Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

الفصل الثانی

دوسری فصل

3384 -[3]

عَن الْبَراء بن عَازِب قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: عَلِّمْنِي عَمَلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ: «لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ أَعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفك الرَّقَبَة» . قَالَ: أَو ليسَا وَاحِدًا؟ قَالَ: " لَا عِتْقُ النَّسَمَةِ: أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا وَفَكُّ الرَّقَبَةِ: أَنْ تُعِينَ فِي ثَمَنِهَا وَالْمِنْحَةَ: الْوَكُوفَ وَالْفَيْءَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ فَإِنْ لم تطق فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ".رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا بولا مجھے ایسا عمل سکھائیے جو مجھے جنت میں پہنچادے ۱؎ فرمایا اگرچہ تو نے کلام مختصر کیا ہے مگر سوال وسیع کیا ۲؎ غلام آزاد کرو اور گردن چھوڑاؤ۳؎ وہ بولا کیا یہ دونوں ایک نہیں ۴؎ فرمایا نہیں غلام آزاد کرنا یہ ہے کہ تو اس کی آزادی میں اکیلا ہو اور گردن چھوڑانا یہ ہے کہ تو اس کی قیمت میں مدد کرے ۵؎ اور کچھ دودھ خیرات کر ۶؎ اور ظالم قرابتدار پر رجوع کر ۷؎ پس اگر تو اس کی طاقت نہ رکھے تو بھوکے کو کھانا دے اور پیاسے کو پانی اور بھلائی کا حکم کر اور برائی سے منع کرو ۸؎ اگر تو اس کی بھی طاقت نہ رکھے تو اپنی زبان کی حفاظت کر سوائے بھلائی کے ۹؎ (بیہقی شعب الایمان)

۱؎ یعنی اس عمل کی برکت سے اﷲ تعالٰی مجھے اول سے ہی جنت میں پہنچادے، دوزخ کی سزا دے کر نہ پہنچائے یا اسناد مجازی ہے یعنی وہ عمل جنت میں اولیٰ داخلہ کا سبب ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ اسناد مجازی جائز ہے لہذا یہ کہہ سکتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم دوزخ سے بچاتے ہیں  جنت میں پہنچاتے ہیں ، جب ایک عمل جنت میں پہنچاسکتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو اس عمل سے کہیں افضل ہیں  ضرور پہنچاسکتے ہیں۔

۲؎ یا تو لئن بمعنی وان ہے بمعنی اگرچہ،جیساکہ اشعۃ اللمعات میں اختیار کیا یا لام قسم کا ہے اور ان شرطیہ،اس صورت میں لقد عرضت شرط کی جزاء پہلی صورت میں تو عبارت کے وہ معنی ہیں جو ہم نے عرض کیے،دوسری صورت میں معنی یہ ہیں قسم ہے کہ تو نے اگر کلام چھوٹا کیا ہے تو مسئلہ بڑا پیش کیا ہے حضور نے سائل کی تعریف فرمائی کہ تو کلام چھوٹا کرتا ہے چیز بڑی مانگتا ہے جنتی ہوجانا معمولی بات نہیں،یہ آخری معنی مرقات نے کئے۔

۳؎ یہ ہے اس کی عرض و معروض کا جواب اور لئن الخ جملہ معترضہ ہے نسمہ ن و س کے فتحہ سے بمعنی روح و جان،کبھی نفس و ذات کو بھی کہہ دیتے ہیں یعنی روح والی ذات یہاں اسی معنے میں،اس سے مراد غلام یا لونڈی ہے،یوں ہی رقبہ اگرچہ گردن کو کہتے ہیں مگر مراد ہے گردن والا یعنی انسان۔

۴؎ یعنی حضور نے فرمایا وفك الرقبۃ واؤ عاطفہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عتق اور چیز ہے فک اور چیز مگر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک ہیں،ممکن ہے کہ واؤ بمعنی او ہو یعنی یا غلام آزاد کر یا پھنسی گردن چھڑا۔

 



Total Pages: 807

Go To