Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

معنے یہ ہیں کہ تین طلاق والی عورت پہلے خاوند کو حلال نہیں یہاں تک کہ دوسرے خاوند سے صحبت کرے مگر حق یہ ہے آیت میں تنکح بمعنی نکاح ہے صحبت کا شرط ہونا اس حدیث سے ثابت ہے عسیلہ تصغیر فرما کر یہ بتایا کہ پوری صحبت کرنا شرط نہیں انزال ضروری نہیں صرف حشفہ غائب ہونا کافی ہے جس سے غسل فرض ہوجاتا ہے۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ نابالغ بچہ سے صحبت حلالہ کے لیے کافی نہیں ہاں مراہق یعنی قریب بلوغ کی صحبت کافی ہے۔دوسرے یہ کہ بہت چھوٹی بچی کو اگر تین طلاقیں دی گئیں تو اس کا نکاح ثانی اور صحبت حلالہ کے لیے کافی نہیں کہ پہلی صورت میں خاوند لذت نہیں چکھتا دوسری صورت میں عورت،تیسرے یہ کہ لونڈی سے مولیٰ کی صحبت حلالہ کے لیے کافی نہیں کہ مولیٰ خاوند نہیں۔چوتھے یہ کہ مجنونہ یا بے ہوش یا سوتی ہوئی عورت سے صحبت حلالہ کے لیے کافی ہے کہ یہ صحبت لذت کے لائق تھی اگرچہ عورت نے ان عوارض کی وجہ سے چکھی نہیں یہ ہی عام علماء کا مذہب ہے۔پانچویں یہ کہ وطی بالشبہ،زنا،ملک عین کی صحبت سے حلالہ درست نہیں،یہ صحبت وغیرہ کی قیود اس لیے ہیں کہ لوگ تین طلاقوں پر دلیری نہ کریں کیونکہ دوسرا خاوند صحبت کے بعد طلاق مشکل سے ہی دے گا۔(مرقات وغیرہ)

۶؎ بخاری کی ایک روایت میں یہ ہے کہ عبدالرحمن نے عرض کیا یارسول اﷲ یہ جھوٹی ہے اسے چمڑے کی طرح چھیلتا ہوں تو فرمایا کہ اگر یہ سچی بھی ہو تب بھی اپنے قول سے رفاعہ کو حلال نہیں۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3296 -[2]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَعَنَ رسولُ الله المحلّلَ والمُحلَّلَ لَهُ. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے لعن فرمائی حلالہ کرنے والے پر اور جس کے لیے حلالہ کیا گیا ۱؎(دارمی)

۱؎ محلل سے مراد دوسرا خاوند ہے اور محلل لہ سے مراد پہلا خاوند جس نے تین طلاقیں دیں اگر حلالہ متعہ یا عارضی چند روزہ نکاح کے ذریعہ کیا گیا تو حلالہ درست ہی نہ ہوا کہ یہ نکاح ہی باطل ہے حلالہ میں نکاح صحیح ضروری ہے اور اگر نکاح درست کیا گیا مگر ارادہ حلالہ کا تھا تو حلالہ ہوجائے گا مگر دونوں خاوند بے حیا ہیں اس لیے لعنت فرمائی،اگر حلالہ درست ہی نہ ہوتا تو ان خاوندوں کو محلل اور محلل لہ  کیوں کہا جاتا۔بعض احادیث میں یہ ہے کہ حلالہ کرنے والا مانگے ہوئے بکرے کی طرح ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ بعض سخت ضرورتوں میں حلالہ کرنا بہتر بھی ہوجاتا ہے یہاں بغیر ضرورت حلالہ والوں پر لعنت فرمائی گئی ہے یا لعنت جب ہے جب کہ اجرت پر حلالہ کرایا جائے۔فتح القدیر میں ہے کہ اگر تین طلاق والی عورت بغیر ولی کی اجازت غیر کفو میں نکاح کرے تو حلالہ درست نہ ہوگا کیونکہ ہر مذہب مفتی بہ میں یہ نکاح ہی درست ہی نہیں،غیر کفو سے نکاح میں ولی کی اجازت شرط ہے۔(مرقات)

3297 -[3]

وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَعقبَة بن عَامر

اور ابن ماجہ حضرت علی وابن عباس اور عقبہ ابن عامر سے ۱؎

۱؎ یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے بہت سی کتب میں منقول ہے اسے ترمذی نے حسن صحیح فرمایا۔(مرقات)

3298 -[4]

وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: أَدْرَكْتُ بِضْعَةَ عَشَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَقُولُ: يُوقَفُ الْمُؤْلِي. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے چند اور دس صحابہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو پایا وہ تمام فرماتے تھے کہ ٹھہرایا جائے ایلاء کرنے والا۲؎(شرح سنہ)

 



Total Pages: 807

Go To