Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

باب النفقات و حق المملوک

خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  نفقہ یا نفوق بمعنی ہلاکت سے ہے یا نفاق بمعنی علیحدگی ورواج سے بنا،امام محمد زمخشری فرماتے ہیں کہ عربی میں جس کا ف کلمہ نون ہو اور عین کلمہ ف اس میں جانے و نکلنے کے معنے ضرور ہوتے ہیں جیسے نفق،نفر،نفد،نفذ،نفخ،نفس،نفی وغیرہ۔ اصطلاح میں نفقہ خرچہ کو کہتے ہیں کیونکہ یہ بھی ختم ہوتا رہتا ہے۔ خیال رہے کہ کسی کا نفقہ واجب ہونے کی تین وجہیں ہیں:زوجیت،قرابت، ملکیت،چونکہ نفقے بہت سی قسم کے ہیں۔اولاد کا خرچہ، ماں باپ کا، بیوی کا،غلام و لونڈی کا، مملوکہ جانوروں کا اس لیے نفقات جمع فرمایا۔مملوک کے      مالک پر تین حق ہیں: کھانا ، کپڑا  اور طاقت سے زیادہ کام نہ کرانا۔(از مرقات واشعہ) ظاہر یہ ہےکہ  یہاں مملوک سے مراد لونڈی غلام ہیں اور ہوسکتا ہے کہ مملوک جانور بھی اس میں داخل ہوں۔

3342 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: إِنَّ هندا بنت عتبَة قَالَت: يَا رَسُول الله إِن أَبَا سُفْيَان رجل شحيح وَلَيْسَ يعطيني مَا يَكْفِينِي وَوَلَدي إِلَّا مَا أخذت مِنْهُ وَهُوَ يعلم فَقَالَ: «خذي مَا يَكْفِيك وولدك بِالْمَعْرُوفِ»

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ ہندا بنت عتبہ نے عرض کیا ۱؎ یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم ابو سفیان بخیل آدمی ہیں مجھے اس قدر خرچہ نہیں دیتے جو مجھے اور میری اولاد کو کافی ہو مگر یہ کہ میں ان کی بے خبری میں ان سے لے لوں ۲؎ تو فرمایا جو تمہیں اور تمہاری اولاد کو کافی ہو بقدر معروف لے لو ۳؎(مسلم، بخاری)

۱؎ آپ کا نام ہندا بنت عتبہ ابن ربیعہ ابن عبد شمس ابن عبد مناف ہے یعنی عبد مناف میں حضور سے مل جاتی ہیں عتبہ کفار مکہ کا سردار تھا ہندا ابوسفیان کی بیوی اور امیر    معاویہ کی والدہ ہیں،فتح مکہ کے سال ابوسفیان کے بعد ایمان لائیں،حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کا نکاح قائم رکھا ان کے زمانہ کفر کے حالات سب کو معلوم ہیں۔ ایک دن بارگاہ رسالت میں عرض کرنے لگیں یارسول اﷲ پہلے مجھے آپ اور آپ کے صحابہ بہت ناپسند تھے اب مجھے آپ اور آپ کے صحابہ بہت ہی محبوب معلوم ہوتے ہیں حضور نے فرمایا وایضًا یعنی ابھی تم کو مجھ سے محبت اور بھی زیادہ ہوگی جس قدر تمہارا ایمان کامل ہوتا جائے گا اسی قدر میری محبت بڑھتی جائے گی یا یہ مطلب ہے کہ ہمارا بھی یہی حال ہے کہ ہم پہلے تم سے نفرت کرتے تھے اب محبت کرتے ہیں،آپ کی وفات زمانہ فاروقی میں ابو قحافہ(والد ابوبکرالصدیق)کے وفات کے دن ہوئی بڑی عالمہ فصیحہ تھیں،زمانہ فاروقی میں بہت جہادوں میں شریک ہوئیں اور بڑے کارنامہ کئے رضی اللہ عنہا۔

۲؎ یعنی ان کی جیب یا ان کے گھر سے انکی بے خبری میں جو کچھ لے لوں وہ تو مجھے آسانی سے مل جاتا ہے وہ خود اپنی خوشی سے کافی خرچہ نہیں دیتے۔

۳؎ یعنی تم کو اجازت ہے کہ بقدر ضرورت ابوسفیان سے بغیر پوچھے ان کا مال لے سکتی ہو۔خیال رہے کہ یہ فتویٰ ہے فیصلہ یعنی قضا نہیں ورنہ ابو سفیان کو بلا کر جواب دعویٰ سنا جاتا فیصلہ بغیر دوسرے فریق کے بیان لئے نہیں ہوتا۔ اس حدیث سے چند مسائل



Total Pages: 807

Go To