Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3579 -[25]

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ فَلَمَّا نَزَلَ مِنَ الْمِنْبَرِ أَمَرَ بِالرَّجُلَيْنِ وَالْمَرْأَةِ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں جب میری پاکدامنی قرآن مجید میں نازل ہوئی ۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر قیام فرمایا اس کا ذکر فرمایا جب منبر سے اترے تو دو مردوں ایک عورت کے متعلق حکم دیا تو انہیں ان کی سزا دی گئی۲؎ (ابوداؤد)

۱؎ یعنی جب مجھ کو لوگوں نے بہتان لگایا اور رب تعالٰی نے میری پاکدامنی کی گواہی دیتے ہوئے سورۂ نور کی سولہ آیات اتاریں۔خیال رہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام اور بی بی مریم کو بہتان لگے تو بچوں سے گواہی دلوائی گئی،مگر جب محبوب کے گھر کا واقعہ پیش آیا تو رب تعالٰی نے شیر خوار بچہ یا پتھرو درخت سے گواہی نہ دلوائی بلکہ خود براہ راست گواہی دی،یہ ہے اس محبوبہ محبوب کی عزت و عظمت۔ شعر

دی گواہی آپ کی عفت کی سورۂ نور نے                   مدح کرتا ہے تری عصمت کی خود قرآن    میں

۲؎ وہ مرد حضرت حسان ابن ثابت(نعت خوان رسول اﷲ)اورمسطح ابن اثاثہ ہیں اور عورت حمنہ بنت جحش یعنی ام المؤمنین زینب بنت جحش کی بہن،چونکہ ان کے منہ سے صراحۃً بہتان کے الفاظ نکل گئے تھے اس لیے انہیں بہتان کی سزا ملی،عبداﷲ ابن اُبی اور دوسرے منافقین اگرچہ اس جرم میں پیش پیش رہے مگر صراحۃً بہتان کے الفاظ نہ بولے اس لیے وہ سزا سے بچ گئے لہذا آیت پر یہ اعتراض نہیں کہ عبداﷲ ابن ابی منافق کے متعلق تو قرآن کریم فرماتاہے:"وَالَّذِیۡ تَوَلّٰی کِبْرَہٗ مِنْہُمْ لَہٗ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ"کہ اس موذی کو دردناک عذاب آخرت میں ہوگا۔خیال رہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عصمت،عفت،ایمان،تقویٰ ایسا ہی یقینی ہے جیسے اﷲ تعالٰی کا ایک ہونا یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول ہونا کیونکہ ان کے متعلق رب تعالٰی فرماتاہے:"اُولٰٓئِکَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا یَقُوۡلُوۡنَ   لَہُمۡ مَّغْفِرَۃٌ وَّ رِزْقٌ کَرِیۡمٌ"لہٰذا اب جو مرتد ان سرکار کو یہ بہتان لگائے وہ بہتان کی سزا کا بھی مستحق ہے اور کافر بھی کہ قرآن کریم کا منکر ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3580 -[26]

عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ عَبْدًا مِنْ رَقِيقِ الْإِمَارَةِ وَقَعَ على وليدةٍ من الخُمسِ فاستَكرهَها حَتَّى افتضَّها فَجَلَدَهُ عُمَرُ وَلَمْ يَجْلِدْهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ استكرهها. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت نافع سے کہ صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں خبر دی ۱؎ کہ حکومت کے غلاموں میں سے ایک غلام۲؎ خمس کی لونڈیوں میں ایک کے ساتھ الجھ گیا اسے مجبور کردیا حتی کہ اس کی بکارت توڑ دی۳؎ تو حضرت عمر نے غلام کے کوڑے لگائے اور لونڈی کے نہ لگائے کیونکہ اس نے اسے مجبور کیا تھا ۴؎  (بخاری)

۱؎ حضرت نافع جناب عبداﷲ ابن عمر کے آزاد کردہ غلام ہیں،اما م القراء ہیں،مدینہ منورہ میں آپ کا مزار مبارک ہے،اس گنہگار نے بار ہا زیارت کی ہے۔اور صفیہ بنت ابو عبید مختار ابن ابی عبید کی بہن ہیں اور حضرت عبداﷲابن عمر کی زوجہ تابعین میں سے ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ،حفصہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہم سے ملاقات ہے،ان کے والد ابو عبید جلیل القدر صحابی ہیں،آپ کا بیٹا مختار ابن ابی عبید بڑا فاسق و فاجر ہے،اسے محدثین مختار کذاب کہتے ہیں جیسے حجاج کو مبیر یعنی خونخوار ظالم کہا جاتا ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے



Total Pages: 807

Go To