوام میں سے ہو تو تعزیر نہیں کیونکہ یقینًا وہ انسان ہے کتا گدھا نہیں ہے لہذا یہ الفاظ محض گالی ہیں،گالی کا یہ ہی حکم ہے جو عرض کیا گیا،اس کی تفصیل یہاں اشعۃ اللمعات میں ملاحظہ کیجئے ۔

 



Total Pages: 807

Go To