Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب مالایضمن من الجنایات

باب ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ جنایات جنایۃ کی جمع ہے مادہ جنیٌ ہے بمعنی حادثہ،اسی سے جنی الثمر یعنی درخت سے پھل لینا۔

3510 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے چوپایہ کا زخم باطل ہے ۱؎ اور کان باطل ہے اور کنواں باطل ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ عجماءٌ اعجم کا مؤنث ہے بمعنی گونگا یعنی جو کلام وبات نہ کرسکے،عرب لوگ دیگر ملکوں کو عجم کہتے ہیں کہ وہ کلام پر قادر نہیں۔یہاں چوپایہ مراد ہے جیسے گھوڑا،گدھا،بھینس،گائے وغیرہ یعنی اگر کوئی شخص کسی کے چوپایہ سے زخمی ہوجائے تو اس کا ضمان چوپایہ والے پر واجب نہیں خواہ چوپایہ لات مار دے یا سینگ یا پاؤں سے روند دے،نیز اگر اس کے معمولی چلانے سے سوار گرکر چوٹ کھا جائے تو بھی چلانے والے پر ضمان نہیں خواہ دن میں یہ واقعہ ہو یا رات میں،یہ ہی احناف کا قول ہے،امام شافعی کے ہاں اگر رات کو کسی کا جانور کھل جائے اور کسی کو نقصان پہنچائے تو اس پر ضمان ہے،نیز اگر کھلا جانور کسی کا کھیت خراب کردے تب بھی یہ ہی اختلاف ہے،یہ حدیث احناف کی دلیل ہے۔

۲؎  یعنی اگر کسی کی کان یا کسی کے کنویں میں کوئی شخص یا جانور گر کر ہلاک ہوجائے تو کان اور کنویں والے پر تاوان نہیں بشرطیکہ کنواں اس نے اپنی زمین میں کھدوایا ہو اور بیچ راہ میں نہ ہو اگر مباح زمین میں کھودا جب بھی یہ ہی حکم ہے۔

3511 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ وَكَانَ لِي أَجِيرٌ فقاتلَ إِنساناً فعض أَحدهمَا الْآخَرِ فَانْتَزَعَ الْمَعْضُوضُ يَدَهُ مِنْ فِي الْعَاضِّ فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ: «أَيَدَعُ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضِمُهَا كَالْفَحْلِ»

روایت ہے حضرت یعلیٰ ابن امیّہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ غزوۂ تبوک کیا ۲؎ اور میرا ایک مزدور تھا۳؎ وہ ایک شخص سے لڑا تو ان میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ لیا ۴؎ جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا اس نے کاٹنے والے سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کی ثنیہ گرادی ۵؎ وہ گر گئی تو یہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۶؎ آپ نے اس کی ثنیہ باطل فرمادی اور فرمایا کہ کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں چھوڑ دیتا کہ تو اونٹ کی طرح چباتا ۷؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ تمیمی حنظلی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،غزوہ حنین،طائف اور تبوک میں شریک ہوئے،حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ صفین میں رہے اسی میں شہید ہوئے ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کو نجران کا حاکم مقرر کیا تھا۔

۲؎ غزوۂ تبوک کا نام جیش عسرۃ ہے یعنی تنگی والا لشکر کیونکر اس غزوہ میں گرمی سخت تھی اور لشکر کے پاس کھانا پانی بہت ہی کم۔تبوک خیبر سے پانچ سو کیلو میٹر ہے،یہ گنہگار خیبرکی زیارات سے مشرف ہوا مگر تبوک پر سے ہوائی جہاز میں سوار گزر گیا،خیبر



Total Pages: 807

Go To