Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۴؎ یعنی تم نے یہ قسم قطعیت رحم کی کھائی ہے بھائی سے کلام نہ کرنا قطع رحم ہے اور اس کی قسم منعقد تو ہوجاتی ہے مگر پورا کرنا واجب نہیں ہوتا بلکہ ایسی قسم کا توڑنا ضروری ہوتا ہے۔لایمین کے یہ معنے نہیں کہ قسم منعقد ہی نہ ہوئی ورنہ پھر کفارہ کیسا؟بلکہ معنے یہ ہیں کہ اس قسم کا پورا کرنا ممنوع ہے۔لایملك یا معروف ہے یا مجہول یعنی جو چیزقسم کھانے والے کی مملوک نہ ہو یا جس کا قسم کھانے والا مالک نہ ہو اس کا کفارہ ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

3444 -[19]

عَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " النَّذْرُ نَذْرَانِ: فَمَنْ كَانَ نَذَرَ فِي طَاعَةٍ فَذَلِكَ لِلَّهِ فِيهِ الْوَفَاءُ وَمَنْ كَانَ نَذَرَ فِي مَعْصِيَةٍ فَذَلِكَ لِلشَّيْطَانِ وَلَا وَفَاء فِيهِ وَيُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

روایت ہے حضرت عمران ابن حصین سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا نذریں دو ہیں ۱؎ تو جوکوئی فرمانبرداری کی نذر مانے تو یہ نذر اﷲ کے لیے ہے اس میں وفا لازم ہے۲؎ اور جو گناہ کی نذر مانے تو یہ نذرشیطان کے لیے ہے اور اس کی وفا نہیں۳؎ اس کا کفارہ وہ ہی بنے گا جوقسم کا کفارہ بنتا ہے۴؎ (نسائی)

۱؎ یعنی دو قسم کی ہیں اور ہرقسم کے تحت بہت سی قسمیں ہیں۔

۲؎ یعنی عبادت کی نذر سے رب تعالٰی راضی ہے اوراس کا پوراکرنا واجب ہے جیسے حج یا صدقہ یا روزہ یا نوافل کی نذر۔

۳؎ یعنی ایسی نذر سے شیطان خوش ہوتا ہے اسے ہرگز پورا نہ کرے جیسے ظلمًا قتل،ماں باپ کی نافرمانی یا نماز روزہ چھوڑ دینے کی نذر کہ شیطان تو ایسی حرکتیں کرانا ہی چاہتا ہے جب بندہ اس کی نذر مان لیتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے کہ میرا منشا پورا ہوا۔

۴؎ یعنی گناہ کی نذر کی ادا نہیں مگر ادا نہ کرنے پرکفارہ واجب ہے۔خیال رہے کہ احناف اور امام مالک کے ہاں کافر کی نذر لازم نہیں نہ زمانہ کفر میں نہ مسلمان ہوکر۔کافر خواہ گناہ کی نذر مانے خواہ نیکی کی جیسے بت پرستی کی نذر یا صدقہ و خیرات کی نذر،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّہُمْ لَاۤ اَیۡمٰنَ لَہُمْ"۔امام شافعی واحمد کے ہاں اگر کافرنے نیکی کی نذر مانی بعد میں مسلمان ہوگیا تو پوری کرے،ان کی دلیل رب تعالٰی کا فرمان ہے:"وَ اِنۡ نَّکَثُوۡۤا اَیۡمٰنَہُمۡ"اور وہ حدیث ہے کہ حضرت عمر نے عرض کیا یا رسول اﷲ میں نے اسلام لانے سے پہلے مسجد حرام میں ایک دن اعتکاف کی نذر مانی تھی فرمایا پوری کرو،امام اعظم کے ہاں یہ حکم استحبابی ہے اور اس آیت سے قسم سے مراد صورت قسم ہے،امام اعظم کا قول قوی ہے کیونکہ امام شافعی بھی کافر کی اس نذر توڑنے پر کفارہ واجب نہیں مانتے اور نذر کا واجب ہونا بغیر کفارہ درست نہیں۔(ازمرقات وغیرہ)خیال رہے کہ کفار کے مقدمات میں ان سے قسم لی جائے گی کہ وہ اپنے اعتقاد میں جھوٹی قسم بری جانتے ہیں،اس بنا پر ان کی قسم لینے کا مقصد درست ہے۔

3445-[20]

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ إِنْ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنْ عَدُوِّهِ فَسَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ: سَلْ مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ: لَا تَنْحَرْ نَفْسَكَ فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ مُؤْمِنًا قَتَلْتَ نَفْسًا مُؤْمِنَةً وَإِنْ كُنْتَ كَافِرًا تَعَجَّلْتَ إِلَى النَّارِ وَاشْتَرِ كَبْشًا فَاذْبَحْهُ لِلْمَسَاكِينِ فَإِنَّ إِسْحَاقَ خَيْرٌ مِنْكَ وَفُدِيَ بِكَبْشٍ فَأَخْبَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: هَكَذَا كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ أُفْتِيَكَ. رَوَاهُ رَزِينٌ

روایت ہے حضرت محمد ابن منتشر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ اگر اﷲ تعالٰی اسے دشمن سے نجات دے تو وہ اپنے آپ کو ذبح کردے گا۲؎ پھراس نے حضرت ابن عباس سے پوچھا ۳؎ تو آپ نے اس سے فرمایا کہ مسروق سے پوچھو تو انہوں نے فرمایا کہ اپنے کو ذبح نہ کر کیونکہ اگر تو مؤمن ہے تو تو نے مؤمن جان کو قتل کرلیا ۴؎ اور اگر تو کافر ہے توتو نے دوزخ کی طرف جلدی کی ۵؎ اور تو ایک دنبہ خرید اسے ذبح کر دے فقراء کے لیے کیونکہ حضرت اسحاق تجھ سے بہتر تھے اوران کا فدیہ دنبہ سے دیا گیا ۶؎ اس نے حضرت ابن عباس کو خبر دی آپ نے فرمایا کہ میں نے بھی تجھے یہ ہی فتویٰ دینا چاہا تھا۷؎(رزین)

 



Total Pages: 807

Go To