$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 4

فرماتے ہیں کہ  معمولی نیکی کو بھی ہلکا نہ جانو،کبھی ایک گھونٹ پانی جان بچالیتاہے  اور معمولی گناہ کر نہ لو کہ کبھی چھوٹی چنگاری گھر جلادیتی ہے۔ خیال رہے کہ یہاں شہادت سے مراد حکمی شہات ہے۔

3077 -[8]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ أَوْصَى أَنْ يُعْتَقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ فَأَعْتَقَ ابْنُهُ هِشَامٌ خَمْسِينَ رَقَبَةً فَأَرَادَ ابْنُهُ عَمْرٌو أَنْ يُعْتِقَ عَنهُ الْخمسين الْبَاقِيَة فَقَالَ: حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَوْصَى أَنْ يُعْتَقَ عَنْهُ مِائَةُ رَقَبَةٍ وَإِنَّ هِشَامًا أَعْتَقَ عَنْهُ خَمْسِينَ وَبَقِيَتْ عَلَيْهِ خَمْسُونَ رَقَبَةً أَفَأَعْتِقُ عَنْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّه لَو كَانَ مُسلما فأعتقتم عَنْهُ أَوْ تَصَدَّقْتَمْ عَنْهُ أَوْ حَجَجْتَمْ عَنْهُ بلغه ذَلِك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت عمرو ابن شعیب سے وہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے راوی کہ عاص ابن وائل نے وصیت کی تھی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کردیئے جائیں ۱؎ تو اس کے بیٹے ہشام نے پچاس غلام آزاد کردیئے۲؎ پھر اس کے بیٹے عمرو نے چاہا کہ باقی پچاس اس کی طرف سے وہ آزاد کردیں۳؎  بولے میں تو آزاد نہ کروں گا تا آنکہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھ لوں۴؎ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم میرے باپ نے وصیت کی تھی کہ اس کی طرف سے سو غلام آزاد کردیئے جائیں اور ہشام نے اس کی طرف سے پچاس آزاد کردیئے ہیں اور اس پر پچاس غلام باقی ہیں تو کیا اس کی طرف سے میں آزاد کردوں۵؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر وہ مسلمان ہوتا پھر تم اسکی طرف سے آزاد کرتے اس کی طرف سے خیرات یا حج کرتے یہ سب کچھ اسے پہنچ جاتا ۶؎(ابوداؤد)

۱؎  پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ عمرو ابن شعیب کے دادا عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص ہیں،وہ خود اپنا واقعہ بیان کررہے ہیں کہ میرے باپ عاص ابن وائل نے مرتے وقت سو غلام لونڈیاں آزاد کرنے کی وصیت کی تھی،عاص ابن وائل قرشی سہمی ہے،حضور انور کا زمانہ پایا مگر اسلام نہ لایا،اس کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"اِنَّ شَانِئَکَ ہُوَ الْاَبْتَرُ"آپ کا بدگو ابتر یعنی بے اولادا ہے کہ اﷲ نے اس کی اولاد کو اسلام کی توفیق دے کر اسے حکمًا لاولد کردیا،اس کی ساری اولاد ایمان لے آئی ۔

۲؎  ہشام قدیم الاسلام صحابی ہیں،پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تھے پھر حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی خبر سن کر مکہ معظمہ یہ پتہ کرنے آئے کہ حضور نے ہجرت کہاں کی ہے باپ نے پکڑ لیا،پھر غزوہ خندق کے بعد مدینہ منورہ پہنچے، بڑے فقیہ عالم تھے    ۱۳ھ؁  میں غزوہ یرموک میں شہید ہوئے۔(مرقات)انہوں نے حضور انور سے بغیر پوچھے پچاس غلام آزاد کردیئے یہ سمجھ کر کہ اسلام والدین کے ساتھ احسان کرنے سے منع نہیں فرماتا۔

۳؎ حضرت ابن عمرو ابن عاص اپنے بھائی ہشام سے عمر میں بڑے ہیں،آپ      ۵ھ؁  یا      ۸ھ ؁ میں حضرت خالد ابن ولید اور عثمان ابن طلحہ کے ساتھ ایمان لائے،حضور انور نے آپ کو تمان کا حاکم بنایا،پھر حضرت عمر کے زمانہ میں آپ نے ہی مصر فتح کیا،حضرت عمرعثمان، معاویہ کے زمانہ میں عامل رہے امیر معاویہ نے آپ کو اپنے زمانہ میں مصر میں جاگیربخشی،آپ وہاں ہی رہے،  ۴۳ھ؁  میں ننانوے سال کی عمر میں مصر ہی میں وفات پائی،پھر ان کے بیٹے عبداللہ ابن عمرو مصر کے حاکم رہے جنہیں بعد میں امیر معاویہ نے معزول کردیا۔

 



Total Pages: 445

Go To
$footer_html