Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

تشبیہ دینا حق پرورش کے لیے ہے نانی پر ترجیح اس سے ثابت نہیں ہوتی،نانی تو احکام شرعیہ میں بھی ماں کی طرح ہے اسی لیے وہ ماں کی سی میراث یعنی چھٹا حصہ پاتی ہے۔(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

3378 -[3]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي وَأَرَادَ أَنْ يَنْزِعَهُ مِنِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لم تنكحي» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا عبداﷲ ابن عمرو سے راوی کہ ایک عورت نے عرض کیا یارسول اﷲ یہ میرا بچہ ہے کہ میرا پیٹ اس کا برتن تھا اور میرے پستان اس کے مشکیزے ۱؎  اور میری گود اس کی آرام گاہ ۲؎ اور اس کے باپ نے مجھے طلاق دی دی اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اس کی مستحق تو ہے جب تک اپنا نکاح نہ کر  لو۳؎(احمد)۴؎(ابوداؤد)

۱؎ کہ میں نے اسے نو مہینہ اپنے پیٹ میں رکھا ا ور دو سال اسے اپنے پستان چوسائے دودھ پلایا۔

۲؎ حواء ح کے کسرہ سے بمعنی خیمہ جو جنگل میں عارضی قیام کے لیے لگایا جائے،چونکہ ماں کی گود بچہ کا عارضی مقام ہے اس لیے اسے خیمہ سے تشبیہ دی،یہ بی بی بڑی فصیحہ تھیں۔

۳؎ یہ بچہ بہت چھوٹا تھا جس میں عقل و ہوش و تمیز نہ تھی اس لیے اسے اختیار نہ دیا گیا بلکہ ماں کو مرحمت ہوا،اگلی آنے والی حدیث میں بچہ سمجھ دار تھا اس لیے اسے اختیار دیا گیا لہذا حدیث میں تعارض نہیں، حالات کے اختلاف سے احکام مختلف ہوجاتے ہیں۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ چھوٹے بچہ کی پرورش کی مستحق ماں ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر ماں بچے کے اجنبی شخص سے نکاح کرے تو اس کایہ استحقاق جاتا رہے گا،پھر بچہ باپ کو ملے گا ہاں اگر اس نے بچہ کے چچا وغیرہ ذی رحم سے نکاح کیا تو اس کا حق پرورش باقی رہے گا۔(دیکھو کتب فقہ)

۴؎ یہ حدیث حاکم نے بھی نقل فرمائی اور اسے صحیح کہا۔خیال رہے کہ یہ عمرو،عمرو ابن شعیب ابن محمد ابن عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص ہیں،اگر جد سے مراد محمد ہوں تو حدیث مرسل ہوتی ہے اور اگر جد سے مراد عبداللہ ابن عمرو ہوں تو حدیث متصل،کیونکہ محمد تابعی ہیں اور عبداﷲ ابن عمرو صحابی،اسی لیے جہاں فقط جدہ ہوتا ہے وہاں ارسال و اتصال دونوں کا احتمال ہوتا ہے،یہاں چونکہ عبداﷲ کی تصریح ہے لہذا حدیث متصل ہے،یہ حدیث احناف کی قوی دلیل ہے کہ چھوٹے بچہ کی پرورش ماں کا حق ہے۔چنانچہ مؤطا امام مالک اور عبدالرزاق و بیہقی میں ہے کہ حضرت عمر نے اپنی ایک انصاری بیوی کو طلاق دی جس کے بطن سے ایک بچہ عاصم تھا حضرت عمر نے اسے لینا چاہا نانی نے انکار کیا مقدمہ بارگاہِ صدیقی میں پیش ہوا تو آپ نے نانی کے حق میں فیصلہ فرمایا،بچہ سمجھ دار تھا اسے کھیلتے ہوئے حضرت عمر نے اٹھالیا،یہ حدیث بہت طریقوں سے منقول ہے۔

3379 -[4]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأمه. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک لڑکے کو ۱؎  اس کے ماں باپ کے درمیان اختیار دیا۲؎(ترمذی)

 



Total Pages: 807

Go To