Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب بلوغ الصغیر و حضانتہ فی الصغر

بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی اس باب میں دوچیزیں بیان ہوں گی:ایک یہ کہ بچے کے بلوغ کی حد کیا ہے۔دوسرے یہ کہ بچہ کی پرورش کا حق کس کو ہے۔ حضانت حضن سے بنا بمعنی گود میں لینے یا مرغی کے پر،حضانت بچہ کو گود میں لینے یا مرغی کے اپنے بچہ یا انڈے کو اپنے پروں میں ڈھکنے کوکہتے ہیں۔اصطلاح میں بچہ کی پرورش کو حضانت کہا جاتا ہے۔(لمعات و اشعہ و مرقات)خیال رہے کہ بلوغ کی عمر لڑکی کے لیے نو برس سے پندرہ برس تک ہے،لڑکے کے لیے بارہ برس سے پندرہ برس تک ہے اس پر فتویٰ ہے اور بچہ کی پرورش کا حق ماں کو ہے اگرچہ طلاق یافتہ ہو،ماں نہ ہو تو نانی پڑنانی کو،یہ بھی نہ ہوں تو دادی پڑدادی کو،یہ بھی نہ ہوں تو سگی بہن کو پھر خالہ پھوپھی کو۔پرورش کا حق اس وقت تک ہے کہ بچہ خود کھا پی سکے استنجاء کرسکے،لڑکے کے لیے سات سال اور لڑکی کے لیے حیض آنے تک، اس کی تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کیجئے۔

3376 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أُحُدٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَرَدَّنِي ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ عَامَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: هَذَا فَرْقُ مَا بَين الْمُقَاتلَة والذرية

روایت ہے حضرت ابن عمر سےفرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم پر احد کے سال پیش کیا گیاجب کہ میں چودہ سال کا تھا تو مجھے قبول نہ فرمایا ۱؎ پھر خندق کے سال پیش کیا گیاجب کہ میں پندرہ برس کا تھا تو مجھے قبول فرمالیا ۲؎ حضرت عمر ابن عبد العزیز نے فرمایا کہ یہ ہی غازیوں اور بچوں کے درمیان فرق ہے ۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی    ۳ھ؁  میں غزوہ احد ہوا مجھے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں بھرتی کے لیے پیش کیا گیا کہ میرا نام بھی غازیوں کی فہرست میں ہو اور مجھے سپاہیانہ حیثیت سے غزوہ میں جانے کی اجازت ملے تو حضور نے انکار فرمادیا کہ ابھی یہ نابالغ بچے ہیں۔

۲؎ یعنی     ۴ھ؁ میں غزوہ خندق ہوا تب میری عمر پندرہ سال ہوچکی تھی تب میں اسلامی فوج میں بھرتی کے لیے پیش ہوا تو مجھے بھرتی کرلیا گیا۔

۲؎ خیال رہے کہ لڑکی کے بلوغ کی عمر کم از کم نو سال ہے اور زیادہ سے زیادہ پندرہ سال اور لڑکے کے بلوغ کی عمر کم از کم بارہ سال زیادہ سے زیادہ اٹھارہ سال ہے مگر ایک روایت میں اس کی انتہائی عمر پندرہ سال ہے فتویٰ اسی پر ہے، یہ تو سن کے لحاظ سے بلوغ کا ذکر تھا،علامت بلوغ لڑکی کے لیے حیض ہوجانا یا زیر ناف بال آجانا یا احتلام ہے،لڑکے کے لیے علامات بلوغ احتلام، حاملہ کردینا، زیر ناف بال ہیں، یہاں بلوغ کی انتہائی عمر کا ذکر ہے لہذا حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اس عمر سے پہلے لڑکا بالغ ہوسکتا ہی نہیں،مطلب یہ ہے کہ اگر پندرہ سال کی عمر میں بھی یہ کوئی علامت ظاہر نہ ہو تو لڑکا بالغ مانا جائے گا۔(مرقات و اشعہ وغیرہ)

3377 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: عَلَى أَنَّ مَنْ أَتَاهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ رَدَّهُ إِلَيْهِمْ وَمَنْ أَتَاهُمْ مِنَ الْمُسْلِمِينَ لَمْ يَرُدُّوهُ وَعَلَى أَنْ يَدْخُلَهَا مِنْ قَابِلٍ وَيُقِيمَ بِهَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا دَخَلَهَا وَمَضَى الْأَجَلُ خَرَجَ فَتَبِعَتْهُ ابْنَةُ حَمْزَةَ تُنَادِي: يَا عَمِّ يَا عَمِّ فَتَنَاوَلَهَا عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِيَدِهَا فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَزَيْدٌ وَجَعْفَرٌ قَالَ عَلِيٌّ: أَنَا أَخَذْتُهَا وَهِيَ بِنْتُ عَمِّي. وَقَالَ جَعْفَرٌ: بِنْتُ عَمِّي وَخَالَتُهَا تَحْتِي وَقَالَ زَيْدٌ: بِنْتُ أَخِي فَقَضَى بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَالَتِهَا وَقَالَ: «الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ» . وَقَالَ لَعَلِيٍّ: «أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ» وَقَالَ لِجَعْفَرٍ: «أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي» . وَقَالَ لزيد: «أَنْت أخونا ومولانا»

روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیبیہ کے دن ۱؎ تین چیزوں پر صلح فرمائی اس پر مشرکین میں سے جو آپ کے پاس آئے حضور اسے لوٹا دیں کفار کی طرف ۲؎ اور جو مسلمان ان کے پاس چلا جائے وہ اسے واپس نہ کریں ۳؎ اور اس پر کہ سال آئندہ مکہ میں داخل ہوں اور وہاں تین دن قیام فرمائیں ۴؎ پھر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے اور مدت گزر گئی تو وہاں سے روانہ ہوئے ۵؎ تو حضرت حمزہ کی بیٹی آپ کے پیچھے ہولی چچا جان چچان جان کہتی ہوئی ۶؎ تو اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اٹھالیا اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۷؎ اس بچی میں جناب علی،زید،جعفرجھگڑے ۸؎ حضرت علی نے فرمایا کہ اسے میں نے لیا ہے وہ میری چچا زاد ہے ۹؎ اور حضرت جعفر بولے میری چچا زاد ہے اس کی خالہ میرے پاس ہے ۱۰؎ حضرت زید بولے میری بھتیجی ہے ۱۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کا فیصلہ اس کی خالہ کے لیے کیا اور فرمایا کہ خالہ ماں کی جگہ ہے ۱۲؎  اور حضرت علی سے فرمایا کہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے۱۳؎ اور جناب جعفر سے فرمایا تم میری ہم صورت ہم سیرت ہو۱۴؎ اور حضرت زید سے فرمایا تم ہمارے بھائی ہماے پیارے ہو ۱۵؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 807

Go To