Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

خدا کی رضا چاہتے ہیں دوعالم                   خدا چاہتا ہے رضائے محمد

لہذا اگر حضور ہم جیسے گناہ گاروں کو رب سے بخشوانا چاہیں تو رب تعالٰی ضرور بخش دے گا،کیونکہ وہ حضور کی رضا چاہتا ہیں    ؎

تو جو چاہے ابھی میل میرے دل کے دُھلیں           کہ خدا دل نہیں کرتا کبھی میلا تیرا

خیال رہے کہ چند عورتوں نے اپنے کو حضور پر پیش کیا ہے،میمونہ،ام شریک،زینب بنت خزیمہ،خولہ بنت حکیم،رب تعالٰی فرماتاہے: "وَ امْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنۡ وَّہَبَتْ نَفْسَہَا لِلنَّبِیِّ"الخ(مرقات)

۴؎ یعنی مصابیح میں وہ حدیث اس جگہ تھی میں نے مناسبت کا خیال کر تے ہوئے حجتہ الوداع کے باب میں ذکر کردی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3251 -[14]

عَن عَائِشَة رَضِي الله عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ قَالَتْ: فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ عَلَى رِجْلَيَّ فَلَمَّا حَمَلْتُ اللَّحْمَ سَابَقْتُهُ فَسَبَقَنِي قَالَ: «هَذِهِ بِتِلْكَ السَّبْقَةِ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

 روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ آپ کسی سفر میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ تھیں فرماتی ہیں کہ میں نے حضور کے ساتھ دوڑ لگائی تو میں پاؤں سے دوڑنے میں آگے نکل گئی ۱؎ پھر جب میں کچھ بھاری ہوگئی تو آپ نے دوڑ لگائی تو آپ مجھ سے آگے بڑھ گئے ۲؎ فرمایا یہ اس سبقت کاعوض ہوگیا ۳؎(ابوداؤد)

۱؎ یعنی بحالت سفر کسی منزل پر ہم نے قیام کیا میدان تھا،رات کے اندھیرے یا دن میں اکیلے میں میں نے اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے دوڑ لگائی کہ یہ دیکھیں کون آگے نکل جائے،یہ دوڑ سواری پر نہ تھی پاؤں پر تھی میں آگے نکل گئی حضور نے خود ہی آپ کو آگے نکل جانے دیا ہوگا انہیں خوش کرنے کے لیے۔

۲؎ یہ پتہ نہ لگا کہ یہ دوڑ کس جگہ ہوئی بہرحال کچھ عرصہ کے بعد ہوئی ہو گی اور اس دوڑ میں آپ پیچھے رہ گئیں،یہ ہے اپنی ازواج پاک سے اخلاق کا برتاؤ۔ایسے اخلاق سے گھر جنت بن جاتا ہے،مسلمان یہ اخلاق بھول گئے،خیال رہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ لڑکپن میں حضور کے نکاح میں آئیں جب کہ حضور کی عمر شریف پچاس سال کے قریب تھی،اس قدر تفاوت عمر کے باوجود آپ کبھی نہ گھبرائیں کیوں ان اخلاق کریمانہ کی وجہ سے،باقی بیویاں بیوگان اور عمر رسیدہ تھیں لہذا حدیث پر اعتراض نہیں کہ گڑیاں کھلانا دوڑ لگانا،کھیل دکھانا صرف عائشہ صدیقہ ہی سے کیوں ہے دوسری بیویوں سے کیوں نہیں۔

۳؎ یعنی اب کیسے،ہم جیت گئے بدلہ ہوگیا۔فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ چار چیزوں میں دوڑ جائز ہے اونٹ،گھوڑا،تیر اندازی،پیدل، ان میں دو طرفہ مال کی شرط حرام ہے کہ یہ جوا ہے،یک طرفہ جائز ہے کہ انعام ہوں اگرتیسرا کہہ دے کہ تم میں سے جو جیتے گا اسے یہ انعام ملے گا جائز ہے۔

3252 -[15]

وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. والدارمي

روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہو اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا ہوں ۱؎ اور جب تمہارا ساتھی مرجائے تو اسے چھوڑدو ۲؎(ترمذی،دارمی)

 



Total Pages: 807

Go To