Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

۴؎ سبحان اﷲ! یہاں تو ایک زائد شخص کے لیے اجازت حاصل فرما رہے ہیں اور حضرت جابر و طلحہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کے گھر چار پانچ آدمیوں کی دعوت میں کئی سو حضرات کو لے گئے اور کھانا کھلایا،یہاں مسئلہ شرعی بتانا مقصود ہے اور وہاں اپنی ملکیت اور سلطنت خداداد کا اظہار مقصود کہ حضور ہم سب کے مالک ہیں،ساری امت حضور کی لونڈی غلام،مالک کو حق ہے کہ اپنے غلام کی دعوت میں جسے چاہے بلائے،کیونکہ غلام کا مال مالک کا مال ہے،نیز وہاں ان صدہا حضرات کو حضور نے خود اپنے معجزے سے کھانا کھلایا کہ وہاں کھانا کھانے سے کم نہ ہوا،جو چیز خرچ کرنے سے کم نہ ہو وہاں بلانے نہ بلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،کنوئیں،دریا سے بغیر بلائے سب پانی پیتے ہیں مگر گھڑے کا پانی مالک سے پوچھ کر،ایصال ثواب کا بھی یہی حکم ہے،اگر کسی خاص میت کے لیے کھانا پکایا گیا ہے تو تم اس کے ساتھ ساری امت رسول کو ثواب پہنچاسکتے ہو۔

۵؎ اس سے دعوت کے متعلق بہت سے مسائل معلوم ہوئے:ایک یہ کہ کوئی شخص بغیر بلائے دعوت میں نہ جائے۔دوسرے یہ کہ بلایا ہوا آدمی بھی اپنے ساتھ کسی ناخواندہ کو نہ لے جائے الابالعرف چنانچہ بادشاہ کی دعوت میں اس کا باڈی گارڈ عملہ جاسکتا ہے کہ اب اس پر عرف قائم ہے،تیسرے یہ کہ ناخواندہ شخص کے لیے اجازت لی جائے۔چوتھے یہ کہ ناخواندہ بغیر اجازت داعی کے گھر میں داخل نہ ہو،پانچویں یہ کہ مہمان کھاتے وقت کسی آجانے والے آدمی کو آرڈر نہ کرے کہ آؤ کھانا کھالو کیونکہ مہمان کھانے کا مالک نہیں،چھٹے یہ کہ دستر خوان والا دوسرے دستر خوان والے کو کوئی چیز اس دستر خوان کی نہ دے ہاں ایک دستر خوان کے لوگ ایک دوسرے کو جو چاہیں دیں،بعض فقہاء تو فرماتے ہیں کہ مہمان اجنبی کتے کو ہڈی بھی نہیں ڈال سکتا،اگر مالک کا کتا ہے تو اس کو ڈالے۔(از مرقات،و شامی وغیرہ مع زیادت)بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر مہمان کسی وجہ سے خود کھانا نہ کھائے تو اپنا حصہ دوسرے کو بغیر اجازت کھلا سکتا ہے۔واﷲ اعلم!(مرقات)

الفصل الثانی

دوسری فصل

3220 -[11]

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أولم على صَفِيَّة بسويق وتمر. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے بی بی صفیہ پر ستو اور چھواروں سے ولیمہ کیا ۱؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی اس ولیمہ میں ستو اور چھوارے ملا کر کھلائے یا ستو علیحدہ اور چھوارے علیحدہ لہذا یہ حدیث گزشتہ حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور نے اس ولیمہ میں حیس دیا کہ ستو اور چھوارے ملا کر بھی حیس بنایاجاتا ہے یا ستو علیحدہ دیئے اور حیس علیحدہ۔

3221 -[12]

وَعَنْ سَفِينَةَ: أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا فَدَعَوْهُ فَجَاءَ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى عِضَادَتَيِ الْبَابِ فَرَأَى الْقِرَامَ قَدْ ضُرِبَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ فَرَجَعَ. قَالَتْ فَاطِمَةُ: فَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَدَّكَ؟ قَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَوْ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتا مزوقا» . رَوَاهُ أَحْمد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت سفینہ سے ۱؎ کہ ایک شخص حضرت علی بن ابی طالب کا مہمان ہوا آپ نے اس کے لیے کھانا تیار کیا ۲؎ تو جناب فاطمہ بولیں کہ کاش ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کو بلاتے تو آپ بھی ہمارے ساتھ کھاتے ۳؎ چنانچہ آپ کو بلایا حضور تشریف لائے تو آپ نے اپنے دنوں ہاتھ دروازے کی چوکھٹوں پر رکھے گھر کے ایک گوشہ میں پردہ دیکھا ۴؎ چنانچہ آپ واپس ہوگئے ۵؎ جناب فاطمہ فرماتی ہیں کہ میں آپ کے پیچھے گئی بولی یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کس چیز نے آپ کو واپس کیا فر مایا میرے لیے یا نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ مزین گھر میں داخل ہوں ۶؎ (احمد،ابن ماجہ)

 



Total Pages: 807

Go To