Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

ہوا اسے توبہ نصیب نہ ہوئی اور یعقوب علیہ السلام کے دس بیٹوں نے بڑے سخت گناہ کیے مگر محبت یعقوبی حاصل کرنے کےلیے انہیں توبہ نصیب ہوگئی مقبول بارگاہ بھی ہوگئے ان دونوں بیبیوں کی یہ ساری تدبیریں حضور کی محبت میں تھیں اس لیے رب تعالٰی نے انہیں قرآن کریم میں توبہ کا حکم دیا کہ فرمایا:"اِنۡ تَتُوۡبَاۤ اِلَی اللہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوۡبُکُمَا"پھر یہ بیبیاں پہلے کی طرح مقبول بارگاہ الٰہی رہیں اب ان پر زبان طعن کھولنا بدنصیبی ہے۔

۵؎ وہ ہی عرض کیا جو پہلے مشورہ میں طے ہوچکا تھا۔خیال رہے کہ ہم تمام صحابہ کرام کو متقی عادل مانتے ہیں معصوم نہیں مانتے یعنی ان بزرگوں سے گناہ سرزد ہوسکتے ہیں مگر ان میں سے کوئی گناہ پر قائم نہیں رہتے،ایسے ہی یہاں ہوتا،گناہ کرلینا اور ہے گناہ پر جم جانا کچھ اور۔

۶؎ یعنی اے بیوی تم پر اس عرض میں کوئی تنگی و مضائقہ نہیں ہم تمہارا مقصد سمجھ گئے۔(مرقات)

 ۷؎ تاکہ تم کو تکلیف نہ ہو ہمارے وہاں زیادہ ٹھہرنے سے تم کو دکھ ہوتا ہے اس قسم کی وجہ یہ نہ تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے منہ شریف کی خوشبو کی خبر نہ تھی ہر شخص اپنے منہ اور بغل کی خوشبو جانتا ہے یہ عیب نہیں بلکہ وہ وجہ تھی جو آگے آرہی ہے۔

۸؎ اس قسم فرمالینے کی خبر کسی کو نہ دینا تاکہ بی بی زینب کو اس قسم کھالینے پر صدمہ نہ ہو۔(مرقات)اس لیے کہ دوسری ازواج کو اس خوشبو کی خبر نہ ہو،خوشبو تو بغیر خبر دیئے ہی معلوم ہوجاتی ہے اس چھپانے سے مقصود حضرت زینب کی خاطر داری ہے۔

۹؎ یہ ہے اس قسم فرمانے کی وجہ یعنی اس قسم کی وجہ اپنی بے علمی نہیں بلکہ حضرت عائشہ صدیقہ و حفصہ کو خوش کرنا مقصود تھا کہ ہم حضرت زینب کے پاس زیادہ نہ ٹھہرا کریں گے تاکہ یہ خوش رہیں قرآن کریم بھی فرماتاہے:"تَبْتَغِیۡ مَرْضَاتَ اَزْوٰجِکَ"آپ اپنی بیویوں کی رضا چاہتے ہیں اور کیوں نہ چاہیں ان بیویوں کی رضا   تو رب تعالٰی بھی چاہتا ہے رضی اللہ عنہما۔

۱۰؎ بعض لوگ اس واقعہ سے اس پر دلیل پکڑتے ہیں کہ حضور کو علم غیب نہ تھا اگر ہوتا تو آپ کو پتہ چل جاتا کہ ہمارے منہ شریف سے مغافیر کی مہک نہیں آرہی ہے یہ محض غلط ہے کہ قرآن کریم کے بھی خلاف ہے اور اس حدیث کے بھی یہ سب کچھ ان دونوں ازواج کو راضی کرنے کے لیے ہوا اپنے منہ کی مہک غیب نہیں ہوتی محسوس ہوتی ہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3279 -[6]

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عورت اپنے خاوند سے بلا ضرورت طلاق مانگے ۱؎ تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۲؎ (احمد،ترمذی، ابو داؤد،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یہاں بأ س سے مراد سختی ہے،ما زائدہ ہے یعنی جو بغیر سخت تکلیف کے طلاق مانگے۔

 ۲؎ یعنی ایسی عورت کا جنت میں جانا تو کیا ہی ہوگا وہاں کی خوشبو بھی نہ پائے گی اس سے مراد ہے اولیٰ داخلہ ورنہ آخر کار سارے مؤمن جنت میں پہنچیں گے اگرچہ کیسے ہی گنہگار ہوں لہذا یہ حدیث شفاعت کے خلاف نہیں،بعض شارحین نے فرمایا کہ ایسی عورت



Total Pages: 807

Go To