$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۶؎ یعنی تو جسے چاہے تو فیق خیر دے کر آگے بڑھا دے کہ اس کے درجے بلند کر دے اور جسے چاہے تو فیق نہ دے،جس سے وہ اپنی بدعملیوں کے باعث دوزخ میں پہنچ جائے لہذا اس پر یہ اعتراض نہیں کہ جب رب تعالٰی نے ہمیں پیچھے کردیا تو ہمارا کیا قصور ہے کیونکہ ہمارا پیچھے ہٹ جانا اپنی بدعملی سے ہے۔

۷؎  یہ حدیث ابوداؤد،ترمذی اور نسائی نے بھی مختلف طریقوں سے نقل فرمائی۔

2483 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ أَصْلِحْ لِي دِينِي الَّذِي هُوَ عِصْمَةُ أَمْرِي وَأَصْلِحْ لِي دُنْيَايَ الَّتِي فِيهَا مَعَاشِي وَأَصْلِحْ لِي آخِرَتِي الَّتِي فِيهَا مَعَادِي وَاجْعَلِ الْحَيَاةَ زِيَادَةً لِي فِي كُلِّ خَيْرٍ وَاجْعَلِ الْمَوْتَ رَاحَةً لِي مِنْ كُلِّ شَرٍّ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلى الله عليه وسلم یہ دعا مانگتے تھے الٰہی میرا دین ٹھیک فرما جو میرے کام کی حفاظت ہے ۱ ؎اور میری دنیا درست کردے جس میں میری زندگی ہے ۲؎ اور میری آخرت درست فرمادے جہاں مجھے لوٹنا ہے ۳؎ اور میری زندگی کو ہر بھلائی میں زیادتی بنا ۴؎ اور میر ی موت کو ہر تکلیف سے راحت قرار دے ۵؎ (مسلم)

۱؎ یعنی دینداری ہی وہ صفت ہے جو میرے نفس،مال،عزت و آبرو کی اصلاح کرتی ہے تو میرے دین کو درست رکھ،ہر چیز کی درستی دین سے ہے اور دین کی درستی تیرے فضل سے،عقائد اخلاق کی درستی،د ل کی سیاہی دور ہونا سب دین میں داخل ہے،جسے یہ نعمت مل گئی اسے سب کچھ مل گیا۔(لمعات)

۲؎  دنیا سے مراد صحت تندرستی اور روزی ہے،حلال روزی جو اطاعت الٰہی پرمدد دے رب تعالٰی کی نعمت ہے اور حرام روزی جس سے انسان میں سرکشی اور غفلت وغیرہ پیدا ہوتی ہے اﷲ کا عذاب یعنی مجھے وہ تندرستی و مال دے جو تیری اطاعت میں صَر ف ہو۔

۳؎  آخرت سے مراد قبر و حشر اور بعد حشر ابدالآباد تک کی زندگی ہے،چونکہ ہم اس عالم سے دنیا میں آئے ہیں اس لیے وہاں جانے کو لوٹنا فرمایا گیا۔

۴؎ یعنی میری زندگی کی ہر گھڑی نیکیوں کی زیادتی کا ذریعہ ہو کہ ہر ساعت نیکیاں کرتا رہوں جس سے میرا نیک نامہ اعمال پُر ہوتا رہے۔سبحان اﷲ! رب تعالٰی ایسی زندگی نصیب کرے۔سوتے وقت انسان دن بھر کا حساب لگایا کرے کہ آج میں نے کتنے گناہ کیے اور کتنی نیکیاں،گناہوں سے توبہ کرکے نیکیوں پر شکر کر کے سوئے۔

۵؎ اس طرح کہ میری موت ایمان پر توبہ پر ہو تاکہ بعد موت میں دنیا کی مشقتوں سے تو چھوٹ جاؤں اور قبر و حشر میں مصیبت نہ دیکھوں بلکہ راحت دیکھو۔خیال رہے کہ پرہیزگار مر کر دنیا کی مصیبتوں سے چھوٹ جاتا ہے اور لوگ اسے روتے ہیں،وہ رب تعالٰی کی رحمت دیکھ کر ہنستا ہے اور بدکار مر کر اور زیادہ مصیبتوں میں پھنس جاتا ہے،لوگ اس سے ر احت پاجاتے ہیں وہ وہاں روتا ہے اور لوگ اس کی موت پر خوشیاں مناتے ہیں،اعلٰی حضرت رحمۃ اﷲ علیہ نے کیا خوب فرمایا۔

واسطہ محبوب کا دنیا میں جو سنی مرے                             یوں نہ فرمائیں تیرے شاہد کہ وہ فاجر گیا

عرش پر دھومیں مچیں وہ بندہ صالح ملا                          فرش پر ماتم اُٹھے وہ طیب و طاہر گیا

2484 -[3]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:«اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى».رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ کہا کرتے تھے الٰہی میں تجھ سے ہدایت،تقویٰ، پاکدامنی اور تونگری مانگتا ہو ۱؎(مسلم)

۱؎ ہدایت سے مراد اچھے عقائد ہیں،تقویٰ سے مراد اچھے اعمال،پاکدامن سے مراد برائیوں سے بچنا ہے اور تونگری سے مراد مخلوق کا محتاج نہ ہونا اﷲ رسول کا حاجتمند رہنا ہے اس میں دین و دنیا کی تمام بھلائیاں مانگ لی گئیں۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html