Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۲؎  یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے کہ ذمی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کرے تو اس کا ذمہ ٹوٹ جائے گا اور وہ حربی ہوجائے گا لہذا اس کے قتل پر نہ قصاص ہوگا نہ دیت،ہمارے ہاں اس حرکت سے ذمہ باطل نہ ہوگا کیونکہ حضور کی اہانت کفر ہے جب وہ پہلے سے ہی کافر ہے جب کہ خدا کو مانتا ہے مگر رہتا ہے ذمی تو اس کفر سے بھی ذمی ہی رہے گا،یہ حدیث یا تو منسوخ ہے یا اس کا قتل ذمہ ٹوٹنے کی وجہ سے نہ تھا بلکہ مسلمان کے دینی طیش کی بنا پر تھا جس بنا پر یہ حکم جاری ہوا۔

3551 -[19]

وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبُهُ بِالسَّيْفِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت جندب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جادو گر کی سزا تلوار سے مار دینا ہے ۱؎ (ترمذی)

۱؎ اگر جادو گر مسلمان ہو اوروہ جادو کرے جس میں کلمات کفریہ ہیں تب تو بوجہ مرتد ہوجانے کے قتل کے لائق ہے اور اگر کسی کو ہلاک کردے تو قصاصًا قتل کیا جائے گا۔جادو کرنے اور جادو سیکھنے کے احکام کتب فقہ میں ملاحظہ کیجئے،ہم نے بھی اپنی تفسیر نعیمی پارہ اول میں بہت تفصیل سے عرض کیے ہیں۔خیال رہے کہ قاتل جادو گر ڈاکو کے حکم میں ہے اور جادو گر کی توبہ قبول ہے،دیکھو موسیٰ علیہ السلام کے جادو گروں کی توبہ قبول ہوئی جیساکہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3552 -[20]

عَن أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ يُفَرِّقُ بَيْنَ أُمَّتِي فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت اسامہ ابن شریک سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو شخص سلطان اسلام پر خروج کرے اور میری امت میں پھوٹ ڈالے تو اس کی گردن مار دو ۱؎ (نسائی)

۱؎ اس سے مراد باغی ہے یعنی جو بغاوت کرے تو اولًا اس کو سمجھایا جائے پھر باز نہ آئے تو قتل کیا جائے،اگر باغیوں کی باقاعدہ جماعت ہو تو ان سے جنگ کی جائے جیساکہ حضرت امیر المؤمنین علی مرتضٰی رضی اللہ عنہ نے امیرمعاویہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما سے جنگ کی۔باغی وہ ہے جو کسی غلط فہمی کی وجہ سے بادشاہ اسلام کی مخالفت کرے ۔باغی اور خارجی کا فرق اور ان کے احکام کی تفصیل ہماری کتاب یعنی امیرمعاویہ میں ملاحظہ فرمائیے۔

3553 -[21]

وَعَنْ شَرِيكِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: كُنْتُ أَتَمَنَّى أَنْ أَلْقَى رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ عَنِ الْخَوَارِجِ فَلَقِيْتُ أَبَا بَرْزَةَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْخَوَارِجَ؟ قَالَ: نعمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ وَرَأَيْتُهُ بِعَيْنَيَّ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ فَقَسَمَهُ فَأَعْطَى مَنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ وَلَمْ يُعْطِ مَنْ وَرَاءَهُ شَيْئًا. فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ وَرَائِهِ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ مَا عَدَلْتَ فِي الْقِسْمَةِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مَطْمُومُ الشَّعْرِ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَضَبًا شَدِيدًا وَقَالَ: «وَاللَّهِ لَا تَجِدُونَ بَعْدِي رَجُلًا هُوَ أَعْدَلُ مِنِّي» ثُمَّ قَالَ: «يخرُجُ فِي آخرِ الزَّمانِ قومٌ كأنَّ هَذَا مِنْهُم يقرؤون الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ لَا يَزَالُونَ يَخْرُجُونَ حَتَّى يَخْرُجَ آخِرُهُمْ مَعَ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ والخليقة» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت شریک ابن شہاب سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ میں آرزو کرتا تھا کہ کسی صحابی رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے ملاقات کروں اور ان سے خارجیوں کے متعلق پوچھوں ۲؎ میں عید کے دن ابوبرزہ سے ان کے ساتھیوں کی جماعت میں ملا ۳؎ میں نے ان سے کہا کیا آپ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو خارجیوں کے متعلق کچھ ذکر فرماتے ہوئے سنا ہے ۴؎ فرمایا ہاں میں نے حضور کو اپنے کانوں سے فرماتے اور اپنی آنکھوں سے حضور کو دیکھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس کچھ مال لایا گیا ۵؎ آپ نے وہ مال تقسیم فرمایا تو اپنے داہنے بائیں والوں کو دیا اور اپنے پیچھے والوں کو کچھ نہ دیا ۶؎ تو آپ کے پیچھے سے ایک شخص کھڑا ہوا بولا اے محمد(صلی اللہ علیہ و سلم)آپ نے تقسیم میں انصاف نہ کیا ۷؎ یہ کالا شخص تھا منڈے ہوئے بال اس پر دو سفید کپڑے تھے ۸؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سخت ناراض ہوئے ۹؎ اور فرمایا کہ تم لوگ میرے سوا مجھ سے زیادہ عادل شخص کوئی نہ پاؤ گے ۱۰؎ پھر فرمایا آخر زمانہ میں ایک قوم نکلے گی شاید یہ بھی ان میں سے ہے ۱۱؎ جو قرآن بہت پڑھیں گے جو ان کے گلے سے نہ اترے گا اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے ۱۲؎  ان کی علامت سر منڈانا ہے ۱۳؎ یہ نکلتے ہی رہیں گے ۱۴؎ حتی کہ ان کا آخری گروہ مسیح دجّال کے ساتھ نکلے گا ۱۵؎ تو جب تم ان سے ملو تو جان لو کہ یہ بدترین مخلوق ہیں ۱۶؎(نسائی)

 



Total Pages: 807

Go To