Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

قائم ہوتا ہے،عرب جیسے ملک میں امن ان ہی سختیوں سے قائم ہوا اور آج ہمارے ملکوں میں امن اس لیے نہیں کہ یہاں سزائیں نرم ہیں ہم کو ا پنے ہاں کی بد امنی دیکھ کر ان سزاؤں کی قدرمعلوم ہوتی ہے کہ آج بازار میں ایک دو چوروں کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں ایک دو زانیوں کو رجم کردیا جائے تو ان شاءاﷲ ہمارے ہاں بھی عرب جیسا امن ہوسکتا ہے کہ وہاں لوگ شب کو گھروں کے دروازے بند نہیں کرتے،قیمتی دکان کھلی چھوڑکر مسجد میں نماز کے لیے آجاتے ہیں،اسلام کی خوبیاں کفاربھی ماننے لگے ہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3540 -[8]

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُثُّنَا عَلَى الصَّدَقَةِ وَيَنْهَانَا عَنِ الْمُثْلَةِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

3541 -[9] وَرَوَاهُ النَّسَائِيّ عَن أنس

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ہم کو صدقہ کی رغبت دیتے تھے اور ہم کو مثلہ سے منع فرماتے تھے ۱؎ (ابوداؤد)

اور نسائی نے حضرت انس سے روایت کی۔

۱؎ مثلہ کے لغوی معنی ہیں سخت سزا،اب اصطلاح میں میت یا مقتول کے ہاتھ پاؤں،آنکھ ناک ذکر وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں اب قصاصًا مثلہ جائز ہے سزاءً مثلہ ممنوع ہے۔(اشعۃ اللمعات)گزشتہ حدیث کا مثلہ اگر قصاصًا تھا تو وہ حدیث محکم ہے اور اگر سزاءً تھا تو اس حدیث سے منسوخ ہے۔

3542 -[10]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَانْطَلَقَ لِحَاجَتِهِ فَرَأَيْنَا حُمْرَةً مَعَهَا فَرْخَانِ فَأَخَذْنَا فَرْخَيْهَا فَجَاءَتِ الْحُمْرَةُ فَجَعَلَتْ تَفْرُشُ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ فَجَعَ هَذِهِ بِوَلَدِهَا؟ رُدُّوا وَلَدَهَا إِلَيْهَا» . وَرَأَى قَرْيَةَ نَمْلٍ قَدْ حَرَّقْنَاهَا قَالَ: «مَنْ حَرَّقَ هَذِهِ؟» فَقُلْنَا: نَحْنُ قَالَ: «إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعَذِّبَ بِالنَّارِ إِلاَّ ربُّ النَّار» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن عبداﷲ سے ۱؎  وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے حضور قضا حاجت کے لیے تشریف لے گئے ۲؎ ہم نے ایک لالی دیکھی جس کے ساتھ دو چوزے تھے ہم نے اس کے چوزے پکڑ لیے ۳؎ کہ لالی آئی تو وہ بچھی جانے لگے ۴؎ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے فرمایا اسے کس نے غمگین کیا اس کے بچوں کی وجہ سے اس کے بچے اسے لوٹا دو ۵؎ اور ایک چیونٹیوں کا جنگل دیکھا جسے ہم نے جلادیا تھا ۶؎ فرمایا یہ کس نے جلایا ہم نے عرض کیا ہم نے فرمایا یہ لائق نہیں کہ آگ کے رب کے سواء کوئی اور آگ سے عذاب دے ۷؎ (ابوداؤد)

۱؎  آپ عبدالرحمن ابن عبداﷲ ابن مسعود ہیں۔(اشعہ)مرقات نے عبدالرحمان ابن عبداﷲ ابن بحار فرمایا،آپ تابعی ہیں،عبدالرحمن کی ملاقات اپنے والد سے نہیں ہوئی کیونکہ ان کے والد آپ  کے لڑکپن ہی میں فوت ہوگئے تھے،عبدالرحمن    ۹۹ھ؁  میں سلیمان ابن عبدالملک کے زمانہ میں فوت ہوئے۔

۲؎ استنجاء کے لیے جنگل میں تشریف لے گئے لوگوں سے بہت دور۔

۳؎  لالی کی غیر موجودگی میں اس کے بچے پکڑ لیے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

 



Total Pages: 807

Go To