Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

اپنے سے ظلم دفع کرنے کے لیے رشوت دینا جائزہے اور کسی پر ظلم کرانے کے لیے حرام مگر رشوت لینا بہرحال حرام ہے۔اس کی تفصیل شامی میں ملاحظہ فرمایئے۔

۳؎ یہ حکم بھی اجازت و اباحت کا ہے وجوب کا نہیں لہذا اگر کوئی شخص اس حالت میں جنگ نہ کرے تو مجرم نہیں۔

۴؎ کیونکہ تو مظلوم ہے اور ظلمًا مقتول شہید ہے۔

۵؎ یعنی نہ تو گنہگار ہے نہ تجھ پر قصاص یا دیت ہے بلکہ اب تو حکومتیں ایسے بہادری سے مار دینے والوں کو انعام اور تمغے دیتی ہیں۔

3514 -[5] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أحدٌ ولمْ تَأذن لَهُ فخذفته بحصاة ففتأت عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ»

روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اگر کوئی تیرے گھر میں جھانکے ۱؎ اور تو نے اسے اجازت نہ دی ۲؎ پھر تو اسے کنکر مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں ۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ خواہ دروازے کے جھرونکوں سے یا دیوار پر چڑھ کر یا اونچے مکان والا نیچے مکان والے کو تاکے جھانکے،یہ جملہ ان سب صورتوں کو شامل ہے۔

۲؎ یعنی اگر تو نے اسے گھر میں آنے کی اجازت دے دی بعد اجازت وہ جھانکتا ہے تو وہ مجرم نہیں کہ آنے کی اجازت دیکھنے کی بھی اجازت ہے،اسی طرح اونچے مکان والا نیچے والوں سے اجازت لے کر چڑھا ہے،اگر بغیر اجازت چڑھے تو نیچے والوں کے پردہ کا ضرور خیال رکھے نگاہ نیچے رکھے۔

۳؎ امام شافعی اس حدیث کے ظاہر پرعمل فرماتے ہیں اور اس صورت میں اس کی آنکھ کا ضمان مطلقًا واجب نہیں فرماتے۔بعض امام فرماتے ہیں کہ اگر منع کرنے کے باوجود وہ تاکتا ہے توا س کی آنکھ کا ضمان نہیں،امام اعظم فرماتے ہیں کہ بہرحال ضمان ہے،یہ فرمان عالی تاک جھانک سے سخت ممانعت کے لیے ہے یا اس میں گناہ کی نفی ہے دیت وغیرہ کی نفی نہیں،بہت دفعہ گناہ نہیں ہوتا مگر ضمان ہوجاتا ہے جیسے قتل خطاء قرآن کریم فرماتاہے:"الْعَیۡنَ بِالْعَیۡنِ"معلوم ہوا کہ آنکھ کے عوض آنکھ پھوڑی جائے۔

3515 -[6] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن سهل بنِ سعد: أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ فَقَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تنظُرُني لطَعَنْتُ بهِ فِي عَيْنَيْكَ إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ»

روایت ہے حضرت سہل ابن سعد سے ۱؎ کہ ایک شخص سوراخ سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے دروازے میں جھانکا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس سلائی تھی ۲؎ جس سے آپ اپنا سر مبارک کھجارہے تھے تو فرمایا اگر میں جانتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں یہ سلائی تیری آنکھ میں گھونپ دیتا۳؎ طلب اجازت نگاہ کی حفاظت ہی کے لیے تو مقرر کی گئی ہے ۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ انصاری ساعدی ہیں،آپ کا نام شریف حزن تھا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بدل کر سہل رکھا،آپ مدینہ کے آخری صحابی ہیں،مدینہ پاک میں انتقال ہوا۔

۲؎ سرمہ لگانے کی یا سر کی مانگ نکالنے کی جیساکہ صراح میں ہے۔

 



Total Pages: 807

Go To