Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۴؎ یعنی اگرچہ حضرت انس نے مجھے یہ حدیث مرفوعًا نہیں سنائی اپنا قول سنایا مگر مجھ کو ان پر اعتماد ہے کہ وہ ایسی عظیم الشان بات اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے سن کر ہی کہہ رہے ہیں۔

3234 -[6]

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِين تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ لَهَا: «لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ».قَالَتْ: ثَلِّثْ. وَفِي رِوَايَةٍ: إِنَّهُ قَالَ لَهَا: «لِلْبِكْرِ سَبْعٌ وَلِلثَّيِّبِ ثَلَاثٌ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوبکر ابن عبدالرحمن سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے جب ام سلمہ سے نکاح کیا اور وہ آپ کے پاس رہیں تو فرمایا کہ تمہاری وجہ سے تمہارے قبیلہ والوں کی حقارت نہیں ۲؎ اگر تم چاہو تو تمہارے پاس سات دن قیام کروں اور باقی بیویوں کے پاس بھی سات دن قیام کروں ۳؎ اور اگر تم چاہو تو تمہارے  تین دن قیام کروں پھر دورہ کروں ۴؎ وہ بولیں کہ تین دن قیام فرمائیں ۵؎ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ کنواری کے لیے سات دن ہیں اور بیوہ کے لیے تین دن ۶؎(مسلم)

۱؎ آپ ابوبکر ابن عبدالرحمن ابن حارث ابن ہشام ہیں یعنی ابوجہل کے بھائی کے پوتے تابعی ہیں مخزومی ہیں،ولید ابن عبدالملک کی خلافت میں فوت ہوئے۔

۲؎ ام سلمہ کے اہل سے مراد یا تو خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہیں یا حضرت ام سلمہ کا قبیلہ و خاندان،مطلب یہ ہے کہ اگر ہم تمہارے پاس کم قیام کریں توا س کی وجہ یہ نہیں کہ ہم کو تم سے محبت کم ہے اور تم ہم پر گراں ہوتاکہ تمہارے قبیلہ والوں کے لیے یہ بات توہین کی ہو۔(لمعات)

۳؎ یعنی اگر ہم اس وقت تمہارے پاس سات دن قیام کریں گے تو بقیہ بیویوں کے پاس بھی سات سات دن ہی رہیں گے۔ معلوم ہوا کہ باری اول سے ہی مقرر ہوجاتی ہے،ورنہ چاہیے تھا کہ اگر حضرت ام سلمہ کے پاس سات دن قیام ہوتا تو باقی ازواج کے پاس چار چار دن قیام ہوتا،کیونکہ تین دن تو ام سلمہ کے خصوصی حق کے ہوتے بعد میں باری مقرر ہوتی لہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے۔

۴؎ اس طرح کہ باقی ازواج کے پاس بھی تین تین دن قیام کروں،لہذا یہ جملہ بھی امام اعظم کے خلاف نہیں۔

۵؎ تاکہ حضور جلد میرے پاس تشریف لائیں۔

۶؎ مطلب وہ ہی ہے جو ابھی عرض کیا گیا کہ مرد اگر کنواری عور ت سے شادی کرے،تو سات دن اس کے پاس رہے پھر بقیہ بیویوں کے پاس سات سات دن رہے اور اگر بیوہ عورت سے نکاح کرے تو تین دن اس کے پاس رہے،پھر بقیہ بیویوں کے پاس بھی تین تین دن ہی رہے،اس کی پہلی باری میں بھی برابری و مساوات ہوگی،یہ باری اس نئی کے لیے خاص علیٰحدہ نہ ہوگی،ورنہ حضرت ام سلمہ سے دریافت نہ فرمایا جاتا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3235 -[7]

عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ هَذَا قَسْمِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم اپنی ازواج پاک کے درمیان باری مقرر فرماتے تھے بہت انصاف فرماتے تھے ۱؎ اور فرماتے تھے الہٰی یہ میری تقسیم ہے اس میں جس کا مالک ہوں پس تو مجھے اس میں عتاب نہ فرما جس کا تو مالک ہے میں مالک نہیں ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)

 



Total Pages: 807

Go To