$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

۷؎ یعنی جو خطا مجھ سے ہوچکی ہے انہیں معاف فرماکر مجھ سے دور کردے اور آئندہ جو خطائیں مجھ سے سرزد ہوسکتی ہیں  ان سے بچالے جسے مشرق ومغرب آپس میں نہیں مل سکتے ایسے ہی  وہ خطائیں مجھ تک نہ پہنچ سکیں ایسا فضل  کردے ،لہذا خطاؤں  سےمراد واقعی و امکانی دونوں خطائیں ہیں۔

2460 -[4]

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا أَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عِلْمٍ لَا يَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَمِنْ دَعْوَةٍ لَا يُسْتَجَاب لَهَا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے زید ابن ارقم سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم یہ پڑھا کرتے تھے الٰہی میں عاجز  رہ جانے،سستی، بزدلی،کنجوسی، بڑھاپے  ۱؎ اور عذابِ قبر سے تیری پناہ لیتا ہوں ۲؎  الٰہی تو میرے نفس کو  اس کی پرہیزگاری دے اسے پاک کردے تو بہترین پاک کرنے والا ہے ۳؎ تو ہی نفس کا والی وارث ہے ۴؎ الٰہی میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے۵؎ اور اس دل سے جو عاجزی نہ کرے اور اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جس کی قبولیت نہ ہو ۶؎ (مسلم)

۱؎  عاجزی سے مراد عبادات نہ کرسکنا ہے جیسے روزہ،نماز،حج،جہاد وغیرہ اور سستی سے مراد ہے کہ قادر ہونے کے باوجود  نہ کرنا،کنجوسی سے حقوق مالیہ ادا نہ کرنا ہیں خواہ حقوق اﷲ ہوں جیسے زکوۃ ،قربانی اور حج وغیرہ یا حقوق العباد جیسے بیوی بچوں،والدین ،عزیزوں کے نان و نفقات نہ دینا۔بڑھاپے سے مراد وہ بے عقلی اور مٹ کٹ جانا ہے جو زیادتی عمر کے سبب ہوجاتی ہے۔

۲؎ کہ تو مجھے دنیا میں عذاب قبر والے اعمال سے بچا لے اور بعد موت خود اس عذاب سے محفوظ رکھ ۔خیال رہے کہ عذاب قبر کفار کو دائمی ہوتا ہے، بعض مؤمن گنہگاروں کو عارضی مگر ضغطۂ قبر یعنی تنگی وہ کبھی صالحین کو بھی ہوجاتی ہے اس لیے یہاں عذاب فرمایا تنگی کا ذکر نہ کیا۔

۳؎ عربی میں ظاہری پاکی کو طہارت اور باطنی پاکی کو تزکیہ کہتے ہیں اسی لئے مذبوح جانور کو مزکّٰی کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتاہے:"قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی"تقویٰ سے مراد فسق و فجور کا مقابل ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"فَاَلْہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَ تَقْوٰىہَا"۔خیال رہے کہ کسب طہارت بندے کا  کام ہے اور خلق طہارت رب کا کرم جیسے بیج  بو دینا بندے کا  کا م ہے پیدوار  رب کا فضل یعنے ہمارے کسب سے تیرا کرم افضل و اکمل ہے۔

۴؎ یعنی میرے نفس کو تقویٰ دےکیونکہ تو اس کا ولی ہے اور اسے پاک کردےکیونکہ تو اس کا وارث ہے،دو نعمتوں کے لیے دو صفت الہیہ کا ذکر ہوا۔

۵؎ غیر نافع علم سے مراد یا تو دنیاوی علوم ہیں جن سے دین میں کوئی نفع نہ ہو جیسے سائنس،ریاضی،منطق،فلسفہ جن سے دین کی خدمت نہ لی جائے یا وہ علم دین ہیں جو دنیا طلبی کے لیے سیکھے جائیں یا جن پر عالم خود عمل نہ کرے دوسروں کو سکھائے نہیں یا اس سے نقصان دہِ علوم مراد ہیں جیسے جادو  وغیرہ کے علوم جن سے فساد پھیلایا جائے۔

۶؎ جس دل میں اﷲ کے ذکر سے چین،عذاب کے ذکر سے خوف،جنت کے ذکر سے شوق،حضور علیہ السلام کے ذکر سے وجدان نہ پیدا ہو وہ سخت ہے اﷲ اس سے بچائے اور جس نفس میں قناعت و سیری نہ ہوں ایسے حریص نفس سے خدا کی پناہ۔خیال رہے کہ تین نعمتیں کسی کسی کو  ملتی ہیں: کفایت،قناعت،ریاضت جسے یہ تین نعمتیں مل گئیں وہ بادشاہوں سے زیادہ خوش نصیب ہے،اس جملہ میں تینوں نعمتیں مانگ لی گئی ہیں۔

2461 -[5]

وَعَن عبد بنِ عمرَ قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ سوسلم: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ وَجَمِيعِ سَخَطِكَ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمر سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کی دعاؤں سے یہ تھی الٰہی میں تیری پناہ لیتا ہوں تیری نعمت کے زائل ہوجانے سے اور تیری عافیت کے منقلب ہوجانے سے  ۱؎ اور تیرے اچانک عتاب سے اور تیری تمام ناراضگیوں سے ۲؎ (مسلم)

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html